ڈاکو انکل۔۔ڈاکو والی تصویر۔۔۔۔منصور احمد خان مانی

انابیہ میرے کندھے سے لٹکی ہوئی جانے کہاں کہاں کی کہانیاں سنا رہی تھی ۔۔یک دم کہنے لگی بابا ڈاکو والی تصویر۔۔میں چونک گیا کہ یہ کیا کہا۔۔کہنے لگی بابا ڈاکو والی تصویر دکھائیں۔۔میں نے کہا کہ بیٹا ڈاکو کہاں سے آگیا میں فیس بک دیکھ رہا تھا۔۔ عمران حیدر کی تصویر پر انگلی رکھ کر کہنے لگی یہ رہے ناں ڈاکو انکل۔۔۔
ہنس ہنس کے میرے پیٹ میں درد ہو گیا اسی وقت میں نے عمران کو میسج کیا ہم۔دونوں ہی انابیہ کی اس حرکت پر دل کھول کر ہنسے انابیہ نے عمران کو اپنی آواز میں خوب مزے مزے کی بتائیں سنائیں جواب میں عمران نے خوب دعائیں دیں۔۔۔

انعام رانا نے کبھی مجھے کسی کی تحریر پر مینشن کیا اور کیا استاد تحریر میں مزاح چیک کریں میں نے تحریر پڑھی۔ اچھی لگی۔عمران سے شناسائی ہو گئی۔۔جانے کیوں عمران سب کے ساتھ بے تکلفی برتنے والا انسان میرے ساتھ بہت احترام سے پیش آتا۔میری تنقید اور رائے کو اہمیت دیتا ،جب کہ میرا دل چاہتا تھا کہ وہ میرے ساتھ بھی تکلفی برتے مجھ سے بھی ایسے ہی بات کرے جیسے دیگر سے کرتا ہے میں نے ایک بات اس سے کہا جس پر اس نے کہا انعام رانا آپ کو استاد کہتے ہیں۔ آپ نے کئی بار مجھے ٹوکا ہے سکھایا آپ میرے ٹیچر ہیں۔

تعلق کچھ ایسا جڑا کہ  کبھی کبھی بات کرتے، کبھی ایک دوجے کے اسٹیٹس پر رائے زن ہوتے۔فیس بک پر عمران کے اکثر کارٹون۔۔۔اسٹیٹس ایسے مزے دار ہوتے کہ  بس  دل خوش ہو جاتا۔ کبھی کبھی وہ اپنے اسٹیٹس میں فیس بکی دانشوروں اور دیسی لبرلز کی بینڈ بجاتا تو کبھی اپنے کارٹون میں  کسی سیاسی جماعتوں کی بھد اڑاتا۔۔ اس کی ہر تحریر سے میں  نے حظ اٹھایا۔۔ لطف لیا سوائے ایک تحریر کے جس میں اس نے اپنے قتل کی واردت لکھی تھی اس کو پڑھ کر کئی بار رویا۔ اس نے میسج کیا آپ کا ریحام خان والا اسٹیٹس کتاب لکھنے کا کیا لو گے چوری کر لیا ہے۔۔ میں کسی  مصروفیت میں تھا جواب نہیں دے سکا۔۔بد قسمتی۔۔۔آج فیس بک پر ایک اسٹیٹس پر نظر گئی۔۔عمران حیدر اب نہیں رہے۔۔۔ سوچا کیا بکواس ہے ۔۔ ۔۔۔۔
پھر پروفائل پر گیا ایسا کچھ نہیں تھا۔۔ انعام رانا کی وال پر گیا۔۔۔
آہ ۔۔۔!
انعام۔۔عمران اب نہیں رہا!!!!
کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ سب کیا ہو گیا۔۔ دل بیٹھ سا گیا۔۔۔
ہائے عمران تم بہت یاد آو گے۔
ابھی ایسے ہی میں نے انابیہ کو کہا
انابیہ تمہارے ڈاکو انکل چلے گئے!
جانے کس جلدی میں تھی کہنے لگی
وہ کام پر گئے ہیں کل کو آ جائیں گے!!!

کاش آ جائیں۔۔۔!

منصور مانی
صحافی، کالم نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *