ایک باغی کا تذکرہ

وہ ایک اطالوی مارکسی دانشور اور سیاست دان تھے۔ اُنہوں نے سیاسی نظریہ، سماجیات اور لسانیات پر کافی تحریری کام کیا۔ وہ اٹلی کی کمیونسٹ پارٹی کے بانی رکن اور رہنما تھے۔ بینیتو مسولینی کے فاشسٹ اقتدار میں جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ انہوں نے 30 سے ​​زائد نوٹ بک (کتابچے) اور قید کے دوران تاریخ اور تجزیہ پہ مبنی تین ہزار صفحات لکھے۔

قید کے دوران انہوں نے "دی پریزن نوٹ بکس" کے نام سے تحریریں لکھیں۔ یہ نوٹ بک 1929ء اور 1935ء کے درمیان لکھی گئی تھیں۔ اُن کی جیل نوٹ بک کو بیسویں صدی کے سیاسی نظریہ کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اُن کی یہ نوٹ بک اطالوی تاریخ اور قوم پرستی، انقلاب فرانس، فاشزم، سول سوسائٹی، مذہب اور ثقافت جیسے کئی موضوعات پہ محیط ہے۔

اُن کی "تہذیبوں کی بالادستی کی تھیوری" بھی بہت مشہور ہے۔ اِس تھیوری میں انہوں نے واضح کیا کہ کیسے سرمایہ دارانہ نظام میں حکمران اشرافیہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ثقافتی اداروں کو استعمال کرتی ہے۔

اُن کے والد اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے مقروض ہو کر دربدر ہو چکے تھے۔ بالآخر پولیس نے غبن کے الزام میں جیل بھیج دیا۔ لہذا اُن کو سکول چھوڑ کر مختلف جگہوں پر مزدوری کرنی پڑی۔ اِسی وجہ سے اُن کی جسمانی نشوونما بھی رُک گئی، اور ریڑھ کی ہڈی کی بڑھوتری متاثر ہونے کے باعث قد پانچ فٹ سے بھی کم رہ گیا۔ وہ ایک کبڑے شخص تھے جبکہ وہ ساری زندگی کئی دوسرے جسمانی عوارض میں بھی مبتلا رہے۔

1904ء میں والد کی رہائی کے بعد انہوں نے دوبارہ سکول جانا شروع کر دیا، حتی کہ 1911ء میں اُنہیں یونیورسٹی آف ٹیورن میں سکالرشپ پہ داخلہ مل گیا۔ اُس نے وہاں ادب اور لسانیات کی تعلیم حاصل کی۔ جب وہ ٹیورن میں ہی تھے کہ وہاں فیٹ اور لینشیا جیسی بڑی بڑی فیکٹریاں لگنی شروع ہوئیں جہاں غریب علاقوں سے مزدور بھرتی کیے گئے۔ ٹریڈ یونین بنائی گئیں اور صنعتی سماجی تنازعات ابھرنے لگے۔ انہوں نے ٹریڈ یونین اور سوشلسٹ حلقوں میں آنا جانا شروع کر دیا حتی کہ 1913ء میں اطالوی سوشلسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔

انہوں نے فلسفیانہ اور سیاسی تحریروں کی وجہ سے خاصی مقبولیت حاصل کی یہاں تک کہ 1916ء میں سوشلسٹ جریدے اَونتی کے پائدمونٹ سیکشن کے ایڈیٹر بن گئے۔ وہ سیاسی معاملات پہ جرات، غیرمتزلزل اور ماہرانہ طریق سے لکھتے تھے۔ اُسی سال میں انہوں نے طلباء اور مزدوروں کے اجلاسوں میں تقاریر بھی شروع کر دیں تھیں جہاں انہوں نے انقلابِ فرانس، پیرس کمیون اور عورتوں کی آزادی جیسے عنوانات پہ لیکچر دئیے۔

1917ء میں اٹلی کی سوشلسٹ پارٹی کے رہنماؤں کی گرفتاریاں اور انقلابی تحریک شروع ہوئی تو "انتونیو فرانسسکو گرامشی" سوشلسٹ پارٹی کے مشہور راہنماؤں میں شامل ہو گیا۔ گرامشی ہی وہ نابغہ شخص ہے جس کا تذکرہ راقم نے مذکورہ بالا سطروں میں کیا ہے۔ اگست 1917ء میں گرامشی سوشلسٹ پارٹی کی صوبائی کمیٹی کا رکن منتخب ہوا اور ساتھ ہی سوشلسٹ جریدے "عوام کی فریاد" (Il Grido del Popolo) کے ایڈیٹر بن گیا۔

اکتوبر 1919ء میں اٹلی کی سوشلسٹ پارٹی کی اکثریت تیسری انٹرنیشنل، جس کی بنیاد ولادیمیر لینن نے رکھی تھی، میں شامل ہو گئی۔ پارٹی کے اندر لائحہ عمل طے کرنے کی بحث کے دوران گرامشی نے محنت کشوں کی کونسلوں کی وکالت کی۔ یہ محنت کشوں کی کونسلیں 1919ء اور 1920ء میں انقلابی تحریک کے دوران بنائی گئی تھیں۔ گرامشی کے بقول وہ "محنت کش کونسلیں" بغاوت کے دوران ذرائع پیداوار پر قبضہ کرنے اور اُن کو فعال کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں اور انقلابی تحریک کو آگے بڑھانے کا مناسب ترین طریقہ تھیں۔ گرامشی کی نظر میں لینن کی سوویتوں کا نظریہ اور ٹیورن میں موجود محنت کش کونسلوں کا نظریہ ایک جیسا تھا۔ گرامشی محنت کشوں کی کونسلوں کا سب سے بڑا وکیل تھا حتی کہ جب 1920ء میں محنت کشوں کی ٹیورن میں برپا ہونے والے بغاوت کی ناکامی کے بعد بھی گرامشی اپنی اِس سوچ پہ اڑا رہا۔

جب ٹیورن کی محنت کش کونسلیں قومی تحریک بننے میں ناکام ہو گئیں تو گرامشی نے ایک لیننسٹ کمیونسٹ پارٹی کی ضرورت پہ زور دیا۔ اِسی ضرورت کے تحت 21 جنوری 1921ء میں کیمونسٹ پارٹی آف اٹلی کی بنیاد رکھی گئی۔ گرامشی آغاز میں ہی پارٹی کا لیڈر بن سکتا تھا مگر اُس نے ایماڈیو بورڈیگا کی سربراہی میں کام کرنا قبول کیا۔ ایماڈیو بورڈیگا اٹلی کا بہت مشہور اور کیمونسٹ اصولوں پر سخت گیر عمل کرنے والا کمیونسٹ راہنما تھا۔ بورڈیگا پارٹی میں مرکزیت اور ڈسپلن برقرار رکھنے کا قائل تھا۔

1922ء میں کمیونسٹ پارٹی آف اٹلی کے نمائندہ کے طور سوویت روس کے دورہ پر روانہ ہوا جہاں اُس کو ایک سارنگی بجانے والی لڑکی "جولیا شوٹت" ملی جس نے اُس نے شادی رچا لی۔ گرامشی روس میں ہی تھا کہ اٹلی میں مسولینی کے فاشسٹ دور کا آغاز ہو گیا۔ بورڈیگا سمیت کمیونسٹ پارٹی کی تمام قیادت گرفتار ہو گئی۔ 1923ء کے آواخر میں گرامشی بیوی بچوں کو ماسکو چھوڑ کر ویانا روانہ ہوا۔ اُس کے بعد گرامشی کی اپنی بیوی اور بچوں سے دوبارہ ملاقات نہ ہو سکی۔

گرامشی ویانا جا کر پارٹی کو از سرِ نو متحد کرنے کی کاوشوں میں لگ گیا۔ اُس وقت پارٹی گروہوں میں بٹ کر جھگڑوں اور تضادات کا شکار تھی۔ 1924ء میں بورڈیگا کے قید ہونے کی وجہ سے گرامشی ہی پارٹی کی قیادت کر رہا تھا۔ گرامشی نے پارٹی کا اپنا اخبار "اتحاد"(L'Unità) جاری کیا۔

1926ء میں جوزف سٹالن نے گرامشی کو ایک خط لکھ کر بھجوایا۔ خط کے مندرجات میں سٹالن اور ٹراٹسکی کی مخالفت کی کہانی تھی۔ وہ خط کامریڈ تغلیاٹی کے حوالے کیا گیا جو کمیونسٹ پارٹی آف اٹلی کا ماسکو میں نمائندہ مقرر تھا۔ تغلیاٹی نے وہ خط کھول کر پڑھ لیا اور آگے گرامشی کو روانہ نہ کیا۔ اِسی بنا پر گرامشی اور تغلیاٹی کے درمیان مراسم بگڑ گئے جو کبھی سلجھ نہ سکے۔

جنوری 1926ء میں گرامشی نے میلان گانگریس کے موقع پہ اٹلی کی تمام سوشلسٹ پارٹیوں اور ٹریڈ یونین کو متحد ہو کر مسولینی کے خلاف تحریک چلانے کا مشورہ دیا۔ اتحاد تو نہ بن سکا مگر گرامشی کو مسولینی کے ذاتی حکم پر گرفتار کر لیا گیا۔ پہلے پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی مگر بعد میں سزا کو بیس سال تک بڑھا دیا گیا۔ گرامشی گیارہ سال جیل میں خون تھوکتا رہا اور اُس کے دانت گر گئے۔ اُس کے سر میں اتنا درد اٹھتا تھا کہ وہ اپنا سر جیل میں دیواروں سے جا ٹکراتا تھا۔ حتی کہ 27 اپریل 1937ء کو گرامشی فوت ہو گیا، اُس وقت اُس کی عمر 46 سال تھی۔

گرامشی بیسویں صدی کے اہم ترین مارکسی دانشوروں میں سے ایک تھا۔ اُس نے صرف بائیں بازو کی سوچ کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ بائیں بازو کے لوگوں پہ بھی اثرانداز ہوا۔ ثقافتی اور تنقیدی بحثوں میں اُس کے فلسفے کو آج بھی گراں قدر اہمیت حاصل ہے۔ معاصر سیاسیات میں گرامشی کے اثرات خاص طور پر مضبوط ہیں، جبکہ بہت سی جامعات میں باقاعدہ "نیو گرامشیزم" کے تحت کورس پڑھائے جاتے ہیں۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *