عمران خان سے کچھ گزارشات۔۔۔ محسن علی

سلام مہاتما عمران خان نیازی صاحب! آپ الیکشن جیت گئے بائیس سالہ جدوجہد کے بعد ،مبارکباد ۔مانتا ہوں ہر الیکشن سلیکشن ہی ہوتے ہیں ہمارا مزاج نہیں فری اینڈ فئیر پر مُلک گنوانا پڑا تھا ۔ آپ کی تقریر سُنی دل خوش ہوا مگر ایک طرف سب کے برابری کے حقوق کی آج کی مثال ،ایک طرف مدینے کی ریاست ۔
آپ کے لیے کچھ سوالات ہیں  :
کیا مسلمان کو کافر ہونے پر قتل کیا جائیگا یا بخش دیا جائیگا “میثاق مدینہ قانون”  کے تحت 
کیا جزیہ لیا جائیگا کافروں سے زکوة و دیگر ٹیکس نہیں ہونگے  ؟
کیا اسٹیٹ بینک پاکستان سے سود کا خاتمہ ہوجائیگا ۔ مسلمان حضرات صرف شرعی زکوة وغیرہ ہی ادا کرینگے ؟
کیا صرف سید زادیاں ہی پردے کی مُستحق ٹھہریں گی ؟
کیا لونڈیاں و غلام رکھنے کی اجازت ہوگی ؟
کیا اسلامی قانون کے تحت خود کو سزا دلوائیں گے کوڑوں کی، بعد میں دیگر سیاسی و عسکری لیڈران کو ؟
کیا یہودی عیسائی سے مسلمان  بغیر ان کی تذلیل کیے تعلیم حاصل کر  سکیں گے؟
کیا فقیری کرنے کی سخت ممانعت ہوگی ؟

 یہ سب وہ  سوالات ہیں جو آپ کا بیان،پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنائیں گے”سن کر ذہن میں ابھرے ہیں ،کیا آپ کسی کا جواب دے سکتے ہیں ؟۔۔۔

پاکستانی شہری ہونے کے ناطے کچھ مطالبات بھی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔
خواتین و اقلیت کی مخصوص نشستیں ختم کی جائیں انکو برابر کا شہری سمجھتے ہوئے انکو کسی بھی حلقے سے کسی بھی سیٹ کے لئے کھڑے  ہونے کی اجازت دی جائے ۔
مردوں و خواتین کا تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارو ں اور کاروبار میں  تناسب برابر رکھا جائے  ۔
ملک کو سیکولر سوشل ڈیموکریسی بنایاجائے ۔
نئے چھوٹے انڈسٹریل زونز قائم کئے جائیں تمام صوبوں میں تین سے دس سال ٹیکس فری چھوٹ دی جائے جسکے بدلے وہ اپنی بجلی خود پیدا کریں ۔
بلدیاتی نظام مضبوط و موئثر بنائیں اور چھوٹے و بڑے شہروں کے تمام مئیرز کو ایک سے حقوق  حاصل ہوں ۔
ایم این اے و ایم پی اے  ترقیاتی کاموں کے بجائے   قانون بنائیں ،لیجیسلیشن کریں فقط ۔
ہر علاقے میں لازمی لائبریری و آرٹس کونسل بنائیں، جہاں ثقافت پروان چڑھ سکے ۔
عدالتی سسٹم کو کمپیوٹرائز کیا جائے اور پرانے قانون کی جگہ نیا عدالتی سسٹم رائج کیا جائے ۔
تہتر کے آئین کی جگہ مُلک کی عوام سے نیا سوشل کنٹریکٹ کریں نیا آئین تشکیل دیں تمام سیاسی لیڈرز کو واپس بُلا کر ملک میں عام معافی کا اعلان کریں اور انکی جائیداد کا بیس فیصد قومی خزانے میں بطور جُرمانہ ڈلوائیں ۔
اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دلوائیں اور انکے مسائل کے لئے ایک وزارت رکھیں ۔
تعلیمی نظام یکساں کریں ۔
ہر دو لاکھ آبادی میں یونیورسٹیز قائم کریں ۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *