• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کو اب کیا کرنا چاہیے۔۔۔محمد عباس شاد

حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کو اب کیا کرنا چاہیے۔۔۔محمد عباس شاد

دنیا میں ہمیشہ دو طرح کے کام اور دو طرح کے ہی نتائج ہوتے ہیں ایک عارضی اور ڈنگ ٹپاؤو کام جس کا نتیجہ بھی عارضی اور وقتی ہوتا ہے اور ایک کام مستقل، پائیداراوراس کا نتیجہ بھی مکمل اور پائیدار ہوتا ہے لیکن مؤخر الذکر کام بہت مشکل اور کٹھن ہوتا ہے جو ریاضت اور کشٹ مانگتا ہے. آج کل حالیہ الیکشن کے نتائج کے تناظر میں جب بعض دینی جماعتوں خصوصاً جمعیت علما اسلام کے کام کے طریقہ کار اور نتائج کو زیر بحث لایا گیا تو ہمارے دوست کہتے ہیں کہ محض تنقید نہیں ہمیں بتایا جائے کہ پھر ہماری قیادت کیا کرے تو اس تناظر میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں اگر عمل کرسکیں تو نتائج کے ڈھیر لگ جائیں گے اوراگر مشکل لگے تو دوست گالیاں نکالنے اور اسمبلی میں قراردادیں پاس کروانے کی تعداد بتانے کے بجائے گہرا غوروفکر ضرورکریں اور گزشتہ کارکردگی کو خود ہی تنقید کی سان پر چڑھائیں اور دھیما دھیما سوچیں .

مولانا فضل الرحمن صاحب اگر چاہتے ہیں کہ وہ پاکستانی سیاست میں اپنے بل بوتے پر طاقت وراور ناقابل تسخیر ہوجائیں اور انہیں سیاست دانوں کے دروازوں کی خاک نہ چھاننی پڑے تو وہ اپنی جماعت اور ورکر کو کامیاب اور باشعور بنائیں اور اس کے لیے انہیں بعض سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے.

مثلاً مولانا اپنے پورے خاندان کو سیاست سے مائنس کردیں اور اعلان کریں کہ آج کے بعد میرا کوئی بھائی، بیٹا،رشتہ دار مخصوص نشستوں سمیت کسی بھی سیٹ کے لیے امیدوار نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ کسی اہم جماعتی عہدے پر ہوں گے تاکہ جمعیت جیسی دینی جماعت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے موروثیت کی جڑ کاٹ دی جائے .البتہ جماعت میں مولانا کے رشتے دار اور بھائی بغیر کسی عہدے کے تربیت اور قربانی کے لیے کسی بھی کام کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے رہیں تاکہ مولانا کے گھرانے سے قربانی کی ایک زندہ مثال کارکنوں کے سامنے رہے اور ان کے حوصلے جوان رہیں. اور مولانا ہر قسم کی سرکاری اورخصوصی مراعات لینے سے انکار کردیں. وہ انتہائی سادہ زندگی بسر کرنا شروع کردیں زندگی کی کوئی لگژری پاس نہ رکھیں حتی کہ ایک سادہ اور سمپل گھر کی ضروریات کے لیے Mehran/Alto گاڑی رکھیں. جماعتی دوروں کے لیے عام ٹرانسپورٹ استعمال کریں یا جماعت سے خوشحال متعلقین اپنی گاڑی پردورہ جات کروائیں.

اسی طرح اپنے گھر میں حضرت مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کے دور کی سادگی لے آئیں. آنے والے مہمانوں کو سادہ چائے اور دال روٹی پیش کریں.

پارٹی میں مکمل جمہوریت لائیں ہر سال صوبے سے نچلی سطح تک کے نظم میں آزادانہ الیکشن کروائیں جس پر کوئی قوت اثر انداز نہ ہو جس طرح ان کی پارٹی پاکستان میں جمہوریت کا مطالبہ رکھتی ہے بعینہ وہی جمہوریت وہ پارٹی میں لاکر ایک نمونہ قائم کریں پھر اس نمونے کی بنیاد پر پاکستان میں جمہوریت کا پر زور مطالبہ عوام کے سامنے رکھیں.

وہ بذات خود جمعیت میں کوئی عہدہ نہ رکھیں اور جماعت کا امیر یا سربراہ اپنے خاندان سے باہر کوئی محنتی اور مخلص ورکر ہو جسے سابقہ قربانیوں کی تاریخ سامنے رکھ کر بذریعہ الیکشن جمعیت کے عوام سے منتخب کروایا جائے اورمولانا خود رہبرکے منصب پر فائز ہوکر صرف اور صرف تعلیم وتربیت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں اور اس کام کے لیے اپنے آرام وراحت کو تج دیں. اب مولانا کو سیاسی دھینگا مشتی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے مستقبل کے حوالے سے نتیجہ خیز پالیسیاں بنوانے میں اپنا قیمتی وقت صرف کرنا چاہیے بوڑھے اور ناکارہ سیاست دانوں کے ساتھ اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی نوجوان قیادت کو وقت دیں اور ان کی تربیت پر ہی وقت صرف کریں. پڑھے لکھے با صلاحیت نوجوان طبقے کو آگے لائیں. سرمایہ داروں، سازشی ملاؤں کو پرانے ورکرز پر ترجیح نہ دیں. پنجاب اور سندھ میں تنظیم سازی پرخصوصی توجہ دیں. جماعت کو مذہبی سے زیادہ ایک قومی پارٹی کا تشخص دلائیں.

ہر حکومت میں شمولیت کی کھڑکی بنانے کے بجائے جماعت کی طاقت پر توجہ دیں. حکومتیں گرانے اور پولیٹیکل نمبر آف گیم کے چکر سے اپنے آپ کو نکالیں، حکومتوں کو گرانے اور پٹخنے کے اتحادوں کی سیاست ترک کردیں وہ اپنے آپ اور دیگر سیاسی جماعتوں میں فرق کو سمجھیں ان کی حیثیت دین کے ایک داعی کی بھی ھے لہذا انہیں اپنے مستقبل کے لائحہ عمل پر یاد توجہ دینی چاہیے . نیز وہ کسی بھی کرپٹ اور سرمایہ دار سیاست دان کی جمہوریت اور نظام بچانے کے نام پر حمایت ترک کردیں بلا امتیاز ہر کرپٹ جماعت، سیاست دان اور حکومت کے خلاف دو ٹوک جارحانہ سخت موقف رکھیں اور اسی بنیاد پر قومی اخبارات میں بیانات دیں .

اپنے مذہبی حلقے سے عسکریت کا مکمل خاتمہ کریں اور ایسے عناصر کی قطعاً اور کہیں بھی حمایت نہ کی جائے بلکہ ایسے عناصر کو ریاست کے سپرد کرنے میں اداروں کے ساتھ تعاون کا رویہ اپنائیں تاکہ ایسے عناصر کہیں بھی نہ پنپ سکیں. اور دیوبند مکتبہ فکر میں پائی جانے والی فرقہ پرست جماعتوں سے مکمل لاتعلقی اختیار کرلیں.

اپنی جماعت میں ایک جدید اسلوب تربیت کا نظام وضع کریں وفاق المدارس کے زیر انتظام مدارس کے نظام کو ریوائز کروائیں اس میں تاریخ اسلام سیاسیات اور جدید معاشیات کے علاوہ جرنلزم، ابلاغیات اور کمپیوٹر کو نصاب کا حصہ بنوائیں . اور اگلے 25 سال کے لیے مروجہ سیاست سے الگ رہ کر جماعت کی تربیت اور تیاری میں صرف کریں پچیس سال بعد وہ ناقابل تسخیر بن سکتے ہیں.

Avatar
محمد عباس شاد
مدیر:دارالشعورمیگزینIچیئرمین دارالشعورپبلشرز،لاہور

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *