روزہ کے ساتھ عید پڑھنا سنتِ اکابر ہے…

ایک معروف واقعہ جو ہماری پیدائش سے پہلے کا ہے اور وطنِ عزیز مملکتِ اللہ داد پاکستان کا، اور جس کی تفصیلات بھول بھلا گئی تھیں جن کی تازگی سر ڈاکٹر طفیل ہاشمی مدظلہ سے باتیں کرتے ہوئے ہوئی، جی چاہتا ہے کہ ابھی پیش کردوں۔
ایوب خان کے زمانے میں ایک بار جمعہ کو چھوٹی عید آگئی۔ کسی نے انھیں سمجھا دیا کہ ایک دن میں دو خطبے حکومت پر بھاری ہوتے ہیں۔ اب محکمہ موسمیات اور وزارتِ مذہبی امور کی ڈیوٹی لگی کہ چاند ایک دن پہلے پیدا کیا جائے۔ اگر اس وقت مفتی شہاب الدین پوپلزئی موجود ہوتے تو یہ کام بسہولت ہوسکتا تھا لیکن حکومت اور ادارے ابھی اتنے سمجھ دار نہیں ہوئے تھے کہ اس قسم کا کردار ڈیویلپ کرچکے ہوتے جو آڑے وقت میں کام آسکے۔ قصہ مختصر، انتیسویں روزے کے بعد شبِ جمعرات میں اعلان کردیا گیا کہ چاند نظر آ گیا ہے اور کل عید ہے۔ ڈاکیے, چوکیدار اور پٹواری رات بھر سائیکلوں پر اعلان کرتے پھرتے رہے کہ چاند نظر آ گیا ہے اور صبح عید ہے. بعض لوگوں کو یہ خبر سحری کھاتے ہوئے ملی۔
اس وقت ذرائع مواصلات آج کی طرح وافر، سریع اور ارزاں نہ تھے۔ پھر بھی اس تھوڑے سے وقت میں مولانا مودودی، مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا نعیمی اور احتشام الحق تھانوی نے ہمت کی اور پورے مغربی پاکستان میں راتوں رات اس اعلان کے خلاف فضا بنا دی۔ اگلے دن نماز ہوئی۔ عید گاہوں کے بیشتر اماموں اور نمازیوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ لاہور چھاؤنی کی عید گاہ میں امام صاحب پہلی رکعت کے سجدے میں مقتدیوں کو چھوڑ کر بھاگ لیے۔ خوفِ خدا خوفِ حکومت پر غالب آگیا تھا۔ اس دن سر ڈاکٹر طفیل ہاشمی بھی لاہور میں موجود تھے۔ باقی تفصیلات ان سے پوچھی جائیں۔
عید تو ہوگئی لیکن عوام کا غم و غصہ دیدنی تھا۔ اللہ نے کچھ زمانہ شناس سمجھ دار علما سے دستگیری کرائی اور حکومت نے ایک روزہ قضا رکھوایا اور یہ معاملہ ٹھنڈا ہوا۔
آج بھی فقہ پوپلزئی کے فتوے سے مجبور ہوکر جن اماموں نے نماز پڑھانی ہے اور جن مسلمانوں نے ان کے پیچھے عید پڑھنی ہے، ان میں سے کئی ایسے ہوں گے جن پر خوفِ خدا غالب ہوگا اور انھوں نے روزے کے ساتھ عید کی نماز پڑھانی/ پڑھنی ہوگی۔ راضی رہے صیاد بھی۔۔۔
فقہ پوپلزئیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں رمضان ہمیشہ 28 دن کا ہوتا ہے اور کوئی ماہرِ فلکیات اگر مسلمان بھی ہو تو اس کی شہادت مردود ہوتی ہے۔
فقہ پوپلزئیہ کے مطابق آج عید کرنے والے جن مسلمانوں نے شوال کے چھے روزے رکھنا ہیں انھیں چاہیے کہ کل روزہ نہ رکھیں بلکہ پرسوں سے روزے شروع کریں۔
پس ثابت ہوا کہ روزہ رکھ کے بطریقِ تقیہ عید پڑھی جانا عین ممکن ہے۔ اکابر سے ایسا فرمانا ثابت ہے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *