• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • الیکشن میں درگاہوں ،پیروں اورخانقاہوں کا کردار ۔۔۔۔محمد ضیاالحق نقشبندی

الیکشن میں درگاہوں ،پیروں اورخانقاہوں کا کردار ۔۔۔۔محمد ضیاالحق نقشبندی

پاکستانی سیاست کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی انتخابات قریب آتے ہیں ،سیاستدانوں اور انتخابی امیدواروں کی جانب سے عبادات، دعاؤں ،درگاہوں اور پیروں کے پاس حاضری کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور امیدواروں کے ساتھ ساتھ خودانکے پیر بھی کافی فعال اور سرگرم نظر آتے ہیں ،انکی یہ کوشش ہوتی ہےکہ اپنے مریدوں کواپنے ماننے والےامیدواروں کوووٹ دینے کے لیے آمادہ کریں۔ تمام صوبوں کی سیاست میں پیروں، فقیروں کا ایک خاص ووٹ بینک ہوتاہے، جس میں انکے مریدین کوئی سیاسی نظریہ رکھنے کی بجائے ادب و نیازی مندی ، عقید ت و احترام کے زیر اثر ہوتے ہیں، مریدین اپنے پیر کے حکم کو آنکھیں بند کر کے کے تسلیم کر لیتے ہیں اور بغیر کسی بحث مباحثے کے اپنے پیر کے ماننے والے سیاسی امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں،یوں ایک سیاسی امید وار کواپنے سیاسی پیر سے ’’لو‘‘لگانے کا یہ ایک اضافی فائدہ ہوتا ہے کہ اسکا ووٹ بینک بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں۔
ہر صوبے کے کئی حلقوں میں’’پیر ی مریدی ‘‘ روحانی سلسلے کی وجہ سے سیا ست میں بھی جذباتی عنصر پایا جاتا ہے۔ جیسے کہ سندھ کے علاقے خیر پور میں رانی پور کے پیروں کے مریدوں کی ایک کثیر تعداد ہے۔ پنجاب میں غوثیہ جماعت ہے  جو کہ ملتان سے تعلق رکھتی ہے اور اسکے روحانی پیشواملتانی فقیربھی کہلواتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے نائب چیئر مین شاہ محمود قریشی اس جماعت کے گدی نشین ہیں اور انکے ماننے والوں کی سندھ اور جنوبی پنجاب میں کافی بڑی تعداد ہے ،اسکے علاوہ حُر جماعت جسے پیر پگاڑا چلاتے ہیں ، سروری جماعت ’’ہالہ ‘‘کے آستانہ سے تعلق رکھتی ہے ، مخدوم امین فہیم اسی درگاہ سے تعلق رکھتے تھے ، عام انتخابات سے پہلے غوثیہ اور سروری جماعت کے خلفاء اپنے حلقوں میں کیمپ لگاتے ہیں، جس میں مریدین کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ انکے بتائے ہوئے امیدوار کو ہی ووٹ دیں۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ لوگوں کے ذہنوں پر اس قدر اثرو رسوخ اور کثیر تعداد میں پیروکار ہونے کی وجہ سے سیاستدان پیروں سے تعلقات بنانے یا ان کے مرید ہو جانے پر مجبور نظر آتے ہیں۔

اب اس حوالے سے کچھ کیس سٹڈیز کا جائزہ لیتے ہیں کہ آخرپاکستانی سیاست میں پیری مریدی  کس حدتک  اثر انداز ہے۔عمر کوٹ اور تھر کے ایک مقامی صحافی اے بی اریسر کے مطابق2017کے آخر میں شاہ محمودقریشی نے ان علاقوں کے 126دیہاتوں کا دورہ کیا۔ جہاں مریدین کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ اپنے مویشی اور گھروں کے سامان بیچ کر انہوں نے اپنے پیر کے لیے تحائف کا بندوبست کر رکھا تھا۔جن تمام تحائف کو قریشی صاحب نے قبول کیااور بدلے میں ووٹ پی ٹی آئی کو ڈالنے کا وعدہ لیا، جس پر مریدین نے سر تسلیم خم کیا۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق2013کے عام انتخابات میں NA 230تھرپارکر میں پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پیر نور محمد شاہ جیلانی کے مابین سخت مقابلہ ہوا ، جس میں پیر نور محمدنے شاہ جیلانی نے 61,903جبکہ شاہ محمود قریشی نے 59,852ووٹ حاصل کیے۔اور NA 228عمر کوٹ میں شاہ محمود قریشی نے 86,134اور پیپلز پارٹی کے نواز یوسف تالپور نے 99,700ووٹ حاصل کیے۔ مقابلہ اتنا سخت بنانے میں بلا شبہ مریدین کا بہت بڑا ہاتھ نظر آتا ہے۔ ملتانی فقیروں کی یہ روحانی وابستگی 2018میں ان دو حلقوں سے پی ٹی آئی کی سیا سی فتح کا سبب بن سکتی ہے۔کراچی کے ایک پولیس افسراسمائل گوپنگ جن کا تعلق خیر پور میرس  سے ہے اور رانی پور گدی کے مرید ہیں، کا کہنا ہے کہ ہمارے خاندان کے تمام افراد کا ووٹ ہر حال میں صرف رانی پور روحانی سلسلے کے گدی نشین پیر عبدالقادر جیلانی کے پوتے اور پیپلز پارٹی کے پیر فضل شاہ کا ہوتاہے اور یہ ووٹ ہم پیپلز پارٹی کو نہیں اپنے ’’پیر‘‘کو دیتے ہیں۔حفیظ تنیو کے مطابق حُر جماعت کے ضلع سانگھڑ اور خیر پورمیں ایک کثیر تعداد میں روحانی پیروکار ہیں اورحُرجماعت انتخابات میں ہمیشہ پاکستان مسلم لیگ پیر پگارا کو سپورٹ کرتی ہے اور اس جماعت کے سندھ اسمبلی میں ممبر بھی ہوتے ہیں۔ حکومتی کارکردگی اچھی نہ ہونے کے باوجود یہ سیاسی جماعت اپنے پیروں کی مدد سے پارلیمان تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
1993،2008اور2013کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نے دیہی علاقوں میں اکثریت حاصل کی ،جس کی وجہ ان علاقوں میں مسلم لیگ ن کے پیروں فقیروں سے روابط تھے ،ختم نبوت اور ممتاز قادری کے ایشو کی بنیاد پر اب ایسا بڑے پیمانے پر نہیں ہو رہا۔ جن درگاہوں پر سیاستدان حاضری دیتے اور نیازیں تقسیم کرتے ہیں ،ان میں دربار داتا گنج بخش ، بری امام ، سیہون شریف ، گولڑہ شریف ،پاک پتن ،کرمانوالہ ،علی پورسیداں ، دربارحضرت شاہ رکن عالم  اور اُوچ شریف شامل ہیں ۔اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ برصغیر پا ک و ہند پر حکومت کے دوران انگریز بھی اس خطے کی سیا ست پر درگاہوں اور پیروں کے کردار کے قائل تھے اور وہ خطے کے روحانی و صوفی بزرگوں سے یا تو تعاون کر کے چلتے یا پھرانکو مراعات و عطیات اور زمین دیتےتاکہ ان کی طرف سے کسی بھی قسم کی مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔پاکستانی سیاست میں درگاہوں، درباروں اور پیروں کا کرداربہت مضبوط ہے۔جس کی وجہ سے ان کے پیچھے مریدوں کی ایک خاص تعداد ہے۔مریدوں کو سیاسی زبان میں اگر ووٹ بینک کہا جائےتو یہ غلط نہ ہوگا۔پاکستان کے بہت سے علاقوں میں اس روایت کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انتخابات سیاسی جماعتوں کے بجائے روحانی گدیوں کے درمیان لڑے جاتے ہیں۔

پاکستانی سیاست کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی انتخابات قریب آتے ہیں ،سیاستدانوں اور انتخابی امیدواروں کی جانب سے عبادات، دعاؤں ،درگاہوں اور پیروں کے پاس حاضری کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور امیدواروں کے ساتھ ساتھ خودانکے پیر بھی کافی فعال اور سرگرم نظر آتے ہیں ،انکی یہ کوشش ہوتی ہےکہ اپنے مریدوں کواپنے ماننے والےامیدواروں کوووٹ دینے کے لیے آمادہ کریں۔ تمام صوبوں کی سیاست میں پیروں، فقیروں کا ایک خاص ووٹ بینک ہوتاہے، جس میں انکے مریدین کوئی سیاسی نظریہ رکھنے کی بجائے ادب و نیازی مندی ، عقید ت و احترام کے زیر اثر ہوتے ہیں، مریدین اپنے پیر کے حکم کو آنکھیں بند کر کے کے تسلیم کر لیتے ہیں اور بغیر کسی بحث مباحثے کے اپنے پیر کے ماننے والے سیاسی امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں،یوں ایک سیاسی امید وار کواپنے سیاسی پیر سے ’’لو‘‘لگانے کا یہ ایک اضافی فائدہ ہوتا ہے کہ اسکا ووٹ بینک بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں۔
ہر صوبے کے کئی حلقوں میں’’پیر ی مریدی ‘‘ روحانی سلسلے کی وجہ سے سیا ست میں بھی جذباتی عنصر پایا جاتا ہے۔ جیسے کہ سندھ کے علاقے خیر پور میں رانی پور کے پیروں کے مریدوں کی ایک کثیر تعداد ہے۔ پنجاب میں غوثیہ جماعت ہے  جو کہ ملتان سے تعلق رکھتی ہے اور اسکے روحانی پیشواملتانی فقیربھی کہلواتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے نائب چیئر مین شاہ محمود قریشی اس جماعت کے گدی نشین ہیں اور انکے ماننے والوں کی سندھ اور جنوبی پنجاب میں کافی بڑی تعداد ہے ،اسکے علاوہ حُر جماعت جسے پیر پگاڑا چلاتے ہیں ، سروری جماعت ’’ہالہ ‘‘کے آستانہ سے تعلق رکھتی ہے ، مخدوم امین فہیم اسی درگاہ سے تعلق رکھتے تھے ، عام انتخابات سے پہلے غوثیہ اور سروری جماعت کے خلفاء اپنے حلقوں میں کیمپ لگاتے ہیں، جس میں مریدین کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ انکے بتائے ہوئے امیدوار کو ہی ووٹ دیں۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ لوگوں کے ذہنوں پر اس قدر اثرو رسوخ اور کثیر تعداد میں پیروکار ہونے کی وجہ سے سیاستدان پیروں سے تعلقات بنانے یا ان کے مرید ہو جانے پر مجبور نظر آتے ہیں۔

اب اس حوالے سے کچھ کیس سٹڈیز کا جائزہ لیتے ہیں کہ آخرپاکستانی سیاست میں پیری مریدی  کس حدتک  اثر انداز ہے۔عمر کوٹ اور تھر کے ایک مقامی صحافی اے بی اریسر کے مطابق2017کے آخر میں شاہ محمودقریشی نے ان علاقوں کے 126دیہاتوں کا دورہ کیا۔ جہاں مریدین کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ اپنے مویشی اور گھروں کے سامان بیچ کر انہوں نے اپنے پیر کے لیے تحائف کا بندوبست کر رکھا تھا۔جن تمام تحائف کو قریشی صاحب نے قبول کیااور بدلے میں ووٹ پی ٹی آئی کو ڈالنے کا وعدہ لیا، جس پر مریدین نے سر تسلیم خم کیا۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق2013کے عام انتخابات میں NA 230تھرپارکر میں پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پیر نور محمد شاہ جیلانی کے مابین سخت مقابلہ ہوا ، جس میں پیر نور محمدنے شاہ جیلانی نے 61,903جبکہ شاہ محمود قریشی نے 59,852ووٹ حاصل کیے۔اور NA 228عمر کوٹ میں شاہ محمود قریشی نے 86,134اور پیپلز پارٹی کے نواز یوسف تالپور نے 99,700ووٹ حاصل کیے۔ مقابلہ اتنا سخت بنانے میں بلا شبہ مریدین کا بہت بڑا ہاتھ نظر آتا ہے۔ ملتانی فقیروں کی یہ روحانی وابستگی 2018میں ان دو حلقوں سے پی ٹی آئی کی سیا سی فتح کا سبب بن سکتی ہے۔کراچی کے ایک پولیس افسراسمائل گوپنگ جن کا تعلق خیر پور میرس  سے ہے اور رانی پور گدی کے مرید ہیں، کا کہنا ہے کہ ہمارے خاندان کے تمام افراد کا ووٹ ہر حال میں صرف رانی پور روحانی سلسلے کے گدی نشین پیر عبدالقادر جیلانی کے پوتے اور پیپلز پارٹی کے پیر فضل شاہ کا ہوتاہے اور یہ ووٹ ہم پیپلز پارٹی کو نہیں اپنے ’’پیر‘‘کو دیتے ہیں۔حفیظ تنیو کے مطابق حُر جماعت کے ضلع سانگھڑ اور خیر پورمیں ایک کثیر تعداد میں روحانی پیروکار ہیں اورحُرجماعت انتخابات میں ہمیشہ پاکستان مسلم لیگ پیر پگارا کو سپورٹ کرتی ہے اور اس جماعت کے سندھ اسمبلی میں ممبر بھی ہوتے ہیں۔ حکومتی کارکردگی اچھی نہ ہونے کے باوجود یہ سیاسی جماعت اپنے پیروں کی مدد سے پارلیمان تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
1993،2008اور2013کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نے دیہی علاقوں میں اکثریت حاصل کی ،جس کی وجہ ان علاقوں میں مسلم لیگ ن کے پیروں فقیروں سے روابط تھے ،ختم نبوت اور ممتاز قادری کے ایشو کی بنیاد پر اب ایسا بڑے پیمانے پر نہیں ہو رہا۔ جن درگاہوں پر سیاستدان حاضری دیتے اور نیازیں تقسیم کرتے ہیں ،ان میں دربار داتا گنج بخش ، بری امام ، سیہون شریف ، گولڑہ شریف ،پاک پتن ،کرمانوالہ ،علی پورسیداں ، دربارحضرت شاہ رکن عالم  اور اُوچ شریف شامل ہیں ۔اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ برصغیر پا ک و ہند پر حکومت کے دوران انگریز بھی اس خطے کی سیا ست پر درگاہوں اور پیروں کے کردار کے قائل تھے اور وہ خطے کے روحانی و صوفی بزرگوں سے یا تو تعاون کر کے چلتے یا پھرانکو مراعات و عطیات اور زمین دیتےتاکہ ان کی طرف سے کسی بھی قسم کی مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔پاکستانی سیاست میں درگاہوں، درباروں اور پیروں کا کرداربہت مضبوط ہے۔جس کی وجہ سے ان کے پیچھے مریدوں کی ایک خاص تعداد ہے۔مریدوں کو سیاسی زبان میں اگر ووٹ بینک کہا جائےتو یہ غلط نہ ہوگا۔پاکستان کے بہت سے علاقوں میں اس روایت کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انتخابات سیاسی جماعتوں کے بجائے روحانی گدیوں کے درمیان لڑے جاتے ہیں۔

بشکریہ تجزیات آن لائن

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *