راجپوت

پچھلے دنوں مکالمہ پر ایک آرٹیکل شائع ہوا ۔”یہ جاٹ ہمارے” تو سوچا ہم بھی اپنے قلم کی طاقت سے راجپوت ہمارے لکھ ہی ڈالیں ۔لہٰذا سب سے پہلے تو راجپوت برادری سے پیشگی معذرت، ہمارے قلم سے کوئی اونچ نیچ ہو جائے تو ہضم کر لیں ۔جس طرح دیسی گھی کے پراٹھے اور سرسوں کا ساگ ہضم کر لیتے ہیں ۔راجپوت کے نام سے ایک کتاب بھی برسوں پہلے پڑھی ،یقین مانئے راجپوت قوم کی اتنی گوتیں اور قسمیں ہیں کہ ہم تو اتنی کنفیوژن کا شکار ہوئے اتنا تو pkفلم میں عامر خان، بھوج پوری زبان اور بھگوان سے نہیں ہوا۔
ہماری تو حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہم کو پتہ چلا کہ فاضل مصنف نے ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر قائد اعظم تک سب کو راجپوت ثابت کر دیا۔ویسے بچپن سے ہی ہمارے اردگرد راجپوت ہی بستے ہیں ۔ہمارے گھر کے چاروں طرف راجپوت ہی راجپوت گھرانے آباد ہیں ۔درمیان میں ہم خاندان مغلیہ کے ٹمٹماتے چراغ ہیں ۔ویسے آج تک اس بات کی بھی سمجھ نہیں آئی کہ راجپوت اپنے نام سے پہلے چوہدری لگاتے ہیں ،کچھ رانا ،کچھ رائو اور کچھ نام کے آگے راجپوت کئی خان کا لاحق بھی استعمال کرتے ہیں ۔اس سمسیہ کا حل بھی ہم نے اپنے ذہن سے تلاش کر کے اپنے بچپن کے راجپوت دوست ساجد کے سامنے پیش کیا ۔
سوچا کنفیوژن بھی دور ہو جاوے گی اور ہماری عقل مندی کی داد بھی ملے گی ۔ہم نے اپنے رانا جی کو چوہدری ،رانا، رائو، راجپوت کی توجیح مثال کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کی ۔بات کچھ یوں اے جی “جس راجپوت کی جیب ما ایک ہجار کا نوٹ ہووا وہ تو بن گیا چوہدری ،جس پا ہوواں پانچ سو ،وہ بن گیا رانا ،اسی طریوں دو سو والا کھالی راجپوت ،اور جس کی جیب کھالی وہ تو ماری نجر ما نیرا رانگڑ “۔بس یوں کہنے کی دیر تھی چوہدری تو لٹھ لے کے چڑھ گیا۔منے تو بھا گ کے جان بچائی ۔لیکن میں نے بھی چوہدری کو تنگ کرنے کی ٹھان رکھی تھی ۔دوسرے دن پھر نئے مشاہدے کے ساتھ چوہدری کے ڈیرے پر پہنچ گیا ۔
چوہدری”گصہ” نہ کریے تیئں میری بات کا، راجپوت کا رنگ کالا ہونا جروری اے ۔راجپوت اگر گورا ہے تو منے تو اس کے راجپوت ہونے میں شک ہے۔اسی نوک جھونک کے ساتھ ہماری دائمی دوستی چل رہی ہے ۔ایک اور بات بھی آرہی ہے، شاید انعام رانا بھائی روشنی ڈالیں ۔سنا ہے راجپوتوں میں پیر نہیں ہو سکتا۔کیونکہ میں نے تو اپنی زندگی میں کوئی راجپوت پیر نہیں دیکھا ۔نہ کوئی دربار جس پر لکھا ہو پیر طریقت رانا اسرار احمد راجپوت ۔راجپوت بہت ہی بہادر جفاکش اور محبت کرنے والی قوم ہے۔محبت بھی خالص ،نفرت بھی خالص ۔تصنع کا شائبہ تک نہیں ،سادگی ان پر ختم ہے۔دو، رانے اکٹھے ہو جائیں تو سارا پروٹوکول درہم برہم کرتے ہوئے اپنی ہونیوالوں پیتھک زبان میں گفتگو کرنے لگتے ہیں ۔جو کچھ اس طرح سے ہے۔
“رسید ام نے ساہ پور ماں بسیر کی سادی ماں سیسے کے گلاس ماں سکر کا سربت پیا تھا سادی ماں گھنی سو سا تی مان تے”۔یعنی بولنے میں اتنے سادگی پسند ہیں کہ” س “کا دامن کبھی نہیں چھوڑتے” ش “جہاں بھی ہو اس کو بدل کے” س” کر دیتے ہیں ۔ویسے ہمارا واسطہ تو بچپن سے جن راجپوتوں سے پڑا ،ہم تو ابھی تک ان کو جینگڑ یعنی کنجوس کہہ کر تنگ کرتے ہیں ۔سوائے اپنے انعام رانا اور افضل رانا ازی کے۔ لو جی اب ہماری شگفتہ تحریر لکھنے کی کوشش تمام ہوئی ۔پسند آئےتو مہربان،ی نہ آئے تو آگاہ ،اپنی رائے سے۔ ورنہ ہم تو منا بھائی کی طرح لگے رہیں گے ۔بھگتنا آپ کو پڑے گا۔
احمد رضوان بھائی کہیں کہیں میں نے راجپوت لہجے میں زبان لکھی ہے ۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *