تبدیلی کب اور کیسے آئے گی؟

ہمیں طویل عرصہ ہوگیا ہے سیاسی “باندر کلا” دیکھتے ہوئے۔ ہم نے دیگر ملکوں میں جمہوریت بھی دیکھی اور اس کا پروان چڑھنا بھی، لیکن ہم نے ایک لفظ نہ سیکھا۔ ہر دوسرا شخص آیا اور ہمیں نعرے دے کر چلا گیا۔ کسی نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا دیا تو ہم خوش ہو گئے تو کسی نے حکمرانوں کے احتساب کا نعرہ لگا دیا تو ہم خوش ہوگئے۔ افسوس کی بات ہے کہ برسوں سے ہم انہی نعروں پر اپنا پیٹ پالتے آ رہے ہیں۔

لوگوں کو دکھ ہوتا ہے جب ان کے لیڈر پرسوال اٹھایا جاتا ہے۔ میرا ذاتی نقطہ نظر ہے کہ اس وقت ملک میں ایک بھی سیاسی شخص ایسا نہیں جو لفظ سیاست کا اہل ہو۔ اور ایک شخص ایسا نہیں جو حکمرانی کا اہل ہو۔ خیر میرے ذاتی نقطہ نظر کی کیا اہمیت، آئیے ذرا جائزہ لیتے ہیں۔ چند نئے نعروں کا۔
عمران خان صاحب پر تنقید ہوتو ان کے چاہنے والے آپ کو نوچ کر کھا جانا چاہتے ہیں۔ دلائل دئیے جاتے ہیں کہ یہ شاہی خاندان ہے جو ایک طرف ہوگا تو ملک کو سکون آئے گا۔ یہ پٹواری ہیں۔ یہ فلاں ہیں، ان کے جانے سے ملک میں خوشحالی آئی گی۔ میں آپکی بات مان لوں لیکن مجھے ذرا خان صاحب اور ان لٹیروں میں فرق تو دکھلاؤ؟
خان صاحب کے پیرو لوگوں میں آدھے سے زیادہ لوگ صرف پٹھان، کچھ کرکٹ اور کچھ انہی روایتی نعروں کی زد میں آئے لوگ ہیں۔ مجھے ایک وجہ بتائیے میں خان صاحب کو کیوں غیر معمولی شخصیت تسلیم کر لوں؟ صرف اس وجہ سے کہ نون لیگی لوگ کرپٹ ہیں؟ بفرض محال خان صاحب کو مان لیا کہ وہ دودھ کے دھلے ہیں پھر بھی، نون لیگی حکومت اور ان میں کیا فرق ہے؟ صرف یہی کہ خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں؟ کیا یہ کافی و شافی چیز ہے؟ کسی بھی ملک میں حکمرانی کر کے لیے؟ ایک ایم پی اے یا ایم این اے بیچارہ کیا اور کتنی کرپشن کرلے گا؟ لیکن تھوڑی دیر کے لئے اسے ایک طرف رکھ دیجیے، خان صاحب پاک صاف ہیں۔ اس کے علاوہ کیا خوبی ہے ان میں؟ کیا پچھلے تین سے چار سال میں مغلظات کے علاوہ ایک لفظ بھی ملکی پالیسی سے متعلق خان صاحب نے عوام کے پلے ڈالا ہے؟ کیا لوگوں کے الٹے سیدھے نام رکھنے علاوہ ایک بھی ایسی بات کی ہے جسے یہ کہا جاسکے کہ یہ ملکی سلامتی اور ملکی ترقی کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے؟
چلیں کل خان صاحب کی حکومت آتی ہے، خان صاحب کوئی جادوگر تو ہیں نہیں کہ ادھر انہوں نے چھڑی ہلائی اور ادھر انہوں نے ملک کی تقدیر بدل دی۔ وہ کیا نسخہ ہے جسے قوم خان صاحب کے دور حکومت میں استعمال کرے گی تو تبدیلی آ جائے گی؟ پاکستان کی بیلنس آف ٹریڈ کا مطالعہ کریں۔ اور خان صاحب اسی کل والے جشن میں کھڑے ہو کر جواب دیں کہ اس بیلنس آف ٹریڈ ڈیفسٹ کو کیسے وہ سرپلس میں تبدیل کرنے والے ہیں؟ آپ کہیں گے کہ نواز حکومت نے ملک کو اس حالت تک پہنچایا ہے، بھائی انہوں نے پہنچا دیا، وہ تو ہے ہی کرپٹ، آپ سنائیے آپ کا معجون کدھر ہے؟
کل کے جلسے میں آپ نے فرمایا کہ پاکستان میں انویسٹ منٹ آئے گی؟ کیسے آئے گی بھائی؟ ہم جاہلوں کو بھی سمجھا دیجئے؟ پانچ سالوں میں ایسے کونسے دیو پاکستان میں آ جائیں گے جو دہشت گردی کو لگام دے دیں گے؟ اور ایسا کونسا انفراسٹرکچر کھڑا کردیں گے کہ ملک میں دھڑا دھڑا باہر سے انویسٹ منٹ آنا شروع ہوجائے گی؟
یہی بیوقوفیاں الیکشن سے پہلے جناب وزیر اعلیٰ شہباز شریف کیا کرتے تھے اور ان کے کارکن یہی باتیں سن کر نعرے بازی اور جوشیلی باتیں کیا کرتے تھے۔ اتنے عرصے میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوجائےگا؟ ابھی نواز شریف صاحب نے فرمایا کہ دو ہزار اٹھارہ تک لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی؟ کیسے سر؟ ہمیں بھی سمجھائیں۔ ذرا واپڈا کے مین ہیڈز کا چکر لگائیے اور ذرا اپنی ماہرانہ رائے سے ہمیں بھی آگاہ فرمادیجئے کہ وہ تاریں جو ذرا سا زیادہ لوڈ برداشت نہیں کرسکتیں انہیں اگلے دوسال میں پورے پاکستان میں کیسے ڈبل کروا کر ان کی کپسیٹی بڑھائیں گے یا کیسے پورے پاکستان میں ان کا جال بچھایا جائے گا؟ اپنے دور حکومت میں ٹوٹل دو بار آپ تشریف لا کر تو قوم سے مخاطب ہوئے ہیں اس میں سے ایک بار تو پاناما پیپرز کی صفائی دینے کے لئے تھا؟ ہمیں بھی کچھ بتائیں یا ہم ٹیکس بھر بھر کے آپ کے ناز نخرے اٹھاتے رہیں اور آپ کسی دوشیزہ کی طرح ہماری آنکھوں سے دور رہ کر ہماری آنکھوں کی نیندیں حرام کرتے رہیں؟
چودھری نثارصاحب فرماتے ہیں میں جا کر پوچھوں گا کہ ہم ہر وقت الرٹ سٹیٹ میں کیوں نہیں رہتے؟ واہ سر، یہ آپ کو آج یاد آیا پوچھنے کا؟ کیا سٹیٹ کی ایجنسیوں کا کام نہیں ہوتا کہ وہ ہر وقت الرٹ رہیں؟ ورنہ ایسا کیجئے جتنے عہدے داران ہیں، ان کے ایک ایک بچے کے گلے پر چھری چلوا دیجیے۔ روزانہ یاد رہے گا (اللہ آپکے بچوں کو سلامت رکھے)۔ ہر دوسرے روز ہمارے بھائی مارے جاتے ہیں، کسی دن ہم بھی مارے جائیں گے، یہ کب ہوگا؟
چلیں سر یہ تو ہیں ہی کرپٹ ، ان سے کسی اچھے کی امید رکھنا بیوقوفی ہے۔ خان صاحب نے تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ لگایا تھا۔
ایک شخص کی جمہوری تربیت اتنی ہے کہ وہ امپائر کی انگلی جیسی بات کرکے لفظ جمہوریت کا تقدس پامال کرتا رہا ہے۔ وہ شخص جو جہانگیر ترین کو اپنی بغل میں چھپاتا ہے اور شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں کہتا ہے کہ یہ حکومت کی نااہلی ہے۔ اگر جہانگیر کرپٹ ہے تو اس نے اسے کیوں نہیں پکڑا یعنی خود احتسابی نام کسی چیز کا وجود ہی نہیں پایا جاتا؟ وہ شخص اپنے کارکنوں کی میڈیا پرسنز سے بدتمیزی پر پوچھتا ہے کہ تم جیو والے ہو، پہلے اپنی رپورٹنگ ٹھیک کرو، اس سے کیا بعید کہ وہ کہے کہ تم ن لیگ کے سپورٹر ہو، میرے دورحکومت میں پاکستان میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں؟ وہ لیڈر کیا لیڈر جسکے سامنے ایک زندہ انسان سٹیج سے نیچے جا گرتا ہے اور وہ مڑ کر نہیں دیکھتا؟ وہ شخص جس نے لسانیت کے نعرے کی مذمت میں زبان تک نہیں ہلائی؟
لوگ پوچھتے ہیں کہ صرف عمران خان پر تنقید کیوں؟ اس لیےکہ خان صاحب کے مطابق اب وہی اس ملک کی آخری امید ہیں۔ تو صاحب ہمیں بھی تو کچھ دکھائی دے؟ ہمیں وہ نئے پاکستان کے لئے کوئی پالیسی بھی تو دکھائی دے؟ ورنہ تو ابھی تک انہوں نے اپنی حکومت کے لیے راستہ صاف کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ پاناما پیپرز میں نواز شریف پکڑے جاتے ہیں، وہ اگر سیٹ چھوڑ دیں تو پارٹی کوئی نیا وزیر اعظم چن لے گی، ن لیگ کا گراف ڈاون ہوجائے گا اور اگلی بار حکومت میں خان صاحب ہوں گے۔ پھر؟
<br>
پھر کیا ہوگا؟ یہ کسی کارکن نے، کسی جیالے نے ، کسی بھی جماعت کے پیچھے ہلکان ہونے والے نے سوچا؟ پھر؟ خان صاحب پھر حضرت عمر کی طرح گھروں میں بوریاں ڈھو کر آئیں گے؟ اگر ہاں ، تو خبیر پختون خوا میں کتنی بوریاں ڈھو دی ہیں انہوں نے؟ یا اگر پھر ہوگا تو کیسے ہوگا؟ یہ کیسے ہوگا، یہ خالی بھڑک ہے یا اس میں سچائی ہے؟
<br>
میں بتاتا ہوں بھائی پھر، وہی ہوگا، جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ ایک نئی اپوزیشن پارٹی طاقت میں آئے گی، بیان بازی ہوگی، وہ ان پر الزام لگائے گی، یہ ان کی تردید کریں گے، یہ عدالت میں جائیں گے، وہ دھرنے دینگے۔ ان کے کارکن ماریں کھائیں گے اور پھر وہی صلح اور پھر الیکشن۔ یہ ہوتا رہے گا۔ اگر یقین نہیں آتا تو پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ، ابھی تک اگر یہ نہیں ہوتا آیا تو شائد اگلی بار کہانی مختلف ہو؟ یہ اس بار بھی ہوگا، یقین کریں ورنہ اوپر بیان کردہ کسی بھی بات کو جھٹلا دیں اور خان صاحب کی جادو کی چھڑی کا دیدار ہمیں بھی کروا دیں۔
<br>
اور صاحب، انقلاب ایسے نہیں آیا کرتے، انقلاب نعروں کا محتاج نہیں ہوتا، انقلاب غم اور غصہ ہوتا ہے۔۔۔ اور انقلاب کے لئے لیڈروں کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ عوام کے انگ انگ سے پھوٹتا ہے۔ پھر عوام کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت نہیں رہتی اور یاد رکھیے انقلاب احتساب نہیں کرتا، وہ انتقام لیتا ہے اور گھاس کھلا کھلا کر مارتا ہے۔ اس لیے انقلاب بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
<br>
میرے بھائی تحریک انصاف ہو یا غیر انصاف، اس کے پیچھے ہلکان ہونے سے پہلے اپنے آپ سے چند سوال ضرور کرلیں، ضرور دیکھ لیں کہ یہ پرانی بوتل میں نئی شراب کے لیبل کے ساتھ شہد تو نہیں بیچا جا رہا۔ سرمایہ داری کے متعلق ایک شعر ہے جو پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں پر صادق آتا ہے۔
؎گیا دور سرمایہ داری گیا
تماشہ دکھا کر مداری گیا
اگرتو شوق ہے اسی گھمن گھیری کا تو بہت خوب ورنہ صاحب، اب تو ہمیں دوبارہ سوچنا ہوگا کہ ہمیں ذاتی مفاد اور جذبات عزیز ہیں یا قومی مفاد اور ٹھنڈے دماغ کے فیصلے عزیز ہیں۔ اگر اس سے نکلنا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن، تحریک انصاف والوں کو سامنے لائیں اور ان سے سوال کریں اور ن لیگ والے اپنے لیڈروں کو سامنے لائیں اور ان سے سوال کریں۔۔۔ اور پوچھا جائے کہ تبدیلی کب اور کیسے آئی گی؟

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”تبدیلی کب اور کیسے آئے گی؟

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *