بڑی دنیاؤں کے درمیان تیسری دنیا/جاوید خان

بڑ ی دُنیاؤں کے درمیان تیسری دُنیا ۔
تحریر۔جاویدخان!

جنگوں کی تاریخ لمبی اور پرانی ہے۔حیران کُن بات یہی رہے گی کہ انسان نے ہمیشہ انسان کے خلاف جنگ لڑی ہے۔جنگوں کی ہولناکیوں میں لاکھوں کروڑوں انسان کھپ رہے ہیں ۔جنگ عظیم اول اور دوئم توہمارے تاریخی صفحات میں پوری طرح سے آراستہ ہیں۔قدیم قبیلائی معاشرہ نیم اشتراکی معاشرے میں کب تبدیل ہوا۔۔؟قبیلوں کی جنگیں ایک دوسرے کی املاک پہ قبضہ،کسی قبیلے کی پُر بہار زندگی سکون کی لہریں لے رہی ہوتی کہ اچانک کہیں سے دھول اُڑتی نظر آتی پھر آن کی آن میں خیمہ بستیاں اُجڑ جاتیں۔وسط ایشیا سے سخت کوش و جنگجو آرین نے موہنجوداڑو اورہڑپا کے دراوڑ جو آج کہیں شودر کہلاتے ہیں، کو جلا وطن کیا ،ان جیسے بیسیوں قبائل اِس ہند کی مٹی پہ آباد ہوئے ہوں گے،آ ج و ہ کہاں ہیں؟

tripako tours pakistan

آرین پھیلے اور خُوب پھیلے یہاں تک کہ قدیم فارس آرین کے نام پہ ایران ہوا۔دُنیا کی بڑی زبانیں آریائی خاندان سے ہیں جن میں موجودہ حکمران انگریزی بھی ہیں، قبل از اسلام عرب قبائل کی خاندانی جنگیں نصف صدی تک چلتی تھیں۔گُھڑ دوڑ، پانی،سبزہ،خوراک ذرہ سی با ت پہ تلواریں نکل آتیں،پھر نیا موں سے صدیوں تک آزاد رہتی۔قدیم ترین شاعری کی شکل رجزیہ کلام ہے۔جنگ وجدل کامیدان،سورماؤں کے کارنامے،جہاں بہادر زندہ دلی سے مرنے آتے تھے۔قدیم شاعری کے نمونے اور آج کی رومانوی شاعری کو دیکھ کر ڈارون صاحب کا فلسفہ سچ لگتا ہے۔کیا قدیم ترین انسانوں میں تلوار،شراب کے علاوہ بھی کوئی جذبہ تھا۔؟قدیم آرٹ کے زندہ نمونے انسانی تخلیق کی معراج ہیں۔شایدماضی بعید ترین میں رومانیت بھی کسی تلوار او ر سورما کے جوشیلے رنگ میں چُھپی تھی۔

مَنٹو نے کہا تھا ”دُنیا کی تمام جنگوں کے پیچھے دوطرح کی بھوک چھپی ہے ،ایک جنس او ر دوسری پیٹ کی“۔ٹرائے کا عظیم شہر صرف اس لیے اُجڑ گیا تھا کہ اک شہزادے نے اک دوست بادشاہ کی بیوی کو بھگا لیا تھا۔قدیم آریا ہندوستانیوں اور دیگر ملکوں کو کیوں اُجاڑتے رہے؟۔عرب پانی اور نخلستانوں کے لیے ہی کیوں خُون بہاتے رہے؟،لفظ بربریت کا قدیم بربروں سے کیا ناطہ؟،دوسری جنگ عظیم میں ایک اندازے کے مطابق 60سے80ملین افراد لقمہ اجل بنے۔سوا کروڑ صرف فوجی تھے۔یوں دوسری جنگ عظیم کے اس ہولناک سانحہ میں کل دنیا کی آبادی کاتین فیصد انسان جنگ کی نذر ہوا۔جبکہ پہلی جنگ عظیم میں کل 83ملین افراد کام آئے جن میں فوجیوں کی تعداد10ملین تھی۔

80کی دہائی تک روس اور امریکہ اک سرد جنگ کی کیفیت میں تھے کہ پھر آمنے سامنے والی کہانی ہوگئی جس کاانجام ہمیشہ ”یا تُم نہیں یا پھر ہم نہیں“ رہا۔ لیکن اچانک گورباچوف نے کہا ”چلو چھوڑو تم ہی رہو ہم جاتے ہیں“۔مگر اس وقت تک2ملین سویلین ہلاک ہو چکے تھے مگر روس کے جانے کے بعد بھی اس کارخیر میں ہم خود مصروف رہے۔شمالی اتحاد اور طالبان کی خانہ جنگی دونوں طرف کی شہادتو ں میں اضافہ کرتی رہی ،9/11کے بعد سے آج تک پونے دولاکھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔شام کی حالیہ خانہ جنگی میں دو لاکھ افراد مارے گئے۔عراق امریکہ جنگ میں بقو ل امریکیوں کے صرف 561000 عام عراقی شہری مارے گئے مگر کچھ دیگر ذرائع مان نہیں رہے، اُن کے نزدیک یہ عدد 500000 تک ہو گا۔بوسنیا ء میں جاری نصف صدی کی جنگ میں 5.4 ملین افراد سے زندگیاں چھین لی گئیں۔

آرنلڈ ٹوائن۔بی1889میں پیداء ہوئے۔معروف تاریخ دان ہیں،برٹرینڈ رسل اور آئن سٹائن کے عہد کے دانشور تصور کیے جاتے ہیں۔دائیسا کو اکیدا، جاپان سے ہیں اور اک بُدھ تنظیم ”سوکا گکائی“ کے سرگرم رکن اور صدر رہ چکے۔دائیسا کو اکیدا دُنیا بھر کے لوگوں کے درمیان نظریہ امن کا پُرچار کرنے والے رہے۔وہ اُس بدھ طبقے سے نہیں جو روہنگیا مسلمانوں کو مشق ستم بنا ئے ہوئے ہے۔ ٹوائن۔بی اور دائیسا کو اکیدا ء کے درمیان بارہا مقالمہ ہوا۔جس میں بشریا ت، ماحولیا ت، عقلیات، مشرق و مغرب،سماجیات، اقتصادیات اور مذہب زیر بحث رہے ہیں۔ٹوائن۔بی اور اکیدا کے درمیان سوالات و جوابات کو آکسفورڈ پریس نے کتابی شکل دے کر 1993ء میں شائع کیا۔ٹوائن۔بی کے نزدیک ”بنی نوع انسان کی سب سے اہم قدر مشترک اس کی انسانیت ہے۔جب معاشرہ دانشور اور عوام النا س میں تقسیم ہو جاتا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو جاتے ہیں تو یہ سماج کی ”خرابی صحت“کی علامت ہے“۔اکیدا او رٹوائن۔بی اس بات پر متفق ہیں کہ اب جنگ کرہ ارض پر انسانیت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ٹوائن۔بی کے نزدیک اقتصادی پہلوؤں سے جنگ سب سے مہنگا اور بڑا خطرہ ہے۔انسانیت کو اپنی بقا کے لیے کافی تگ و دو کرنی پڑے گی۔

جوہری قوت کا صرف پُرامن استعمال ہونا چاہیے۔دائیسا کو اکیدا کاکہنا ہے کہ روس، امریکہ، چین جیسی بڑی بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ اور مخالفت کی وجہ سے ایشیا اور دنیا کے دوسرے حصوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو خطرے کا احساس ہے؟۔ٹوائن۔بی کا جواب ہے کہ اس معاملے میں چاہیے جتنی بھی کو شش کرلیں مگر نادانستہ یہ ممالک اس دلدل میں ضرور پھنسیں گے۔ ٹوائن۔بی کا خیا ل ہے کہ آبادی کے بڑھنے کی شرح کو کم کرنے اور مذہب کا احیا ء کر کے معاشرے کو ایک پُرا من مقام دلوایا جاسکتا ہے۔ دوسرا تمام ممالک صرف اپنے دفاع کی حد تک پولیس نما فورس رکھیں اور قاتل ہتھیار ضائع کردیں۔اکیدا ء تھوڑا غیر معروف دانشور ہیں کم از کم ہمارے نصابوں یا تحریروں میں نہیں ملتے البتہ ٹوائن بی کے حوالے موجود ہیں۔

حال ہی میں امریکہ نے افغانستان میں جنگجوؤں کے خلاف ایک مہلک ترین بم استعمال کیا جسے ”بموں کی ماں“کہا جاتا ہے۔یہ بم کئی ایک مربع کلومیڑتک دُشمن کا صفایا کر دیتا ہے۔بات ماں تک ہی رہتی تو کچھ گزارا کرلیتے۔روس جو فی الحال دوسری سُپر پاور ہے،کے ہاں بالکل ایسے ہی کسی ہتھیار کی خبر آئی ہے جس کو ”بموں کا باپ“کا نام دیا گیا ہے۔شمالی کوریا نے جب کہا کہ اُس کے پاس ہائیڈروجن بم ہے تو امریکہ نے کہا بالکل جھوٹ ہے۔ہمارے عظیم تاریخ دان اور دانشور ٹوائن بی کے مقابلے میں پُر امن بدھ دائیسا کو اکیدا زیادہ پُر امید ہیں کہ تیسری عالمگیر جنگ نہیں ہوگی۔اگر چہ دُنیا کے پاس ایٹم بم،ہائیڈروجن بم، کروز مزائل ہیں۔مگر ”بموں کی ماں“ اور ”بموں کے باپ“ موجود ہیں تو یہ مزید صاحب اولاد تو ہوں گے ہی۔اگر کہیں ”بموں کا دادا“پھر ”پڑ دادا“ نکل آیا تو تیسری دُنیا کا کیا ہو گا۔۔؟

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *