فطرت اور شعور۔۔۔قیصر عباس فاطمی

فطرت کیا ہے؟ آپ نے اکثرلوگوں کو اپنی دلیل کی بنیاد فراہم کرنے کے لیے یہ کہتے سنا ہو گا کہ یہ “فطری اصول” ہے۔ یا پھر یہ”فطرت” میں ہی “یوں” ہے۔ تو گویا یہ ٹھیک ہے۔ اور فلاں کام یا فلاں عمل چونکہ “فطرت” میں نہیں تو اس کا جواز بھی نہیں۔

پہلے فطرت کی وضاحت ہو جائے۔ پھر گفتگو آگے بڑھاتے ہیں۔ اور یہاں فطرت کے رائج معنی ہی لے لیتے ہیں۔ فطرت یعنی مادی دنیا۔ جو ہے، جیسے ہے اور جب سے ہے سب فطرت ہے۔ سوائے ان چیزوں کے جو انسانی مداخلت سے وجود میں آئیں۔ ان کو عام طور پر فطرت نہیں مانا جاتا۔ چونکہ افعال انسانی کی بنیاد شعور انسانی ہے تو بات سمجھنے کے لیے اس درجہ بندی کو مزید آسان کرنے کے لیے  کہا جا سکتا ہے کہ فطرت مادہ اور مادے میں خودکار تبدیلی، اور اس تبدیلی کے قوائد و ضوابط ہیں۔ جبکہ غیر فطرت انسانی شعور کی بنیاد پر جنم لینے والی وہ تصریفات ہیں جو عام طور پر فطرت کے خودکار عمل میں اتنے ہی وقت یا اسی جگہ پر وقوع پزیر نا ہو پاتیں۔ جن دو بنیادوں پر ہم فطری عمل اور شعوری عمل میں تفریق کر سکتے ہیں وہ تبدیلی کی رفتار اور تبدیلی کی جگہ ہے۔ انسانی شعور کی بنیاد پر کی گئی مداخلت کی مدد سے تبدیلی کے اس عمل کو تیز یا سست کیا جا سکتا ہے، یا اس تبدیلی کی جگہ کو بدلا جا سکتا ہے۔ (یا دونوں بیک وقت ) گویا انسانی شعور اپنی صلاحیت کے اعتبار سے اپنے کُل (یعنی فطرت) سے زیادہ طاقتور ہے، مگر وسعت کے اعتبار سے اپنے کُل سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ اور یہی رکاوٹ انسان شعور کو فطرت کی حدوں سے باہر نہیں جانے دے سکتی۔ باآلفاظ دیگر، شعور فطرت کا ہی باغی بچہ ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ انسانی شعور کس بنیاد پر فطری وارداتوں میں مداخلت کرنے پر اکساتا ہے؟ انسانی شعور کا سب سے اہم پہلو “نتائج” کو وقت سے پہلے جانچ لینا ہے۔ چونکہ  کسی بھی عمل کے غلط یا صحیح ہونے کا فیصلہ “نتیجہ” آنے پر ہی کیا جاتا ہے۔ اور انسانی شعور میں یہ کمال بھی ہے کہ عام فطری اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ ہونے والی تبدیلیوں اور ان کا انسانی زندگی پر اثر انداز ہونے کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے، تو لازماً انسانی شعور گاہے بگاہے فطرت کے ان اصولوں یا عادتوں میں مداخلت کرواتی ہے جو انسان کے مطلوبہ نتائج کے لیے موزوں نا ہوں۔ کیونکہ فطرت انجام سے بے خبر یا بے نیاز ہے۔ فطرت بے رحم اور شاید تباہ کن ہے۔ جس میں تبدیلیوں کے بڑے مرحلے پہلے سے موجود نظاموں کے تباہ ہونے سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم اپنی اسی چھوٹی سی دنیا میں دیکھیں تو فطرت کا بچھایا ہوا یہ جال کہیں کہیں سے ہمیں گھیرے ہوئے ہے۔ جوکم از کم ہمارے لیے بقاء حیات کو ناسازگار ضرور بناتا ہے۔

مثال کے طور پر حرکت اور رگڑ یا کشش ثقل کے قوانین، پانی کا بہاؤ، خلا میں ستاروں / سیاروں کا بننا یا ٹوٹنا،  موسموں کے آنے جانے سے ہونے والی تبدیلیاں اور ان کے اثرات، جانداروں میں شرح افزائش کا خوراک کی پیداوار سے کہیں زیادہ ہونا۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ اور ان جیسے ہزارون عوامل ایسے ہیں جو انسان کو فطری عمل میں مداخلت پر مجبور کرتے ہیں۔ مثلا ً فطرت عام حالات میں انسان کو سفر طے کرنے کے لیے ٹانگیں ہی مہیا کرتی ہے، مگر انسان نے پہیہ اور انجن بنا لیے۔ فطرت تیز گرمی اور شدید ٹھنڈ لاتی ہے اور انسان کو انتہائی شدید درجہ حرارت میں باقی رہنے کے لیے بدن فراہم نہیں کرتی، لہٰذا کپڑے ، مکان اور درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کے یے مداخلت کی گئی۔ فطرت خوراک مہیا نہیں کرتی، اس لیے زراعت کرنا پڑی، فطرت نے کئی انواع حیات پر رحم نہیں کیا اور مختلف وباؤں یا آفات کا  شکار ہوئیں اور ان کا نام و نشان تک مٹ گیا، فطرت اس حد تک بے رحم ہے کہ والدین بچوں کو یا بچے والدین کو نوچ نوچ کر کھا جائیں اسے فرق نہیں پڑتا ، اور اس حد تک بے حیا ہے کہ والدین بچوں سے یا بچے آپس میں جنسی لذت پوری کریں ،اور  ٹس سے مس نہ ہو!

اس لیے، میں سمجھتا ہوں کہ انسان کے لیے تمام تر فیصلوں کی بنیاد فقط شعور انسانی ہی ہو سکتا ہے۔ فطری اصول ہر گزمحکم نہیں ہو سکتے۔ نہ  فطرت کوئی دلیل ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *