اسلام اور جمہوریت

تاریخ انسانی میں ریاست اور مملکت کے وجود کے ساتھ ہی ریاست کے بہترین انتظام،عوام کی فلاح و بہبود اور آزادی کے نئے نئے تصورات اور نظریات بھی عام ہونے شروع ہو گئے۔ انسانی فلاح وبہبود اور آزادی کے ہر تصور و نظریے میں اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ ریاست کا نظام ان خطوط پر استوار ہونا چاہئیے کہ جس میں ریاستی باشندوں کو ہر طرح کی سہولت اور آزادی فراہم کی جائے، عوام کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔ جمہوریت بھی اسی غور و غوض کی داستان کا ایک باب ہے جو نہ صرف یہ کہ اس وقت دنیا کا سب سے مقبول ترین نظام حکومت ہے بلکہ آج کی تاریخ میں مختلف ریاستوں اور ممالک کے سفر انقلاب کو اگر ایک سطر میں بند کیا جائے تو وہ شخصی حکومت یعنی آمریت اور بادشاہت سے عوامی اقتدار یعنی جمہوریت کا سفر ہی ہے۔جمہوریت کو سادہ الفاظ میں عوامی حکومت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جمہوری معاشرے میں اس بات کا دعویٰ کیا جاتا ہے اقتدار کی اصل مالک عوام ہے۔جمہوریت کی جائے ابتدا تو اگرچہ مغرب ہے لیکن جب یہ نظریہ اسلامی ممالک میں داخل ہوا تو جمہوریت کا ایک نیا ایڈیشن بھی سامنے آیا جسے اصطلاحی معنوں میں اسلامی جمہوریت کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس وقت دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں اسلامی جمہوریت ہی رائج ہے جس میں کہ ایران اور پاکستان سر فہرست ہیں۔اسلامی معاشروں میں جمہوریت کی آمد کے ساتھ ہی جمہوریت کے اسلامی اور غیر اسلامی ہونے کی بحث کا بھی آغاز ہو گیا جو آج تک جاری وساری ہے۔

ہمارے ہاں جمہوری نظام کو چار بنیادی اور اصولی نکات کی بنیاد پر اسلام سے متصادم قرار دیا جاتا ہے۔ ان بنیادی نکات میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ مغرب کے جمہوری نظام میں عوام کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ خالص اسلامی نظام میں حاکمیت کا اختیار فقط اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے اور اس میں کسی دوئی کو اسلام ہر گز قبول نہیں کرتا، چنانچہ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی بنیاد پر جمہوریت کو کفر و شرک سے تعبیر کیا جاتا ہے۔مغربی طرز جمہوریت میں عوام کی حاکمیت سے مراد یہ ہے کہ جس بھی قانون کو عوام کی اکثریت کی تائید حاصل ہو جائے گی وہ اس ملک کا قانون قرار دیا جائے گا چاہے وہ تاریخی، معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی روایت اور تعلیمات سے کتنا ہی متصادم کیوں نہ ہو، جبکہ اسلامی نظام میں ایسا کوئی بھی اختیار نہ کسی فرد کو اور نہ کسی جماعت کو حاصل ہے کہ وہ اپنے انفرادی یا اجتماعی فیصلے سے اللہ کے اٹل قوانین کو تبدیل کردے۔

جمہوریت اور اسلام میں دوسرا بنیادی فرق یہ ہے کہ ہمارے جمہوری نظام میں مخصوص افراد کے لیے ا ستثناء کا قانون موجود ہے جب کہ اسلام میں ایسی کسی استثنائی صورت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام میں قانون کی عملداری کا اندازہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان عالی شان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جاتا ۔اسلام کا نظام عدل و انصاف اور احتساب تو اتنا واضح اور کھرا ہے کہ لاکھوں مربع میل پر حکومت کرنے والے وقت کے خلیفہ سے بھرے مجمع میں محض چند درہم کی چادر کا سوال کیا جا رہا ہے اور سوال کرنے والا کوئی جج،قاضی یا تفتیشی افسر نہیں ہے بلکہ خلیفہ کی رعیت ہی کا ایک عام فرد ہے لیکن خلیفہ وقت بغیر کسی غصے اور غضب کے نہایت اطمینان سے اپنی صفائی بیان کر رہا ہے۔

اسلام اور جمہوریت کو باہم متضاد بنانے والا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ہمارے جمہوری نظام میں صدر ریاست کو یہ خصوصی اختیار حاصل ہے کہ وہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں سے سزا پانے والے مجرم کو بغیر کسی وجہ کے معاف کر سکتا ہے چاہے وہ کسی کا قاتل ہی کیوں نہ ہو جب کہ اسلام میں معافی کا اختیار فقط ورثا ء کوحاصل ہے۔مندرجہ بالا نکات میں آخری نکتہ یہ ہے کہ جمہوریت میں افراد کی اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے چنانچہ جمہوریت کے اس اصول کے تحت کوئی شخص کتنی ہی مبنی بر حقیقت بات کیوں نہ کر رہا ہو لیکن اگر اس کے پاس اکثریت نہیں ہے تو وہ اپنی تمام تر صداقت کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکتا، جبکہ اس کے برعکس ایک دوسرا شخص جو ایک جھوٹا دعویٰ لے کر سامنے آتا ہے اور محض طاقت، دولت، عہدے اور برادری کی بنیاد پر عوام کو جبری طور پر اپنے ساتھ ملا لیتا ہے تو مروجہ جمہوری اصولوں کے تحت وہ شخص کامیاب قرار پائے گا۔ جمہوریت کے اس نقص پر تقریباً تمام اہل دانش نے تنقید کی ہے اور اقبال نے بھی اس حقیقت کو یوں بیان کیا کہ۔۔
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گناِ کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔

جمہوریت کے ان نقائص پر ایک اجمالی تجزیے کے بعد یہ سوال لازماً ہر ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان جمہوری اصولوں میں کسی طرح کا کوئی تغیر و تبدیلی ممکن بھی ہے یا نہیں؟تو ا س کا جواب نہ صرف یہ کہ اثبات میں ہے بلکہ متذکرہ بالا نکات میں پہلے نکتے کا مکمل سدباب آئین پاکستان کے ابتدائیہ میں ان الفاظ کے ساتھ کر دیا گیا ہے کہ”چونکہ اللہ تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلا شرکت غیر ے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق حاصل ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے”۔پاکستان کے جمہور کی منشاء ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں جمہوریت، آزادی،مساوات، اور عدل عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے تشریح کی ہے پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ جس میں مسلمانوں کوانفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق، جس طرح قرآن و سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے ترتیب دے سکیں۔

نیز آئین کے ابتدائیہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں یہ الفاظ درج ہیں کہ” پاکستان عدل عمرانی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی”۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 2میں اسلام کو پاکستان کا مملکتی مذہب قرار دیا گیا اور 2 اے میں قرار داد مقاصد کو دستور کا مستقل حصہ قرار دیا گیا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 31 کے تحت یہ حکومت پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ نا صرف ایسے اقدامات کرے گی کہ عوام اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں بلکہ ایسی سہولتیں مہیا کرنا جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں،بھی حکومت کی آئینی ذمے داری ہے۔ دستور پاکستان میں عوام کی حاکمیت کے مغربی تصور کا رد آئین کے آرٹیکل 227 کے ان الفاظ کی شکل میں کر دیا گیا ہے کہ تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا۔۔۔ اور ایسا کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا جو اسلامی احکام کے منافی ہو۔

آرٹیکل 227 سے متصل بعد کے آرٹیکلز اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل اور اس کے فرائض منصبی سے متعلق ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل کا مقصد ایک ایسے ادارے کا وجود تھا کہ جو قوانین کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کرے چنانچہ کسی بھی قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے بارے میں اپنی رائے دینا اور سفارشات کا مرتب کرنا اسلامی نظریاتی کونسل کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔اسلامی ممالک میں سر فہرست دوسرے ملک یعنی ایران کے پار لیما نی وجمہوری نظام کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایران کا جمہوری نظام بھی دوسرے تمام جمہوری ممالک سے قدرے مختلف ہی نہیں بلکہ نئی بنیادوں پر قائم ہے۔ایران میں اگرچہ جمہوریت ہے اور حسب دستور پارلیمنٹ کا ادارہ بھی موجود ہے لیکن پارلیمنٹ کے اس ادارے کے ساتھ ساتھ 88 ارکان پر مشتمل مجلس خبرگان رہبری بھی موجود ہے جس کے ارکان کا انتخاب بھی براہ راست عوام کے ووٹوں سے آٹھ سالوں کے لیے کیا جاتا ہے اور مجلس کے ارکان کو مجتہد کہا جاتا ہے،یہی مجلس ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب، نگرانی اور معزولی کا ختیار رکھتی ہے۔

ایران کی اس مجلس یعنی مجلس خبرگان رہبری کے ارکان کی اہلیت کا فیصلہ 12 رکنی شوری یعنی شوریٰ نگہبان کرتی ہے، جو بارہ ارکان پر مشتمل ہے جن میں 6ارکان کا فقیہ ہونا لازمی ہے جبکہ دیگر 6 ارکان قوانین کے ماہر ہوتے ہیں۔ شوریٰ نگہبان آئین کی وضاحت،صدارتی انتخابات کی نگرانی، مجلس خبرگان اور پارلیمنٹ کے ارکان کی منظوری اور پارلیمنٹ کی طرف سے کی جانے والی قانون سازی کا اسلامی اصولوں کے مطابق افادیت کا جائزہ لیتی ہے۔حکیم الامت، شاعر مشرق اور بقول ڈاکٹر اسرار احمد مجدد تصور دین اسلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی جمہوریت کے متعلق رائے کے بارے میں ان کے فرزند جسٹس(ر) جاوید اقبال مرحوم اقبال کی سوانح حیات زندہ رود میں رقمطراز ہیں کہ” جمہوری طرز حکومت پر ایک مفکر کی حیثیت سے ان کا اعتراض خالصتا ً اخلاقی اور اصولی تھا کیونکہ اس میں انتخاب کی بنیاد ووٹروں کی گنتی پر رکھی جاتی ہے اور اس گنتی میں ایک صحیح یا مناسب امیدوار محض ایک ووٹ کم پڑنے سے کسی غلط یا غیر مناسب امید وار کے مقابلے میں شکست کھا سکتا ہے۔۔۔۔لیکن کسی بہتر طرز حکومت کی عدم موجودگی میں اقبال جمہوریت کو ہی موزوں طریق سمجھتے تھے۔

اس مرحلے پر یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ اقبال نہ تو مغرب کے سکیولر جمہوری نظام کے حامی تھے، نہ آج کے دور میں اسلام کے روایتی تصور ریاست (خلافت) کو کوئی اہمیت دیتے تھے۔ ان کے ذہن میں جو خاکہ تھا اسے جمہوریت کی بنیاد پر ایک جدید اسلامی دستور کا خاکہ سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ سنی ممالک کے جمہوری دساتیر میں مجلس آئین ساز کے اندر ولایت فقہ کے مستقل قیام کے حق میں نہ تھے۔ ان کے خیال میں مجلس آئین ساز سے باہر نام زدگی کے اصول پر علماء کے بورڈ یا ان پر مشتمل کونسل کوجود میں لایا جا سکتا ہے جن کے اسلامی آئین ساز کے متعلق مشوروں سے منتخب اسمبلیوں کے اراکین استفادہ کر سکتے ہیں۔ مگر اقبال اس طریقہ کار کو بھی صرف عارضی طور پر اختیار کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ ان کی رائے میں بہترین صورت یہی ہے کہ مجلس آئین ساز میں، جسے اقبال اجماع ملت کا اسٹیٹس دینا چاہتے تھے، ایسے وکلاء منتخب ہو کر آئیں جو جدید جورسپروڈنس سے شناسائی کے ساتھ ساتھ فقہ اسلامی کے اصولوں سے بھی واقفیت رکھتے ہوں تا کہ قانون سازی کا کام وقت کے جدید تقاضوں اور قوم کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق انجام دیا جا سکے۔

یہاں اس بات کا بیان بھی میں ضروری خیال کرتا ہوں کہ مجلس آئین ساز یعنی پارلیمنٹ کے اراکین کی اہلیت کے بارے میں یہی رائے میرے لاشعور میں بھی موجود تھی۔ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کے لیے اہلیت کا ایسا کوئی معیار نہیں بلکہ ہمارے ہاں تو ممبر پارلیمنٹ بننے کے لیے تعلیمی قابلیت کا بھی کوئی معیار نہیں جو کہ نہ صرف اسمبلی،پارلیمنٹ جسے ہمارے ہاں مجلس شوریٰ کہا جاتا ہے کی تضحیک ہے بلکہ ایک اسلامی ریاست کے ساتھ مذاق بھی ہے۔ چنانچہ اراکین اسمبلی کے بارے میں میری ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ اراکین اسمبلی کی اہلیت کے لیے باقاعدہ تعلیمی قابلیت کے ساتھ اسلامی اصولوں اور اسلامی قانون سازی سے بھی مناسب شناسائی لازم قرار دی جائے نیز ان کی سیرت و کرادر اور ماضی کی شفافیت کو بھی لازم قرار دیا جائے۔اب رہا یہ سوال کے جمہوریت کے آخری نقص کا حل کیونکر ممکن ہے ؟تو اس کا حل یہ ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں قانون سازی کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا کہ تمام تر قوانین قرآن و سنت کے مطابق ہوں گے وہیں اگر اس بات کا اضافہ بھی کر دیا جائے کہ کوئی سیاسی جماعت ایسا کوئی مطالبہ و منشور نہیں پیش کر سکتی جو کسی بھی اعتبار سے اسلام سے متصادم ہو اور امیداواروں کے لیے اہلیت و قابلیت کے معیارات بھی متعین کر دیے جائیں تو اس کا سدباب بھی ممکن ہے۔

چنانچہ یہی وہ جواز ہے جو ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اپنے مجوزہ نظام خلافت میں سیاسی پارٹیوں کے وجود کے لیے پیش کرتے ہیں۔ اسلام نے کوئی بھی ایک مخصوص نظام حکومت مسلمانوں پر فرض قرار نہیں دیا اور نہ نفاذاسلام کا مطلب کسی مخصوص نظام کا قیام ہے بلکہ نفاذ اسلام دراصل اسلامی قوانین، اصول و ضوابط اور اسلامی تعلیمات کو نافذ کرنے کا نام ہے۔چنانچہ اگر ان جمہوری اصولوں کو جو اسلام سے متصادم ہیں کو اسلامی اصولوں سے بدل دیا جائے جیسے کہ عوامی حاکمیت کے مغربی تصور کو ہمارے آئین میں رد کیا گیا ہے اور قانون سازی کا قرآن و سنت کے مطابق ہونا لازم قرار دیا گیا ہے تو جمہوریت نفاذاسلام میں کسی طور کوئی رکاوٹ نہیں ہے بلکہ اگر خالص جمہوری اصولوں کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خود جمہوری اصولوں کا تقاضا ہے کہ ہمارے ہاں اسلامی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے اس لیے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان غالب مسلم اکثریت والا ملک اور عوام کی یہ اکثریت ملک میں ایک حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ کی تمنا و خواہش ہی نہیں بلکہ مستقل رائے بھی رکھتی ہے۔

لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت نفاذ اسلام میں رکاوٹ نہیں ہے بلکہ ہماری مذہبی جماعتوں کی اپنے اصل منشور و مقصد سے عدم دلچسپی ، انحراف اور اعلیٰ سطح کی اصولی قیادت جو وقتی مصلحتوں، ذاتی و سیاسی مفادات سے پاک اور باہمی اختلافات سے بالاتر ہو اور جس کو اسلام کے ضابطہ حیات سے مکمل شناسائی بھی ہو اور وہ نفاذ اسلام کے لیے پورے صدق دل سے پر عزم بھی ہو،کا فقدان نفاذ اسلام کی راہ میں حائل ہے۔ ہمارے ہاں درجنوں مذہبی جماعتیں موجود ہیں جو مذہب کی بنیاد پر قائم ہوئی ہیں اور ان تمام جماعتوں کا مقصد ومنشور،مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک کے مصداق ملک میں نفاذ اسلام ہے لیکن در حقیقت کوئی ایک بھی جماعت اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے پورے عزم کے ساتھ کوشاں نہیں بلکہ تمام تر جماعتوں کا انداز سیاست روایتی قومی و سیاسی جماعتوں کا سا ہے اور ظاہر ہے کہ اس طرز عمل سے اسلام کی کوئی خدمت ممکن نہیں ہے۔چنانچہ ایسی شخصیت جواس دور میں نفاذ اسلام کے لیے پوری طاقت، قوت کے ساتھ نفاذ اسلام کے لیے کوشش اور جہدو جہد کرے گی وہی دور حاضر کی عہد ساز شخصیت کہلائے گی اور ایسی جماعت ہی حقیقی معنوں میں ایک اسلامی اور انقلابی جماعت کہلائے گی۔

اعزاز کیانی
اعزاز کیانی
میرا نام اعزاز احمد کیانی ہے میرا تعلق پانیولہ (ضلع پونچھ) آزاد کشمیر سے ہے۔ میں آی ٹی کا طالب علم ہوں اور اسی سلسلے میں راولپنڈی میں قیام پذیر ہوں۔ روزنامہ پرنٹاس میں مستقل کالم نگار ہوں ۔ذاتی طور پر قدامت پسند ہوں اور بنیادی طور نظریاتی آدمی ہوں اور نئے افکار کے اظہار کا قائل اور علمبردار ہوں ۔ جستجو حق اور تحقیق میرا خاصہ اور شوق ہے اور میرا یہی شوق ہی میرا مشغلہ ہے۔ انسانی معاشرے سے متعلقہ تمام امور ہی میرے دلچسپی کے موضوعات ہیں مگر مذہبی وقومی مسائل اور امور ایک درجہ فضیلت رکھتے ہیں۔شاعری سے بھی شغف رکھتا ہوں اور شعرا میں اقبال سے بے حد متاثر ہوں اور غالب بھی پسندیدہ شعرا میں سے ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *