ہم یومِ آزادی کیوں نہ منائیں، ہم زندہ قوم ہیں ۔۔۔گل ساج

وَاَمَّابِنَعمَۃِ رَبِّکَ فَحَدّث”اور اپنے رب کی نعمت کاخوب چرچاکرو ”

ایک مقام پر یوں ارشاد ہوتاہے
“آپ فرمادیجئے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر( مسلمان کوچاہیے کہ) خوشیاں منائیں”(سورہ یونس)

ایک اور جگہ فرمایا “واشکرولی ولاتکفرون ”
“اور میرا شکر کرو اور ناشکری مت کرو”

یقینا ً آزادی بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور یہ اس پاک ذات کا ہم پر بہت بڑا فضل ہے کہ اُس نے ہمیں یہ سر زمین پاکستان عطاء فرمائی اور آزاد ملک کا شہری بنایا ،ہم اس پر اللہ کا شُکر بجالاتے ہیں اور اس خوشی کو شایانِ شان طریقے سے منانے میں کوئی مانع نہیں بلکہ یہ زندہ قوموں کا شُعار ہے

گزشتہ شب مولانا فضل الرحمٰن کے مُتنازعہ بیان کہ
” ہم یوم آزادی نہیں منائیں گے بلکہ 14 اگست کو جدوجہد آزادی شروع کریں گے”کے پسِ منظر میں فقیر نے استہفامیہ سٹیس دیا جسکے پسِ پردہ وہ مقاصد نہیں تھے جو بعض احباب نے محسوس کیے۔کسی پہ طنز ہو ،کسی کی دل آزاری ہو یا کسی قسم کی شرارت مقصود ہو، ایسا با لکل نہیں تھا۔
سمجھ لیجئے  کہ ایک طرح سے ٹیسٹ تھا رائے عامہ جاننے کا
رنگ ڈھنگ، طریقہ اور ایک طرح سے پول تھا احباب سے فیڈبیک مطمعِ نظر تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان نے میڈیا پہ بحث چھیڑ دی ہے اسے اعلانِ بغاوت سے تعبیر کیا جا رہا  ہے تو کہیں پاکستانیت سے انحراف، تو کہیں کروڑوں پاکستانیوں کے جذبہء آزادی کی توہین قرار دیا جا رہا ہے غرض ایک واویلا مچا ہوا ہے۔

اس بیان کو لے کر مولانا صاحب تنہا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو اور دوسری کئی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے انکے بیان کی مذمت کی اور اسے مسترد کر دیا ہے۔

یہانتک کہ اس بیان کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف پہ بغاوت کا مقدمہ بھی دائر کر دیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پہ بھی اس بیان کی بازگشت تواتر سے سنائی دے رہی ہے۔

فیسبک کی معروف شخصیت قاری حنیف ڈار نے اس موضوع پہ مفصل مضمون باندھا جسمیں خوفناک قسم کا سیناریو پیش کیا گیا۔انکے مضمون کا لبِ لُباب یہ تھا کہ پی ٹی ایم کے باغی عناصر ، فاٹا کے ناراض نوجوان ، پختون بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں اور خاص طور پہ دیوبندی مکتبِ فکر جو خیبر سے کراچی تک پھیلا ہوا ہے مولانا کی چھتری تلے اکٹھے ہوسکتے ہیں، اسطرح پاکستان میں فوج کو مقبوضہ کشمیر جیسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔

انکا  زیادہ زور مسلک دیوبند پہ تھا۔ قاری صاحب کے مطابق پاکستان میں مولانا فضل الرحمان دیوبند کے سربراہ کے طور پہ جانے جاتے ہیں دیوبند سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مدارس کے لاکھوں طلباء مولانا کی آواز پہ لبیک کہیں گے۔

یہ منظر نامہ پریشان کن تھا ،خاص کر اس تناظُر میں کہ مولانا خود بھی دیوبند کے قائد ہونے کا دعوی کرتے ہیں انکی سربراہی میں پاکستان میں دیوبند مکتبہ کی کئی کانفرسیں اور صد سالہ جشن پروگرام بھی منعقد کیا جا چکا ہے۔

دوسری طرف یہ حقیقت محل نظر رہے کہ تحریک پاکستان میں بیشتر دیوبند علماء کرام اور کئی معتبر اکابرین نے قیامِ پاکستان کی بوجوہ مخالفت کی تھی۔وہیں دیوبند مکتب فکر سے ہی مولانا اشرف علی تھانوی نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے قیام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار اور اپنی حمایت بہم فراہم کی تھی۔

دیوبند سے ہی بالخصوص مولانا شبیر احمد عثمانی ،مولانا ظفر احمد عثمانی کی قیادت میں ایک بڑی تعداد میں علماء کرام نے قیام پاکستان کی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔
اسی عثمانی خانوادے سے مفتی رفیع عثمانی و مفتی شفیع عثمانی نے پاکستان کے اسوقت کے دارالحکومت کراچی میں دینی علوم کی عظیم الشان “جامعہ دارلعلوم ” کے نام سے درسگاہ قائم کی۔
اسی خاندان کے چشم و چراغ معروف عالمِ دین مولانا تقی عثمانی عالمی اسلامی فقہ بورڈ واقع سعودی عرب کے نائب ناظم بھی ہیں۔اس  لیے  یہ کہنا کہ دیوبند علماء قیامِ پاکستان کے مخالف تھے درست نہیں۔۔۔

بعد ازاں وہ علماء کرام جو پاکستان کے قیام کو برصغیرکے مسلمانوں کی طاقت کو تقسیم ہونا گردانتے تھے انہوں نے بھی بادل ناخواستہ پاکستان کے قیام کو قبول کر لیا اور مملکتِ خداداد کی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ عوام نے بھی ماضی کی فروگزاشتیں فراموش کر کے انہیں بھرپور پذیرائی بخشی۔
گرچہ دیوبندی علماء نے پاکستان میں مذہبی و دینی میدان میں گرانقدر خدمات سر انجام دیں مگر نامعلوم وجوہات کے زیرِ اثر پاکستان کے قومی و مِلی دِن خاص کر یومِ آذادی پہ دیوبندی جامعات و مدارس استثنی” دارالعلوم ” کے اکثر معاندانہ رویہ اپنائے رہے۔

اسکے برعکس انڈیا میں دارلعلوم دیوبند میں ہندوستان کا قومی دن خاص تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے تمام مدارس میں انڈین پرچم ترنگا لہرانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان میں بھی خوشگوار رحجان دیکھنے میں آیا ہےکہ سرکردہ جامعات و مدارس میں قومی ایام خاص طور پر یومِ آزادی منانے کا بھرپور اہتمام کیا جا رہا ہے اس دِن کے حوالے سےخصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں ان بڑی جامعات کے میڈیا ہاوسز خصوصی پروگرام ترتیب دیتے ہیں اس موقع پہ مِلی ترانے بھی ریلیز کرتے ہیں جو عوام و خواص میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔

اس طرح وہ مذہبی طبقہ جو قیامِ پاکستان کا مخالف اور قائد اعظم سے بیزاری کا اظہار کرتا تھا قومی دھارے میں شامل ہو رہا ہے عوام میں اور مدارس کے مُہتمم حضرات اورطلباء میں پاکستان کی بے پایاں محبت کا اظہار یکساں طور پہ دکھائی دیتا ہے۔ایسے میں مولانا فضل الرحمٰن کا یہ بیان کہ
” ہم یومِ آزادی نہیں منائیں گے” آیا اس خوش کُن منظر کو دُھندلا سکتا ہے اس جذبے کے ماند پڑنے کا سبب بن سکتا ہے اس پہ اثر انداز ہو سکتا ہے کہ نہیں؟۔۔۔

آیا دیوبند مسلک سے تعلق رکھنے والے عوام و خواص مولانا کے بیان کو کس طرح سے لیں گے؟
یہ تھا وہ سوال جو احقر نے اٹھایا تھا۔۔۔۔

الحمداللہ اس سٹیٹس سے یہ فیڈ بیک ملا کہ پاکستان سے محبت میں مذہبی طبقہ دینی مدارس بشمول دیوبندی چھوٹے بڑے مدارس و جامعات کے اساتذہ و طلباء کسی سے پیچھے نہیں۔
جامعتہ الرشید، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون، جامعہ حقانیہ ،جامعہ امدادیہ ،اشرف المدارس اور دوسرے تمام مکتبہ فکر سے متعلق مدارس حسبِ معمول یومِ آزادی بڑھ چڑھ کر جوش و خروش پورے ولولے کے ساتھ منائیں گے۔

مولانا فضل الرحمن کا احترام اپنی جگہ مسّلم مگر انکے اس مطالبے پہ کان نہیں دھریں گے سننے میں آیا ہے کہ جامعتہ الرشید نے یومِ آزادی پہ خصوصی ترانہ جاری بھی کر دیا ہے
“حب الوطنی کسی کی میراث نہیں”۔۔
ہر پاکستانی اس جذبے سے سرشار و ہمکنار ہے

پسِ نوشت :
مولانا فضل الرحمان نہایت تحمل مزاج بردبار ،ٹھہرے مزاج کے مصلحت خیز سیاستدان ہیں جنہوں نے ہمیشہ جمہوری روایات و اقدار اور طرزِ سیاست کو اپنائے رکھا
انکی امن پسندی جمہوری جدوجہد سے عبارت سیاست نے مدارس کی بڑی تعداد کو تشدد پسندی کے سرطان سے محفوظ رکھا ہے۔
انکی حب الوطنی ،پاکستان سے وابستگی ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے وہ انتخابات میں چند نشستوں کی شکست سے اپنی ساکھ متاثر نہیں ہونے دیں گے اور ریاست کے خلاف انتہائی قدم سے گریز کریں گے۔
مجھے پورا یقین ہے وہ اپنے اس بیان کی مناسب توجیہہ پیش کریں گے اور مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ کی طرح پارلیمانی راستہ اختیار کریں گے۔

گل ساج
گل ساج
محمد ساجد قلمی نام "گل ساج" مظفر گڑھ جنوبی پنجاب ۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *