• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عمران خان پہ کی جانے والی تنقید کا عقلی جائزہ۔۔۔۔محمد منیب خان

عمران خان پہ کی جانے والی تنقید کا عقلی جائزہ۔۔۔۔محمد منیب خان

ہر طرف سے حکومت پہ شدید سیاسی تنقید کی گھن گرج، اپوزیشن اور میڈیا کے منہ سے اگلتے آتشی لفظوں کی تپش سے جھلستی حکومت، اپنے بیانات کو لطائف کا رخ دیتے وزرا، اکّا دکّا غلط بیانی اور اس پہ فوری معافی اور اس سب پہ مستزاد آہستہ آہستہ اپوزیشن کے مزاج سے نکلتے موجودہ حکومتی وزرا۔ یقیناً یہی سب کچھ ہے نئی نویلی حکومت کے ابتدائی چند روز کا خلاصہ۔ پرانی حکومت کا جانا اور نئی حکومت کا بننا یوں تو ایک معمول کا سلسلہ ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک میں بظاہر تیسری جمہوری حکومت کا قیام ایک غیر معمولی واقعہ لگ رہا ہے۔ اس کے غیر معمولی ہونے کے پیچھے چند  کئی   محرکات ہیں۔ ایک تو واضح طور پہ یہ کہ پاکستان میں پہلی بات دو بڑی جماعتوں کے علاوہ کوئی تیسری  جماعت برسر اقتدار آئی۔  دوسری بات غالباً یہ کہ یہ جماعت جس عمل کے نتیجے میں اقتدار تک پہنچی وہ سارا عمل بذات خود ایک معمہ بنا۔

ہم میں سے بہت سے خوش ہیں کہ جس جماعت کو وہ سپورٹ کرتے ہیں وہ جیت گئی، بعض نا خوش ہیں کہ ان کی جماعت کیوں ہار گئی۔لیکن معدودے چند ایسے بھی یقیناً ہیں جو انگشت بدنداں ہیں جب کہ دنیا اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اختتام کے نزدیک ہے اور اب چاند سے مریخ تک پہ کمند ڈالی جا رہی ہے لیکن ہمارے ملک میں صرف انتخابات کے لیے ایک نظام بنایا جاتا ہے وہ نظام عین انتخابات کے دن اپنے مقصد کو پورا کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ عرف عام میں کہہ دیا گیا کہ ایپلیکیشن “بیٹھ” گئی۔ اور سب جمہوریت کی بقا کے لیے اس “بیٹھی” ایپلیکشن کے نتائج کو تسلیم کر کے آگے بڑھ رہے ہیں۔ تو یقیناً کچھ عام حلقوں کے لیے یہ بات قابل فکر ہو گی کہ عوام نے چاہے جس کے حق میں بھی ووٹ کا استعمال کیا اس جماعت کی جیت یا دوسری جماعت کی ہار دونوں ہی داغ دار ہوئے۔ اس داغ نے بھی جمہوری حکومت کے تسلسل کو غیر معمولی واقع بنا دیا۔

تیسری اور سب سے اہم بات کہ اس انتقال اقتدار کے بعد جو جماعت برسراقتدار آئی ہے اس کے لیڈر کے گذشتہ آٹھ سال کے بیانات بالخصوص اور پارٹی کے روز قیام سے آج تک کے بیانات کا بالعموم جائزہ لیا جائے تو ان سب سے کوئی ادنیٰ فہم کا آدمی بھی یہی نتیجے نکالے گا کہ اب سیاسی اخلاقی اقدار اپنی انتہائی شکل میں سامنے آئیں گے کیونکہ یہی وہ بنیادی چیز تھی جو پچھلی ہر حکومت میں غائب تھی۔ اس جماعت کے لیڈر نے گذشتہ حکومت کی ہر بات پہ جواز فراہم کرتی تنقید کے ساتھ ساتھ بلاجواز تنقید کر کے عوام کو عظمت کے ایسے میناروں کے خواب دیکھا دیے جن پہ عملداری یقیناً اس ملک کے سیاسی نظام میں کسی طور ممکن نہیں۔ انسان کے آئیڈیلزم ہونے پہ کوئی مسئلہ نہیں۔ انسان کو آئیڈیالسٹ ہونا چاہیے لیکن کیا انسان کو کچھ “رئیلسٹ” بھی نہیں ہونا چاہیے؟ خاص کر حکمرانوں کو زیادہ حقیقت پسند ہونا چاہیے۔ حکمرانوں کو کیوں حقیقت پسند ہونا چائیے کیونکہ دنیا میں مثالی حکومت کا قیام اب ممکن ہی نہیں رہا۔ جب آپ بائیس کڑوڑ لوگوں پہ حکومت کریں گے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ ساری خلقت آپ سے خوش ہو۔ میں اپنی اس بات کی دلیل میں صرف ایک مثال دوں گا کہ آسڑیلیا غالباً کم ترین کرپشن کرنے والے ملکوں میں تیرھویں نمبر پر ہے لیکن وہاں کی حکومت پہ بھی عوام کی طرف سے تنقید ہوتی ہے۔ 

لیکن چونکہ موجودہ صاحب اقتدار جماعت نے گذشتہ حکومت کی ہر بات کو گالی بنا کے پیش کیا۔ پچھلے وزیراعظم ہیلی کاپٹر پہ گئے تو تنقید، سکیورٹی پروٹوکول میں گئے تو تنقید، باہر سے علاج کروایا تو تنقید، کوئی نیب زدہ ہوا تو تنقید ۔ اس سب تنقید کے بعد جب خود حکومت میں آئے تو ساتھ ہی سادگی کا ایک لمبا چوڑا ایجنڈا دیا لہذا ہر کوئی یہ توقع کرتا تھا کہ اب وہ سب کچھ نہیں ہوگا جو پہلے ہوتا رہا۔ لیکن اس کے برعکس اب ان باتوں کی توجہیات دی گئی تاویلیں گھڑی گئیں۔ کہا گیا سڑک بند کرنے سے بہتر ہے کہ بندہ  ہیلی کاپٹر سے چلا جائے۔ تو بھائی کیا پچھلوں نے ایسا نہیں سوچا تھا؟ کہا گیا کہ ہیلی کاپٹر بہت سستا ہے۔ تو بھائی اگر اتنا ہی سستا ہے تو پچھلوں کے غیر ضروری استعمال پہ بھی تنقید کیوں ہوتی رہی؟ کہا گیا کہ فلاں نااہل ہے۔ لیکن آپ کی حکومت سازی میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والا بھی تو اسی عدالت سے نااہل ہے نا۔ کہا گیا کہ فلاں فلاں بہت بد تمیز تھا۔ تو آپ کی حکومت نے کونسے لکھنو سے آداب گفتگو سیکھے وزرا لگا دیے ہیں۔ کوئی  شخص ایک نئی کمپنی میں ملازمت لے تو اس کو اس اداراے کو سمجھنے میں وقت لگ جاتا ہے آپ نے پہلی بار منتخب ہونے والی ایم پی اے کو سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلی لگا دیا۔ تو سوچتے رہے کہ کوئی تنقید نہ ہو۔ آپ نے موروثی سیاست کے خلاف علم بغاوت بلند کیے رکھا لیکن پھر پرویز خٹک کے خاندان سے چار لوگ قومی اسمبلی میں پہنچ گئے اور دو مزید ضمنی الیکشن کے ذریعے صوبائی اسمبلی میں پہنچنے کو تیار ہیں۔ آپ نے کہا کہ پچھلے حکمران عوام سے جھوٹ بولتے تھے لیکن حکومت سنبھالتے ہی امریکی سفیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو بارے آپ نے بھی سچ نہیں بتایا۔ آپ نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے اداروں کو سیاسی بنا دیا لیکن آپ کے وزیراعلی نے بھی رات ایک بجے ڈی پی او کو معطل کیا اور وہ بھی سیاسی وجہ سے۔ یہ ساری باتیں اور اس جیسی  بہت سی مزید باتیں جو اتنی گھس پٹ گئی ہیں کہ ان کا ذکر کرنا بھی شاید ضروری نہیں کہ اب وہ سب باتیں آپ کا رومانس بن چکی ہیں اور رومانس میں کوئی ڈاکو ہو کوئی چپڑاسی یا کوئی کسی شہر کی قاتل جماعت سب ہی پیارے لگتے ہیں۔ آخر رومانس جو ہوا۔۔

ایک بات میں صدق دل سے سمجھتا ہوں کہ ابھی تک موجودہ حکومت پر کوئی ایسی تنقید نہیں ہوئی جس کا تعلق قلیل مدتی یا طویل مدتی ایجنڈے سے ہو۔ ابھی تو صرف ان باتوں پہ تنقید ہو رہی ہے جو آپ کی شعلہ بیانی کیوجہ سے حکومت کے گلے پڑے ورنہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں پچھلی حکومتوں پہ ان باتوں پہ تنقید نہیں ہوئی کیونکہ ان کے دعوے اتنے بلند و بانگ نہیں تھے۔ ان کے دعوے چھوٹے تھے کہ ملک سے اندھیرے مٹائیں گے۔ دہشت گردی کی عفریت سے نجات دلائیں گے۔بلوچستان کو قومی دھارے میں لائیں گے۔ اور اقتصادی ترقی کی داغ بیل ڈالیں گے لہذا ان کو اس قسم کے مسائل کا سامنا نہیں رہا یہ مسائل آپ کے بیانات کے پیدا کر دہ ہیں اور یہ تنقید آپ کی اس مثالی سوچ سے جنم لیتی ہے جو آپ نے ہر پاکستانی کو دینے کی کوشش کی۔ اب پیچھے مت ہٹیں۔ اور مثالی حکومت ثابت کریں اس کے لیے توجہ نرگس اور میگھا سے ہٹا کر عام عوام پہ لگائیں کیونکہ دراصل اس کا مستقبل داؤ پہ لگا ہوا ہے۔

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *