پہاڑوں میں کھلا گلاب /عامر عثمان عادل

اسلام آباد سے کھاریاں کا رخت سفر باندھا ،جونہی سوہاوہ کے سنگلاخ پہاڑ گذرے تو القادر یونیورسٹی کے بورڈ پہ نظر پڑی اور بے اختیار گاڑی کا رخ ادھر کو مڑ گیا
ایک عرصے سے اشتیاق تھا اسے دیکھنے کا
چیک پوسٹ پہ تعینات اہلکار کو اپنا تعارف کروایا جس نے اجازت کے لئے انتظامیہ سے رابطہ کیا
اذن ملا تو گاڑی ڈھلوانی سڑک پہ خود ہی پھسلنے لگی
خوش اخلاق گارڈ نے رہنمائی کی وہ سامنے ایڈمن بلاک ہے
عملے کا ایک اور رکن لپکا خوش آمدید کہتے ہوئے ایک دفتر کا دروازہ کھول کر بیٹھنے کو کہا ٹھنڈا پانی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ڈائریکٹر صاحب مصروف ہیں انتظار کیجئے
تھوڑی ہی دیر میں ایک خوش قامت و خوش اطوار شخصیت کمرے میں داخل ہوئی انتہائی تپاک سے ملے جیسے دیرینہ شناسائی ہو پتہ چلا یہ جامعہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد الرحمن ہیں
اسی دوران چائے آ چکی تھی
میں کسی متجسس بچے کی مانند اپنی تشنگی مٹانے کو سوال پہ سوال کرتا چلا گیا
اور رئیس جامعہ ایک ایک کر کے گرہیں کھولتے گئے
پتہ چلا یہ یونیورسٹی عمران خان کے دیرینہ خواب کی روشن تعبیر ہے جس کے سوتے نمل میانوالی سے پھوٹتے ہیں
یونیورسٹی میں بی ایس اسلامک سٹڈیز اور بزنس ایڈمنسٹریشن کی کلاسز شروع ہیں جن کا چھٹا سمسٹر ختم ہونے کو ہے گویا اس دانشکدے کو آباد ہوئے تیسرا سال ہے
ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں پاکستان کے سارے صوبوں کے گل ہائے رنگا رنگ مہکتے ہیں
طلبہ و طالبات کی غالب اکثریت سو فیصد اسکالر شپ پہ زیور علم سے خود کو آراستہ کر رہی ہے
لڑکے اور لڑکیوں کے الگ الگ ہاسٹل کیمپس ہی میں موجود ہیں
دین متین کی تعلیمات کو زبردستی مسلط کرنے کی بجائے بچوں کی تربیت اور کردار سازی حکمت و شفقت سے کی جاتی ہے کہ ان کی طبیعت خود ہی مائل بہ اصلاح ہو جائے
ماحول اور تربیت کا اثر یوں ہوا کہ ساری طالبات نے حجاب اوڑھ لیا
ایک عام تاثر یہ تھا کہ شاید یہاں صرف تصوف کی تعلیم ہی دی جاتی ہے
پتہ چلا کہ دین اصل اساس ہے تصوف اس کا ایک جزو
بچے سائینس پڑھیں یا اسلامیات ان کی کردار سازی ایسی ہو کہ مادہ پرستی کے اس دور میں اسلام اور سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سانچے میں ڈھلے نوجوان معاشرے کو اپنے عمل کی خوشبو سے معطر کر دیں
قرآن و حدیث فقہ و تاریخ اور جدید علوم کے ذخیرہ کتب سے آراستہ لائبریری ، جدید ترین سسٹم لئے کمپیوٹر لیب ، مربوط ڈیٹا بینک ، مزین آڈیٹوریم اس جامعہ کا خاصہ ہیں
اگرچہ گرما کی تعطیلات کے باعث طلبہ کی غالب اکثریت گھروں میں تھی تاہم چند کلاسز جاری تھیں
جہاں طلبہ و طالبات کامل توجہ سے محو تدریس تھے
ڈاکٹر صاحب کی گفتگو جاری تھی اور میں سراپا اشتیاق وقت تو جیسے تھم سا گیا تھا پتہ بھی نہ چلا اور پورا گھنٹہ بیت گیا
جامعہ کے جواں سال انچارج ہیومن ریسورس عدیل صاحب نے مجھے کیمپس کے تمام شعبوں کا وزٹ کروایا

Advertisements
julia rana solicitors

واپس جاتے ہوئے نظر پڑی سرسبز لان میں اس یونیورسٹی کے بانی کے نام کی تختی نصب تھی
بے اختیار ایک ہوک دل سے اٹھی کہ بے آب و گیاہ پتھروں میں علم و آگہی کا شہر بسانے والا اس جرم میں پابند سلاسل ہے
پہلے اس مقدمے کا عنوان القادر ٹرسٹ رکھا گیا جسے بعد ازاں 90 ملین پاونڈ کیس میں تبدیل کر دیا گیا
شاید ہی دنیا کی تاریخ میں ایسی انوکھی کرپشن کسی نے کی ہو
جی ہاں
بنجر زمینوں اور پہاڑوں میں گلابوں کی پرورش
ایک ایسی یونیورسٹی کا قیام جہاں نسل نو کو اسلام کے ابدی اصولوں اور سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی روشنی میں کردار سازی کا ماحول میسر آ جائے
کتنا بڑا جرم ہے یہ
اب اس کی سزا تو اسے پانا ہے
دم رخصت اونچی سڑک سے دور نیچے ایک پرشکوہ عمارت پہ الوداعی نظر پڑی تو خیال آیا
خطہ پوٹھوہار جو راجوں مہاراجوں اور بادشاہوں کی نظر التفات کا مرکز رہا ہے
اس کی تاریخ میں ایک روشن باب کا اضافہ یوں بھی ہونا تھا
حاکم وقت نے یہاں قادر مطلق کے نام سے علم کا شہر آباد کر دیا
اور پھر وقت کے فرعونوں نے اس جرم کی پاداش میں اسے کال کوٹھڑی میں ڈال دیا
واپس تو آ گیا ہوں مگر اپنا دل القادر یونیورسٹی کی راہداریوں میں ہی چھوڑ آیا ہوں
پاتے ہیں کچھ گلاب پہاڑوں میں پرورش
آتی ہے پتھروں سے بھی خوشبو کبھی کبھی
عامر عثمان عادل

Facebook Comments

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply