اماوس۔۔مختار پارس

دیدہِ تر میں پورے چاند کو لرزتا کس نے دیکھا ہے؟ اس سے زیادہ اداس کردینے والی کیفیت کیا ہو گی کہ انسان کو خود سے شرم آنے لگ جاۓ۔ انسان شرمندہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ خود کو کسی اور کے درد کا مجرم سمجھتا ہے۔ جب تک درد بیان نہیں ہوتا، وہ درماں ہے۔ دکھ کا اظہار دل کے دروازے ایسے ڈھونڈتا ہے جیسے گداگر،جہاں سے خیرات ملنے کی امید نہ ہو وہاں بھی جا کر بیٹھ جاتا ہے۔ راہ چلتے اجنبی کوئی ایسی بات کر دیتے ہیں کہ دھڑکنیں معدوم ہو جاتی ہیں اور آنکھیں سوکھ جاتی ہیں۔ کبھی کوئی محبت کو جگا کر دکھ دیتا ہے اور کبھی کوئی جاگی ہوئی محبت کی نسیں کاٹ کر مار دیتا ہے۔ ہمیں یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ ہزار آنکھیں ہر وقت ہم سے ہزار طرح سے متمکن رہتی ہیں جبکہ ہم انہیں دیکھ بھی نہیں پاتے۔ اپنے نابینا ہونے کا سبب روز ہزار لوگوں کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ انسان کچھ بھی سوچ لے، کچھ بھی کرنے کا ارادہ کر لے، کچھ بھی کہہ ڈالے، اس کی زمین سے دکھ کے پھول ضرور پھوٹتے ہیں۔

دکھ بھی رب کی عطا ہیں۔ آسمان مہربان ہیں،انہوں نے انسان کو اس دکھ سے نبٹنے کے ہنر میں اپنا ہمسر بنا ڈالا۔ آسمانوں نے بھی بہت دکھ اٹھاۓ ہیں، ہم سے ایک ابتداۓ آفرینش کا دکھ نہیں سنبھالا جاتا، انہیں تو ہر روز نجانے کتنے سورج طلوع ہوتے ہوۓ اور نہ جانے کتنے چاند ماند پڑتے ہوۓ دیکھنا ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ پیدا کرنے والے نے جو دکھ بانٹے ہیں، انہیں سمجھا جاۓ۔ شفق کے عارض پر سرخی پھیل جاۓ یا شام پہلو بدلتی رہے، اندھیروں نے اسے غرقاب کرنا ہے۔ کسی محبت کو دوام حاصل نہیں۔ فقط ایک شناسا ہے جو کبھی منہ نہیں موڑتا،وہ دکھ دیتا ہے مگر اس استطاعت کے ساتھ کہ رنج و الم، حسنِ حیات پر آنچ بھی نہیں آنے دیتے۔ درد دینے والے سے محبت ہو جاۓ تو پھر کس کو شکایت ہو گی؟ دوام اس محبت کو بھی حاصل نہیں کیونکہ حاصلِ زیست غمِ عشق کے سوا کچھ بھی نہیں۔

وصل کے لمحات وجدان تو دے سکتے ہیں، وصف نہیں۔ محبوب بازوؤں میں ہو تو پھر کچھ اور نظر نہیں آتا۔ محبت خدا سے ہو تو بھی یہی حال ہوتا ہے۔ کسے مجال   کہ کہیں اور آنکھ بھی اٹھا سکے۔ نظر آنا تب شروع ہوتا ہے جب محبوب نظر آنا بند ہو جاتا ہے۔ تلاش شروع ہوتی ہے تو حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ خدا سے محبت بھی تب شروع ہوتی ہے جب وہ نظر نہیں آتا۔ کرنیں روز روح کو گدگدا کر لوٹ جاتی ہیں اور اندھیرے ہر رات سرگوشیاں کرتے ہیں مگر ہمیں یہ پیغام سمجھ ہی نہیں آتا۔ غنچہ ہاۓ دل کھل ہی نہیں پاتے اور ستارے چمک چمک کر کچھ بتاتے ہیں۔ ہم خدا کا شکر بجا  لا کر سمجھتے ہیں کہ یہ فطرت کا حسن ہے اور لب و رخسار سے لپٹ کر سو جاتے ہیں۔ پھر کچھ دن ایسے آتے ہیں جب سورج نہیں نکلتا، جب کلیاں نہیں کھلتیں، جب تارے نہیں چمکتے۔ فراق، اماوس کی وہ رات ہے جب چاند نہیں نکلتا اور چاند سے چاہت ہو جاتی ہے۔

یہ ناموجود اماوس ساری محبتوں کی بنیاد ہے۔ دکھ آسمانوں سے اترتے ہیں مگر ترتیبِ سخن یہ ہے کہ زمین پر ظلم کو روکنے کےلیے آسمان سے کچھ نہیں اترتا۔ ایک ساعتِ غیب ہے جو عالمِ نیست میں اس کام کو کرنے پر مامور ہے۔ایک دن ایساآتا ہے جب پھول سوکھ جاتے ہیں مگر ٹہنی پر پھل کو دے جاتے ہیں۔ آنکھیں جھکا کر جواب دینے سے پہلے کی خاموشی کا لمحہ اماوس ہے۔ طوفانوں کی آمد سے پہلے کا سکوت بھی اماوس ہے۔ دروازے پر دستک کے انتظار کو میں اور کیا نام دوں! امید، شبِ ہجراں ہے اور شبِ ہجراں کچھ بھی نہیں۔ زندگی بذاتِ خود ایک وسوسہ ہے اور واہموں میں سرگرداں لوگوں کے پاس اخترشماری کے علاوہ کوئی آس بھی نہیں۔ لوگ پتھردل نگینوں کو انگشتریوں میں چڑھا کر آبگینے بنا لیتے ہیں۔ چشمے کا پانی قطرہ قطرہ گرتے گرتے مرمر کو چٹخا کر رکھ دیتا ہے۔ قطرے کا بہتے پانی سے جدا ہو کر چٹان پر گرنے تک کا سفر اماوس ہے۔

ہر اماوس کے بعد ایک اور سازش منتظر رہتی ہے، زندگی کو پھر سے سرگرداں کرنے کی سازش۔ ہرعنصر اس سازش میں شریک ہے۔ دل کا کام آس پیدا کرنا ہے اور نگاہ کا کام تلاش کرنا۔آنکھ کو نہیں معلوم کہ وہ کسے دیکھتی ہے۔ یہ بات اسے دل بتاتا ہے جو بے سبب نہیں دھڑکتا۔ ذہن حدود سے تجاوز نہیں کرنے دیتا اور روح تڑپ کو مرنے نہیں دیتی۔ ایک اندھیری رات کے وقفے کے بعد چاند کھجور کی پرانی شاخ کی طرح آسمان پر پھر نمودار ہوتا ہے اور سارے خس و خاشاک بھی، گل و گلزار بننے کی خواہش میں نمودار ہو جاتے ہیں۔ موت کسی بھی خواہش کو ناپید کرنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ اماوس کی رات یہ جانچنے کےلیے آتی ہے کہ آتشِ یاس کے ختم ہونے کے بعد تک کون کون باقی ہے۔ رات گزر جاتی ہے مگر رات کو گزارنے والے نہیں گزرتے۔

چاند کے بغیر آسمان پر کون چمک سکتا ہے، یہ دیکھنا ضروری ہے۔ یہ ہرگز لازم نہیں کہ رات میں روشنی ہو گی تو رستہ نظر آۓ گا۔ خدا کی مخلوق رستے ڈھونڈنے پر قادر ہے۔ زندگی، زندگی سے سانس لیتی ہے،موت، موت کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اینکساگورس کو لوگوں نے چاند کی خدائی نہ ماننے کے جرم میں مار دیا۔ وہ کہتا تھا کہ یہ خدا نہیں پتھر ہیں۔ تمہارے سارے خدا پتھر کے ہیں جن کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہے۔یہ چاندنی میرے اندر سے پھوٹتی روشنی ہے جسے تم پوجتے ہو۔ مگر اس کی کسی نے نہ سنی۔ لہریں اچھل اچھل کر چاند کو چومنے کی کوشش میں آج بھی ہلکان ہو رہی ہیں۔ چکور آج بھی پورے چاند کو دیکھ کر چیختا ہے۔ اور جو خداؤں کو ماننے سے انکار کرتا ہے، اسے اماوس کے اندھیروں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ مگر اگلی رات وہ نیا چاند بن کر پھر نکل آتا ہے۔

Avatar
مختار پارس
مقرر، محقق اور مصنف، مختار پارس کا تعلق صوفیاء کی سر زمین ملتان سے ھے۔ ایک عرصہ تک انگریزی ادب کے استاد رھے۔ چند سال پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک کرنٹ افیئرز کے پروگرام کی میزبانی بھی کی ۔ اردو ادب میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے متعارف ھوئے ۔ان کی دو کتابیں 'مختار نامہ' اور 'زمین زاد کی واپسی' شائع ہو چکی ھیں۔ ادب میں ان کو ڈاکٹر وزیر آغا، مختار مسعود اور اشفاق احمد جیسی شخصیات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ٹوئٹر پر ان سے ملاقات MukhtarParas@ پر ھو سکتی ھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *