کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں ۔۔۔۔عامر عثمان عادل

اربابِ  اختیار اس قدر بے رحم واقع ہوئے ہیں کہ پرائے کیا اپنے بھی بیگانے بن جاتے ہیں بڑے دل گردے کا کام ہوتا ہے اقتدار میں کسی کو شراکت دینا ،ساجھے دار بنانا۔۔۔۔
تاریخ عالم کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو جا بجا ایسے واقعات پڑھنے کو ملیں گے جو اپنے اندر عبرت کا سامان لئے  ہوئے ہیں ،ہوس اقتدار میں مبتلا باپ نے سگی اولاد کو قتل کروا ڈالا تو کہیں تخت و تاج کی لڑائی  میں بیٹے نے والد کو زنجیروں میں جکڑ کر زنداں میں پھینک دیا۔

ابھی کل کی بات تھی یہ اقتدار میاں نواز شریف کے گھر کی باندی تھا اور چھوٹے بڑے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ہر حد سے گزر جانے کو تیار، قائد تیرے جانثار بے شمار بے شمار کے فلک شگاف نعرے لہو کو گرماتے تو میاں صاحب کا سیروں خون بڑھتا ہو گا کہ میرے کارکنوں کی دیوانگی و وارفتگی کا یہ عالم ہے لیکن ہر بار کی طرح یہ بھی ان کی بھول ہی تھی۔
عام پارٹی ورکر ہو یا پانچ برس تک اقتدار کے مزے لوٹنے والے وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج بڑے میاں پر مشکل گھڑی آئی  تو ان میں سے کتنے تھے جو ڈٹ کر اپنے لیڈر سے اظہار یک جہتی کی خاطر کھڑے رہے۔۔۔

ارے صاحب ان سے کیا گلہ یہ تو تیسری جگہ تھے، بھائی  پر جان چھڑکنے والے چھوٹے میاں نے 13 جولائی  کو جس انداز سے لالہ جی کے اعتماد اور توقعات کا خون کیا وہ تاریخ میں رقم ہو چکا۔ اب آپ لاکھ تاویلیں پیش کریں ،عذر تراشیں، دلائل کے انبار لگا دیں، ایک بات تو عیاں ہو کے رہی کہ اب ہر کسی کو اپنی اپنی سیاست بچانے کی پڑی ہے ،ایسے میں کون ہو گا جو اس ڈوبتی کشتی کا مسافر بنے

روزنامہ جنگ کے ایک سینئر قلمکار اگلے روز اڈیالہ جیل میں میاں نواز شریف سے ملاقات کیلئے گئے واپسی پر جہاں وہ اس ملاقات کا احوال بیان کرتے ہیں وہیں دلچسپ پیرائے میں اقتدار اور اختیار کے اس کھیل کی خبر بھی دیتے ہیں بقول انکے الیکشن 2018 کے نتائج سامنے آنے کے بعد ملکی سیاست کا منظر نامہ یکسر تبدیل ہوتا دکھائی  دیا۔ تو یہ طے تھا کہ اب صدر مملکت اور چاروں صوبوں کے گورنرز بھی تبدیل کر دیے جائیں گے ،وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر جو میاں صاحب کے ایک بہت بڑے جیالے ہیں انکی تجویز میاں صاحب کو بہت بھائی  کہ صدر ممنون حسین اور چاروں صوبوں کے گورنرز فوری طور پر مستعفی ہو جائیں گے جو گویا ایک طرح سے اپنے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ وفاداری کا اظہار ہو گا لیکن پیغامبر جب یہ پیام لئے صدر مملکت کے پاس پہنچا تو انکا جواب تھا کہ میں تو ستمبر میں اپنے عہدے کی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد سبکدوش ہو جاؤں گا ،اور مجھے ایک غیر ملکی یونیورسٹی اگست کے اواخر میں بطور صدر اعزازی ڈگری سے نوازنے جا رہی ہے تو میں اس سے کیوں محروم رہوں اور پھر رفیق تارڑ بھی تو مشرف کے آ جانے کے بعد دو سال تک قصر صدارت پر فائز رہے تھے۔ واقفان حال بتلاتے ہیں کہ اسی طرح کے دلائل گورنر پنجاب رفیق رجوانہ اور گورنر کے پی کے اقبال ظفر جھگڑا نے پیش کئے اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے ان بتوں کے یہ جواب سن کر میاں صاحب کے دل پر جو گذری وہ قابل دید تھی۔

یہی تو دستور ہے اس دنیا کا جب تلک آپ کی ذات دوسروں کی خاطر باعث منفعت ہے لوگ آپ کے تلوے بھی چاٹتے دکھائی  دیں گے لیکن جس لمحے انہیں یہ بھنک پڑ جائے کہ آپ سے اقتدار کی دیوی روٹھ چکی ہے تو یہ موقع پرست کسی اور بت کدے کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔۔کاش میاں صاحب آپ اس حقیقت کو پا لیتے تو یوں تیسری بار اس انجام کو نہ پہنچتے۔
ہواؤں کا رخ دیکھ کر وفاداریاں تبدیل کر لینے والے بڑے سیانے ہیں، یہ کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے یہ تو ان پرندوں کی مانند ہیں جو تالاب کے سوکھ جانے پر قطار باندھے نئئ جھیلوں کی تلاش میں پرواز کرتے دکھائی  دیتے ہیں۔

نازو نعم میں پلی آسائشوں کی عادی مریم نواز شاندار کیرئیر سے آغاز کے بعد اونچے ایوانوں تک پہنچنے والا کیپٹن صفدر اور تین بار مملکت خداداد کی وزارت عظمی پر فائز رہنے والے میاں نواز شریف سوچتے تو ہوں گے کہ ہم جن پہ آس لگائے بیٹھے تھے وہ تو اپنی سیاست بچانے کی تگ و دو میں ہیں۔۔اڈیالہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں کسی اداس شام کے ڈھلتے سائے ان تینوں کو یہ پیغام ضرور دیتے ہوں گے۔۔۔
بجھ گئی شمع تو پروانے بھی وفا بھول گئے
کون آتا ہے کسی سوختہ ساماں کے قریب !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *