ہماری منفی سوچ

انسان کی بول چال اس کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے ۔ایک بات جو میں بچپن سے سنتا آیا ہوں میں تو اس کو ایک ضرب المثل سمجھنے لگ گیا تھا ۔۔۔۔۔جو شخص زبان کا کڑوا ہوتا ہے وہ دل کا صاف اور بڑا اچھا ہوتا ہے، پر میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر اس بات سے متفق نہیں میرا ماننا ہے کہ جو بندہ دل کا صاف اور اچھا ہوتا ہے وہ زبان کا برا ہو ہی نہیں سکتا ،کیوں کہ زبان پر وہ ہی آتا ہے جو دل میں چھپا ہوتا ہے۔ سب سے پہلی اور بنیادی غلطی جو ہم کرتے ہیں کسی کو اچھی طرح  پہچان نہیں پاتے اور اس کے بارے میں اپنی رائے  کا اظہار کر دیتے ہیں ایک واقعہ جو میں نے ایک بزرگ سے سنا اسی بات کی نمائندگی کرتا ہے ۔
ایک دافعہ یوں ہوا کہ ایک پوش ایریا میں جہاں زیادہ تر سادہ اور مذہبی لوگ رہتے تھے اس ایریا میں ایک بیوہ عورت نے مکان کرایہ پر لے لیا جس کی عمر اٹھائیس یا تیس سال کے قریب ہو گی اس کے دو بچے تھے ،کچھ ہی عرصہ پہلے اس کا خاوند فوت ہوا تھا۔ وہ عورت بڑی ماڈرن قسم کی تھی بڑا کم لباس زیب تن کرتی تھی کوئی پردہ نہیں تھا جس کے پاس سے گذرتی خوشبو کے جھونکے آتے تھے۔ یہاں تک کہ گلی سے گذرنے والے لوگ اس کے گھر کی خوشبو سے محظوظ ہوتے تھے اس کے بچے اکثر گھر سے باہر رہتے تھے اکثر وہ  اپنے بچوں کو گھر سے نکال دیتی تھی اس کے گھر میں کبھی چولہا جلتا تو کبھی نہیں ،اس کے بچے محلے میں کبھی کسی کے گھر سے کھانا کھا لیتے کبھی کسی کے گھر سے ۔
سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ مختلف قسم کے لوگ اس سے ملنے آتے تھے ،مختلف نمبرز  کی گاڑیاں اس کے گھر کے سامنے نظر آتی تھیں، یہ ساری باتیں ایک عام فہم انسان کے ذہن میں شک پیدا کر دیتی ہیں ۔
ایک دن یہ عورت سبزی لینے کی غرض سے دکان پر کھڑی تھی کہ اچانک گر گئی۔ محلے  دار اسکو اٹھا کر اس کے گھر چھوڑ آے، تین دن بعد اس خاتون کا انتقال ہو گیا تو وہی لوگ جو اس کو ملنے آتے تھے اسے لے گئے اور اس کے کفن دفن کا انتظام کیا ۔اس عورت نے نا کبھی محلے داروں سے تعلق بنانے کی کوشش کی اور نا ہی محلے  داروں نے اس سے تعلق بنایا ۔اس کی وفات کے بعد پتا چلا کہ وہ عورت ایک نیک عورت تھی وہ کینسر کی ایک خاص قسم میں مبتلا تھی جس کی وجہ سےوہ زیادہ کپڑے نہیں پہن سکتی تھی ۔
اس کے جسم سے ہر وقت بدبو آتی رہتی تھی جس کی وجہ سے اسے ہر وقت خوشبو  لگا کے رکھنا پڑتی تھی تاکہ لوگ اس کی بدبو  سے تنگ نہ ہوں۔ اس کی بیماری کی وجہ سے کبھی وہ بچوں کے لئے کھانا بنا لیتی تو کبھی اس کے بچے محلے  داروں کے گھر سے کھانا کھا کے گذارا کر لیتے ۔۔اور جب اس پہ بیماری کا زور بڑھتا تو وہ اپنے بچوں کو گھر سے باہر نکال دیتی تاکہ بچے اس کی تکلیف نا دیکھیں اور جو لوگ اس کو ملنے آتے تھے اس میں ایک اس کے خاوند کا بھائی تھا جو اپنی بھابھی کی اور بچوں کی خیریت دریافت کرنے آتا تھا ۔ایک اس کا فیملی ڈاکٹر تھا جو اس کی دیکھ بھال پہ مختص  تھا اور ایک اس کا بھائی تھا جو اپنی بہن کے پاس آتا تھا ۔
اس ساری حقیقت سے محلے  دار ناواقف تھے لیکن اس کے بارے میں اپنی رائے اور اپنے کمنٹس رکھتے تھے ۔۔۔ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ہم لوگ کسی کی برائی کا تعین صرف خدا کی ذات پہ کیوں نہیں چھوڑتے ؟کسی کا برا پہلو ہی کیوں سامنے رکھتے ہیں؟ اس کی اچھائی کو پس پردہ کیوں کر دیتے ہیں؟ ہم اپنی اچھائی کا بدلہ فوری اور برائی کا بدلہ در گزر سے چاہتے ہیں ۔
الله رب العزت ہم سب کو صحیح سوچنے ، سمجھنے اور صحیح عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔۔۔آمین

ظفر اقبال بھٹی
ظفر اقبال بھٹی
آدمی کو مرتے دم تک زندہ رہنا چاہیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *