کالم ریجیکٹ کیوں ہوتے ہیں ؟

کالم ریجیکٹ کیوں ہوتے ہیں ؟
رعایت اللہ فاروقی
کل 92 نیوز پر ریجیکٹ ہونے والا اپنا کالم اس صراحت کے ساتھ پوسٹ کی صورت اپلوڈ کیا کہ اخبار کے لئے لکھا تھا وہاں ’’کِھل‘‘ نہ سکا۔ اس پر اکثر دوستوں کے تو لائٹ موڈ والے کمنٹس ہی آئے لیکن بعض دوستوں نے اسے ’’ڈر‘‘ سے جوڑنے کی کوشش کی جبکہ بعض نے حیرت انگیز طور پر اس میں خاکوانی بھائی کی کوئی سازش تلاش کرنے کی کوشش بھی کر ڈالی۔ میری جان کے ٹوٹو ! آج ہم یہ سیکھنے کی کوشش کریں گے کہ اخبارات میں مختلف رپورٹس، تجزیئے، فیچرز، کالمز حتی کہ تصاویر ریجیکٹ کیوں ہوتی ہیں ؟
اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ اخبارات میں شائع ہونے والی ہر سطر اپنے اثرات اور مرتب ہونے والے نتائج رکھتی ہے۔ یہ نتائج قارئین کی سطح پر کسی کی ہلاکت، کیریئر کی تباہی، کروڑوں یا اربوں کے نقصان پر بھی مشتمل ہو سکتے ہیں۔ خود صحافی کے لئے یہ نتائج قانونی سطح پر کسی مقدمے میں الجھ کر پھانسی، عمر قید یا بھاری جرمانوں جیسے بھی ہو سکتے ہیں جبکہ پر اسرار قتل اس کے علاوہ ہیں۔ غرضیکہ بہت گلیمرس نظر آنے والا شعبہ صحافت اپنے چلمن میں آگ و خون لے کر چل رہا ہوتا ہے اور ہر سال بہت سے صحافی جان سے جاتے ہیں۔ اس کی اسی ہلاکت خیزی کے سبب جو کام یہاں سب سے زیادہ توجہ سے کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ڈبل اور ٹرپل خوردبینوں سے گزار کر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ’’کیا شائع ہونے کے لائق ہے اور کیا نہیں ؟‘‘ آپ صرف روٹین کی رپورٹنگ کا ہی حال دیکھ لیجئے۔ ہر رپورٹر کی رپورٹس نیوز ڈیسک پر جاتی ہیں جہاں سب سے پہلے وہ سب ایڈیٹرز کی نظر اور کانٹ چھانٹ سے گزرتی ہیں۔
کے بعد ڈپٹی نیوز ایڈیٹر دیکھتا ہے کہ کچھ ناقابل اشاعت تو نہیں، اگلے مرحلے میں نیوز ایڈیٹر دیکھتا ہے اور فائنل مرحلے میں اخبار کا ایڈیٹر خود کاپی کا بغور مشاہدہ کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ معمولی سی خبر بھی چار چھنیوں سے گزرنے کے بعد جا کر قاری تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح میگزین کے شعبے سے لے کر ادارتی صفحے تک خوربینوں کا ایک جال بچھا ہوتا ہے اور ہر خوردبین ایک ہی چیز دیکھ رہی ہوتی ہے کہ ’’کچھ ناقابل اشاعت تو شائع نہیں ہونے لگا ؟‘‘ اور یہ اس قدر کڑا سسٹم اس لئے روبعمل ہوتا ہے کہ شائع ہونے والی کوئی سطر کسی کی جان بھی لے سکتی ہے، کسی کا اربوں روپے کا نقصان بھی کر سکتی ہے اور خود اخبار کو بھی تباہ و برباد کر سکتی ہے۔
پھر ایک اہم بات یہ ہے کہ سرکاری و غیر سرکاری توپ خانوں کا سامنا تو اخبار کا ایڈیٹوریل بورڈ کر رہا ہوتا ہے۔ اخبار میں جو جتنی بڑی کرسی پر بیٹھا ہے وہ اتنا ہی توپ خانوں کی براہ راست زد پر ہوتا ہے۔ ہم کالم نگاروں کو تو اکثر خبر بھی نہیں کی جاتی کہ ہماری وجہ سے ایڈیٹوریل بورڈ کیا کچھ بھگت رہا ہے۔ وہ اکثر اپنے سینے پر گولہ برداشت کر کے ہم سے کہہ رہے ہوتے ہیں ’’لگے رہو، چھوڑنا مت !‘‘ بس شرط ایک ہی ہوتی ہے کہ جو لکھا جا رہا ہے وہ خلاف واقعہ نہ ہو اور آئین و قانون سے متصادم نہ ہو۔ اس سب کے باوجود آئے روز اخبارات کو لیگل نوٹسز موصول ہو رہے ہوتے ہیں اور ہر اخبار پیشیاں بھگت رہا ہوتا ہے لیکن وہ یہ کبھی نہیں کہتا کہ ’’یہ ہمارے رپورٹر یا کالم نگار کی غلطی ہے‘‘ ہر اخبار اپنے ورکرز کے ساتھ کھڑے ہو کر اسے ڈیفینڈ کرتا ہے۔ اس پوری صورتحال میں آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ چیزیں ’’ریجیکٹ‘‘ کیوں ہوتی ہیں اور ان کا ریجیکٹ ہونا ضروری کیوں ہوتا ہے لیکن یہاں دو سچائیاں ایک ساتھ جمع ہیں۔
وہ دوسری سچائی یہ ہے کہ جب کوئی کالم ریجیکٹ ہوتا ہے تو قسمے لکھنے والا بری طرح تلملا کر رہ جاتا ہے اور یہ تلملانا فطری ہوتا ہے کیونکہ اس پر ایک محنت ہوئی ہوتی ہے اور شائع ہونے کے لئے ہی ہوئی ہوتی ہے۔ تو میرے سازشیں تلاش کرتے ارسطوو ! کالم یا کوئی اور چیز ریجیکٹ ’’ڈر‘‘ کی وجہ سے نہیں بلکہ احساس ذمہ داری کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کالم ریجیکٹ ہونا بھی درست ہے اور ہمارا تلملانا بھی درست، جب تک پرنٹ میڈیا موجود ہے کالم ریجیکٹ بھی ہوتے رہیں گے اور ہم رائٹرز تلملاتے بھی رہیں گے کیونکہ ان کا ریجکٹ کرنا بھی فطری ہے اور ہمارا تلملانا بھی فطری۔ پلیز اس میں ڈر یا سازش مت ڈھونڈا کیجئے۔
اب ذرا از راہ تفنن ایک مزے کی بات اور بھی سنتے جائیں بلکہ پہلی بار سنتے جائیں۔ اردو صحافت کی تاریخ میں پیچھے چار بڑے نامی گرامی بابے گزرے ہیں جنکی ’’حق گوئی‘‘ اور اس پر بھگتی گئی سزائیں بڑی مشہور ہیں۔ یہ بابے مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان اور آغا شورش کاشمیری ہیں۔ ان چاروں کے اپنے اپنے جریدے تھے اور چاروں کی جب بھی شامت آئی اپنی لکھی ہوئی تحریر پر آئی۔ کبھی کسی اور کی قابل اعتراض تحریر شائع کرنے پر یہ نہیں پھڑے گئے۔ جانتے ہیں کیوں ؟ کیونکہ یہ ایڈیٹر بہت اچھے تھے، دوسروں کی تحریر یہ بہت آسانی سے جج کر لیتے تھے کہ قابل اشاعت ہے کہ نہیں لیکن انسان اپنا جج خود نہیں بن سکتا سو اپنی تحریر کے حوالے سے یہ اندازے کی غلطی کرجاتے۔ اگر یہ چاروں کوئی پارٹ ٹائم ایڈیٹر یہ دیکھنے کے لئے رکھ لیتے کہ خود ان کی تحریر اشاعت کے لائق ہے یا نہیں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ انہیں ’’حق گوئی‘‘ کے نتائج نہ بھگتنے پڑتے۔

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”کالم ریجیکٹ کیوں ہوتے ہیں ؟

  1. اچھا لکھا ہے تاہم چونکہ آپ نے ایک خاص زاویئے سے لکھا ہے اس لیے کالم شائع نہ ہونے کی دوسری وجوہات بوجوہ رہ گئی ہیں. اگر آپ
    ان پر بھی روشنی ڈال سکیں تو ….

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *