چاند پر چاند ماری

. بیچارے چاند سے چاندماری
ابنِ فاضل
عید آنے کو ہے اورہمیں بیچارے چاند کی فکر لگی ہے ۔ کیسی کیسی چاندماری اورچاندگردی نہ ہوگی، پھراس کے ساتھ ایک زمانہ تھا چاند کی چاندی تھی کہ بھلاچاند کی دید کو بیتاب ڈھیروں چاند بذات خود ایڑھیاں اٹھائے چھتوں پر منور ہوتے ۔چاند کی بے رخی اور چاندوں کی بے کلی دیدنی ہوتی۔ بخدا چاند کی دید کا لطف دو چند ہو جاتا۔ پھر وقت بدلا اور سرکار نے تلاش بسیارِ چاند، چند، چندرمکھ مفتیان کرام کے ہاتھ دیدی ۔ شروع میں تو چنداں دشواری نہ ہوئی۔مگر چند سال چند درچند یہ سلسلہ جو چلا تو ایک طرف سے چند ،سائیں چند بھی بیچ میں کود پڑے اور لگے نئے نئے چاند چڑھانے۔ اتفاق سے یہ چندِ ماہتاب بھی مفتیانِ کرام ہی ہیں۔ یہ مفت کے مفتیان بولے کہ ہمیں زیادہ سمجھ ہے کہ چاند کب اور کیسے نکلتا ہے اور کیسے دکھائی دیتا ہے ۔
بس جب سے دونوں گروہانِ مفتیان کی ٹھنی ہے کہ چاند کون چڑھائے۔ گروہِ اول کو یہ ذمہ داری سرکارنے دےرکھی ہے۔ جبکہ گروہِ ثانی کے پاس اپنا”ثواب دیدی”اختیار ہے۔ گروہِ اول کی معاونت محکمہ موسمیات کرتا ہے جبکہ گروہِ ثانی کی گرہ میں معدودے چند گواہان جو قبل از ظہورو طلوعِ چاند ہی چاند کے دیدار کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ حاسدین مگر ایسی چہ میگوئیاں کرتے ہیں کہ یہ گواہان عارضہ “زود دید چاند “میں مبتلا ہیں۔ صرف یہی نہیں وہ تو یہاں تک ہرزہ سرائی کرتے ہیں یہ بیماری دراصل ایک مخصوص “دوائی “کی “چٹکی”کے مسلسل زیرِاثررہنے سے پیدا ہوتی ہے کہ جس کا استعمال ان کے علاقے میں عام ہے،اور اس کے استعمال کنندگان ایک مخصوص شاعرانہ مسرورانہ کیفیت میں رہتے ہیں جس کے باعث کہیں بھی کسی بھی وقت دعویٰ دیدارِ چاند عین ممکنات میں سے ہوتا ہے۔
ہمیں اس بات میں کچھ وزن یوں دکھائی دیتا ہے کہ لاکھوں کی آبادی میں صرف درجن بھر دیدہ وروں کو ہی دیدِ چاند کیوں نصیب ہوتی ہے۔ ہم نے جب اس اندیشہ کی مزید جانچ کیلیے اپنے ایک سائنسدان نما دوست سے رابطہ کیا تو اس نے کہا کہ یار بڑی ہی ظالم “دوائی”ہے بلکہ دوائی کیا دہائی ہے دہائی ۔کہنے لگا کہ یکبارگی میں نے کسی شناسا سے لیکر چٹکی زیرِ زبان کیا رکھی، بخدا دن میں تارے نظر آگئے۔ اس کی گواہی سے ہمارا یقین کچھ اور بڑھا کہ کوئی نہ کوئی تعلق تو بہرحال ہے اس “دوائی ” کی چٹکی اور اجرامِ فلکی کی دید میں۔ گویا ایک دفعہ چٹکی لینے سے اگر دن میں تارے دکھائی دے سکتے ہیں تو روزانہ کا استعمال سرِ شام چاند کیوں نہیں چڑھا سکتا۔ بلکہ ہم تو متاسف ہیں کہ گھامڑ “ناسا”والوں کا دھیان اس طرف کیوں نہ گیا کہ ایک ایک چٹکی فی سائنسدان اورہر طرف ستارے ہی ستارے۔ ہو سکتا ہے وہ اس کے خواص سے متاثر ہو کر اس دوائی کا نام ہی “ناساوار” رکھ دیں۔
اب اگر ان مفتیانِ کرام کی چاند سے حد سے بڑھی بے تکلفی کا جائزہ لینے کی کوشش کریں تو تین بڑے اہم عوامل دکھائی دیتے ہیں ۔ اول یہ کہ ہم پاکستانیوں کو بچپن سے ہی چندا ماموں، چندا ماما کا ورد کروا کر یہ باور کروا دیا جاتا ہے کہ خیر ہے اپنا ماموں ہی چاند لگا ہوا ہے۔اور ہمارا حق ہے کہ ماموں کو جب چاہیں جیسے چاہیں استعمال کر یں نیز اگر ماموں کی دید کے دعویٰ سے لوگوں کو ماموں بھی بنایا جاسکتا ہے تو کیا حرج ہے ۔
دوم اس بات کا بھی احتمال ہے کہ وارفتگیِ چندا ،چندا کو چندہ سمجھنے کی وجہ سے ہو کہ بہر حال چندہ اور مفتیان کرام کا تعلق دیرینہ ہے۔ تیسرے اس ستیزہِ من و تو میں اس بڑھیا کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے کہ جو ایک زمانے سے وہاں چرخہ کات رہی ہے۔ اب رہنے بھی دیں۔میں یہ تھوڑا ہی کہہ رہا ہوں کہ مفتیان کرام اتنے کور ذوق ہیں۔ میرا تو مطلب ہے کہ وہ کروڑوں ڈالر کا سوت جو اب تک وہ کات چکی ہے۔ سائنسدانوں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ چاند اپنے محور میں گردش کرتے ہوئے ایک سال میں زمین سے ڈیڑھ انچ پرے ہٹ جاتا ہے ۔اور ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ کئی سالوں میں بھی یہ مفتیانِ کرام چاند پر اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے ۔آفرین ہے اس ثابت قدمی پر۔
ہم فکرِ بے توقیری چاند میں غلطاں کسی جگہ تشریف فرما تھے کہ عالمِ تصور میں ہماری اس سے مڈھ بھیڑ ہوگئی ۔یہ پیلا رنگ اور رخِ نیم روشن پہ بڑے بڑے گڑھے ۔حزن وملال میں زیرِ لب یہ گا رہا تھا ۔
“چڑھایا ” مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
خیریت پوچھنے پر بولا عید پر جو میرے ساتھ ہونے کو ہے مجھے تو سوچ سوچ کر ابھی سے ہول پڑ رہے ہیں ۔سوچتا ہوں کسی بلیک ہول کو ہی پیارا ہو جاؤں ۔کہ “نہ ہوگا چاند نہ ہوگی چاند ماری ” ۔ میں نے کہا میرے چندا ،چنداں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ برا وقت ایسا کونسا چار کونے کا چاند ہے جو پہلی بار نازل ہوا ہے ۔اور تم سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ “مدوجذر”زندگی کا حصہ ہیں۔ تمہارے بنا تو ہماری ہر رات اماوس ہوگی ۔ بجلی پہلے ہی نہیں آتی۔ بولا میرے نہ ہونے کا نقصان تو بس اتنا ہوگا کہ کچھ لوگ بے ماموں رہ جائیں گے ،یا کچھ جوانوں کوان کی ماؤں سے یہ طعنہ سننے کو ملے گا “ہون ایہہ کیہہ سورج چڑھا دتا ای” یا زیادہ سے زیادہ کچھ شاعری کو گرہن لگ جائے گا۔ جیسے یہ جو شعر ہے
ساری رات تیرا تکیا میں راہ
اینا تاریاں توں پچھ چن وے
یہ پھر یوں ہی لکھنا ہوگا
ساری رات تیرا تکیا میں راہ
اینا تاریاں توں پچھ اسلم وے
ایسی بات نہیں ۔پیارے چندا ماموں، آپ کی وجہ سے زمین اپنے محور میں بارہ درجہ جھکی رہتی ہے ۔جسکی وجہ سے ہمارے سارے موسم ہیں۔ اور ہماری زمین ایک یکساں رفتار سے بنا جھٹکوں کے سورج کے گرد گھومتی ہے ۔ پھر سمندری حیات اور لاکھوں لوگوں کی زندگیاں سمندروں کے جواربھاٹا سے جڑی ہیں۔ جس کی وجہ بھی آپ ہیں۔ آپ کی وجہ سے ہماری راتیں منور اور پر رونق ہیں۔ آپ کے بنا ہماری آدھی شاعری اور ایک چوتھائی محاورے ختم ہو جائیں گے ۔ آپ دھیرج رکھیں ،ہمارے سائنسدانوں نے ایک بڑی حوصلہ افزاء بات بتائی ہے ،اور وہ یہ کہ صرف چھیانوے کڑور سال کے بعد آپ زمین سے اتنے دور ہو جائیں گے کہ کسی کو نظر نہیں آئیں گے ۔اس وقت یہ مفتیان کرام نہ آپ کو پریشان کر سکیں گے اور نہ ہم عوام کو۔ بس اب خوش ۔۔۔۔۔

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *