کیا ملک کی وحدت ایک ہی عید منانے میں ہے؟

SHOPPING

عید نا ہوگئی پاکستان سٹدیز کا نظریہ پاکستان کا سوال ہو گیا کہ جب تک ڈاکٹر صفدر اور زید حامد کے معیار کے مطابق جواب نہیں ملے گا، تب تک جواب کو درست نہیں مانا جاۓ گا۔
عید نا ہوگئی، زبان ہو گئی کہ زبردستی اسے قومی زبان بنانا ہے چاہیے ملک دو ٹوٹے ہو جاۓ۔
عید نہ ہوگئی چودہ اگست یا تئیس مارچ ہو گیا کہ ہر حالت میں ایک ہی دن منانا ہے، ورنہ ملک کی وحدت کو خطرہ ہے۔ پاکستان کی سالمیت کو خطرہ صرف الگ الگ عید منانے سے ہے، مگر کوئٹہ کے ہزارہ برادری چاہیے مٹ جاۓ۔ مگر عید ایک ہی دن منانی چاہیے۔ لاکھوں پاکستانیوں کو مروا دو تزوایتی گہرائی کے نام پر۔ اس سے کوئی ملک کی وحدت کو خطرہ نہیں مگر پاکستان خدانخواستہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاۓ گا اگر کسی نے الگ عید منا لی۔

SHOPPING

نظم اجتماعی میں پھوٹ پر جاتی ہے، اگر ایک علاقہ عید الگ منا لے مگر اردگرد کے ملکوں سے الگ تھلک دو دو دن بعد عید منائی جاتی ہے تب ملت میں کوئی پھوٹ نہیں پرتی۔ تب کہا جاتا ہے کہ مطلع الگ الگ ہوتا ہے ہر علاقے کا، اس لیے ہر علاقے کا چاند الگ، تو پھر ایک ہی علاقہ کیوں طعنہ کی زد میں، جبکہ کہ خود کا کہنا ہے کہ مطلع ہی الگ ہے۔ تو اب اعتراض کیسا؟
ایک بے چارے بے ضرر ملا پر اعتراض جو صرف گواہوں کی بنیاد پر عید اور روزے کا اعلان کرتا ہے اس پر اعتراض کہ ایک ملا نے ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی ہے، کیا وہ زبردستی لوگوں سے گن پوائنٹ پر روزہ رکھواتا ہے اور عید کرواتا ہے؟ کیا وہ دھشتگردی کا مرتکب ہوا ہے؟ کیا اس کی گردن پر لاکھوں انسانوں کا خون ہے؟ اس پر اعتراض اور اسے زبردستی ملک بدر کرنا اس لیے کہ وہ اٹک کے اِس طرف کا۔ مگر اس ملا پر کوئی اعتراض نہیں جس نے ریاست کے اندر ریاست قائم کر کے ریاست کے خلاف بغاوت کر رکھی ہے، وہ بھی دارالحکومت کی بڑی مسجد میں۔ اس کی مذمت اور ایکشن اس لیے نہیں کہ اٹک کے اُس پار کا۔
کیرالہ، انڈیا، ملیشیا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برونائی جو سعودیہ سے ہزاروں میل دور، وقت میں آٹھ آٹھ گھنٹے آگے، مگر چاند نظر آ جاتا ہے۔ دبئی، افغانستان، بحرین، ایران، سعودیہ جو پاکستان سے صرف ایک یا دو گھنٹے پیچھے۔ ان سب علاقوں میں چاند نظر آتا ہے، مگر نظر نہیں آتا تو پاکستان میں کیونکہ اس کا خدا نے کچھ الگ قسم کا مطلع بنایا ہوا ہے۔
روزہ یا عید الگ سے منانے پر ایک روایت کے ذریعے چتاونی دی جاتی ہے کہ نظم اجتماعی میں خلل ڈالنے والوں کو قتل کیا جاۓ گا۔ مگر جس نے ہزاروں پاکستانیوں کے خون کرنے کا اقرار کیا، اسے سٹیٹ کے مہمان اور ہیرو کے طور پر نیشنل ٹی وی پر پیش کیا جاتا ہے، کیونکہ اس نے تو صرف قتل کیے ہیں، کوئی عید تو الگ نہیں منائی۔
یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ چاہے آپ خود اپنی آنکھوں سے بھی چاند دیکھ لیں تب بھی آپ پر ریاست کی اطاعت فرض ہے اور ایسا نہ کرنا بغاوت ہے۔ مگر ایک جانِ جگر اور ایک مذہبی ریزہ چیں، صرف اپنی ذاتی انا کے لیے چھ چھ مہینے ملک کے دارالحکومت کا محاصرہ کرتے ہیں،، ملک کے اداروں پر منظم حملے ہوتے ہیں۔ مگر اس سے ملک کی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں، یہ ریاست سے بغاوت نہیں، کیونکہ کہ وہ جانِ بہار اور مذہبی شخصیت، چونکہ پسندیدہ لسٹ میں ہیں تو ان کی ہر حرکت معاف۔ مگر ایک بے چارہ صرف اعلان کر دے جس کو ماننا نہ ماننا عوام کا کام ہے، اس کے ایک اعلان سے ملک ٹوٹے ہو جاۓ گا، بغاوت ہو جاۓ گی، ملک کی سالمیت خطرہ میں پر جاۓ گی۔
واہ کیا معیار ہے انصاف کا؟ کیا یہ ہی صلاحیت ہے، چیزوں کو درست تناظر میں دیکھنے کی؟

SHOPPING

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *