نعرہ ء مستانہ

گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پرذوالفقار علی بھٹو جونئیر کی ایک وڈیو وائرل ہے جو اب میں سٹریم میڈیا میں بھی زیر بحث ہے۔ کچھ لوگ اس پر خوشی جبکہ باقی اس پر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ مایوسی کا اظہار کرنے والوں میں بھٹو دشمن بھی شامل ہیں اور پیپلز پارٹی کے وہ مخلص لوگ بھی شامل ہیں کہ جو بوجوہ موجودہ پیپلز پارٹی سے مایوس تھے اور سمجھتے تھے کہ ذوالفقار جونئیر اپنی حرکات و سکنات کے اعتبار سے شہید بھٹو کا سیاسی وارث ثابت ہوگا۔ تاہم وراثت نکالی سے ثابت نہیں ہوتی۔ وراثت وہ ہوتی ہے جو اوصاف کی شکل میں نمایاں ہوتی ہے۔ بھٹو کے پاس بہت کچھ اپنا ، بڑا، نیا یا پھر جاری روایت سے ہٹ کر تھا۔ روایت سے متضاد چلنے کے لیے دنیا سے لڑنے کے برابر جرات اور بہادری کی ضرورت ہوتی ہے۔ روایت شکنی ہی بُت شکنی ہے، یہ بات سمجھو اور پھر بات کرو۔

ذوالفقار جونئیر میری نظر میں اپنے دادا سے بڑا روایت شکن ہے۔ جونئیر جس انداز میں منظر عام پر آیا وہ اس کی اوریجنیلٹی اور انفرادیت ہے۔ اور یہ شہید بھٹو کا وہ وصف ہے جو اس کے باپ میر مرتضی بھٹو میں بھی ایسا نمایاں نظر نہ آیا۔ شہید محترمہ میں بھی یہی اوریجنیلٹی اور انفرادیت تھی، سو وہ سیاست میں اپنا الگ مقام بنانے میں کامیاب رہیں۔ انہوں نے خاتون ہونے کے باوجود خود کو بھٹو کی سیاسی وارث ثابت کیا۔ یہ اس بنیاد پرست، بیٹا پرست معاشرے میں روایت شکنی کی بہت بڑی اور کامیاب مثال تھی۔ سطحی سوچ کے حامل لوگ جونئیر کی اسائنمنٹ کی وڈیو پر جو مرضی کمنٹ کرتے رہیں، پیپلز پارٹی کے مایوس پسماندہ پسماندگان جیسی مرضی مایوسی کا اظہار کرتے رہیں، میری ناقص رائے میں اس فقیر منش نعرہ ء درویش میں بہت بڑا طوفان چھپا ہے، جو اگر سیاست کی خواہش رکھے تو بڑے بڑے برجوں کو چٹکیوں میں اڑا کر رکھ دے۔ بلاول سے بے حد محبت ہے اور محترمہ کی صاحبزادیوں سے نہ صرف اُنس اور ہمدردی ہے، بلکہ ان کی ذہانت اور قابلیت کا معترف ہوں۔ ان میں ماں جیسی جرات ہے، ذہانت ہے، مگر یہ نعرہ ء مستانہ کرزما ہے، جادو ہے۔ سطحی سوچ اس کا تقابل اس کے باپ اور دادا سے فوٹو کاپی کی بنیاد پر کرنا چاہ رہی مگر اُس میں کچھ نیا یا بڑا نہیں ہوتا۔ وہ تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کوئی سیاستدان بھٹو صاحب کے ولولہ انگیز اور پر جوش انداز خطابت کے انداز سے متاثر ہو کر مائیک اُلٹانے لگے۔ تو کیا دوران تقریر ہر مائیک الٹانے والا بھٹو کا سیاسی وارث ہے؟ اگر میں اس کے جواب میں پاکستان کے جتنا بڑا نہیں لکھ لوں تو شاید پھر بھی دل کی تسلی نہ ہو۔

لوگ لکھتے ہیں اور میڈیا بیان کرتا ہے کہ وہ لوگ جو ایک عرصہ سے ذوالفقار جونئیر کو دیکھنے کے منتظر تھے کہ اس میں انھیں بھٹو سینئر نظر آئے گا ان میں بھٹو جونئیر کی وڈیو دیکھنے کے بعد مایوسی پھیل گئی ہے۔ ایسا سوچنے، لکھنے، پڑھنے والے صرف آنکھوں کے نہیں عقل و دانش اور سیاسی شعور کے بھی اندھے ہیں۔ میرا کوئی لالچ نہیں، کوئی ایجنڈا، کوئی آئیڈیل ازم نہیں، مگر میری ناقص رائے میں جونئیر گوہرِ نایاب ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں سردار، جاگیر دار، پشتینی سرمایہ دار، وڈیرہ، ملک، خان، نواب کوئی نام لیجیے، کوئی مثال دیجیے جہاں کسی نے خود کے لیے یا اپنے بیٹے کے لیے ایسا کوئی سبجیکٹ منتخب کیا ہو، کچھ روایت سے ہٹ کر مختلف سوچا ہو؟ لا، سیاسیات اور اب شاید کچھ عرصہ سے انٹرنیشنل ریلیشنز یا حد بزنس سٹڈیز جیسی تعلیم کے علاوہ کنویں کے مینڈکوں کو کوئی تیسرا چوتھا سبجیکٹ ہی نہیں سوجھتا اور انہی بڑوں کی نکل میں ان کے بعد شمار کیے جانے والے نسبتاً کم درجہ امرا یہی بات فخر سمجھتے ہیں اور سینہ تان کر بتاتے ہیں کہ ان کے بچے فلاں بڑی بین الاقوامی یونیورسٹی میں یہی سبجیکٹس پڑھ رہے ہیں۔ تھوڑا اور نچلے درجے پر آئیں تو یونیورسٹیوں کا لیول بتدریج نیچے آتا چلا جاتا ہے مگر مضامین یہی رہتے ہیں۔ گورے کی دو سو سالہ ذہنی غلامی کے سوا اس میں کچھ نیا، غیر روایتی یا بڑا نہیں ہوتا۔ مگر یہ لوگ بڑے کہلاتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ سوچ عامیانہ اور غلامانہ ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے عمران خان سے پہلے کوئی معروف بندہ جینز کی پینٹ کے نیچے کھیڑی پہننا پسند نہیں کرتا تھا۔ محمود خان اچکزئی اور کھر صاحب کے چادر لینے کا انداز پسند کیا جاتا تھا۔ روایت پسندی تھی مگر عامیانہ نہ ہونے کی وجہ سے پسند کی جاتی تھی۔ انھیں دیکھ کر بہت سے پنجابی اور پشتون نوجوانوں نے وہی انداز اپنایا۔ مگر یہاں صرف نایاب نہیں نیا بھی ہے، روایت شکن بھی ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، دنیا کے تمام تاریخ رقم کرنے والے بڑے لوگوں کے پاس کچھ اپنا، نیا اور روایات سے ہٹ کر تھا۔ ہماری بہن نوشین نقوی نے کہا کہ ذوالفقار جونئیر کی وڈیو پر ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھٹو کے مخالفین اس سے اب بھی خوفزدہ ہیں۔ جی بہن آپ نے درست فرمایا، مگر یہ بغضی لوگ بھی اپنی جگہ درست ہیں، یہ بیوقوف دوست نہیں جو ذوالفقار جونئیر کی وڈیو دیکھ کر بنا سوچے مایوسی کا اظہار کرنے لگے ہیں، یہ دانا دشمن ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دیکھ اور محسوس کر سکتے ہیں کہ ایسا غیر معمولی کرزمیٹک انسان کیا کیا کر سکتا ہے۔

ان کا خوف بجا اور چور کی داڑھی کا تنکا ہے، کہ جانتے ہیں کہ اس کا، چچا، دادا اور پھوپھی انہی لوگوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ چور ہیں تو درویش کی درویشی سے ڈرتے ہیں سیانے ہیں تو جانتے ہیں کہ مرتضی کی نامکمل اور کسی حد تک ناکام سیاست اور محترمہ غنوی بھٹو اسٹیبلش فیلئیر سیاست کے باوجود یہ وہ ہے جو مختصر ترین وقت میں کایا پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مالک کے کارنامے، بس مالک کا کریڈیٹ کہ جو غنوی بھٹو سی ناکام سیاسی شخصیت کے زیر اثر بھی ایسی غیر معمولی شخصیت بنا دیتا ہے۔ شاید اس کی بنیادی وجہ اس کا اور خون ڈی این اے ہے اور اگر ان دو باتوں سے ہٹ کر کوئی حتمی بات ہے تو وہ قدرت ہے۔ لوگوں کو مایوسی اور مجھے حیرت ہے، ذوالفقار جونئیر میری توقعات سے بڑھ کر ثابت ہوا ہے۔ میں بھی یہی عامیانہ سوچ رکھتا تھا بھٹو سینئر کا پوتا بھٹو جونئیر باپ اور دادا کی طرح جذباتی ہوگا، دلیر ہوگا اور دادا کی طرح ہی ذہین اور بڑا ہوگا۔ مگر وہ میری توقعات سے زیادہ ذہین، جراتمند اور بڑا ثابت ہوا ہے۔ ڈاکٹر شورو شہناز نے اپنی تازہ نظم میں جونئیر کو کیا زبردست ویلکم اور خراج تحسین پیش کیا ہے۔

ایک اور عشق!
ایک اور باغی ایک اور شاعر
ایک اور سرمست ایک اور دلبر
لاڑکانہ کی الست، لہو کی مہندی میں رچی مٹّی سے
خوشبو بن کر سوبہ سو، کو بہ کومہک رہا ہے
اعجاز منگی کا درویش بھٹّو
بےزبانوں کی صدا، بے نشاں راستوں پہ نشاں
درد مندوں کی دعا بن رہا ہے
حسن مجتبیٰ کی کلائی میں بندھے وہ رنگین دھاگے
جن سے بنتے ہیں، شاعر، عاشق اورشہید
ان رنگوں کی قوس وقزح سے
اک اور بھٹو اُبھر رہا ہے
ان کہی محبتوں کا شارح بن کر
نئے زمانوں کا پیامبربن کر
شہناز شورو
ڈاکٹر صاحبہ کی نظم میری مندرجہ بالا تمام تفصیلات پر بھاری ہے۔ اس خوبصورت کلام کے بعد نادان دوستوں اور دانا دشمنوں کے لیے صرف اتنا لکھنا چاہتا ہوں کہ میری یہ قطعی خواہش نہیں کہ شہید مرتضی بھٹو کا اکلوتا چشم و چراغ اس ملک کی سیاسی قتل گاہ میں دوبارہ داخل ہو۔ میری تو بلاول کے لیے بھی یہی خواہش تھی، ہے اور رہے گی کہ وہ بھی شہید رانی کی آخری نشانی ہے۔ وہ بھی سیاست میں نہ آتا۔ ہم بس ان مستانوں کو ہنستا کھیلتا اپنی مرضی کی زندگی جیتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس گھرانے نے بہت قربانیاں دے لیں، اپنا بہت خون بہا لیا، اب اگر یہ کام جمہوریت کے لیے ضروری ہے تو کوئی اور کرے۔ بہت ہو چکی، نہیں دیکھنی ہمیں اس گھرانے میں لاشیں۔ کوئی خواہش نہیں اس نایاب گوہر کو اُس مسند اقتدار پر بیٹھے دیکھنے کی جس کا انجام ہمیشہ ان کے خاندان کے قتل کی صورت سامنے آیا!

عمار کاظمی
عمار کاظمی
عمار کاظمی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ سماجی مسائل پر شعور و آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *