وہیل چئیر ۔۔۔اے وسیم خٹک

مجھے ساب جی سے ملنا ہے ـ ایک غریب شخص ہیلتھ منسٹر کے دفتر کے سامنے گڑگڑا رہا تھا ـ اورمنسٹر کے ہرکارے اُسے اندر جانے کی اجازت نہیں د ے رہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سوالی نے الیکشن میں ووٹ مخالف پارٹی کو دیا تھا ـ۔۔۔
ایک نےپوچھا کیوں ملنا ہے ـ
وہ ساب میرا بھائی چلنے پھرنے سے معذور ہے اُس کے لئے وہیل چیئر چاہیے  تاکہ وہ چلنے پھرنے میں کسی کا محتاج نہ رہے ـ

یہاں کوئی وہیل چئیر نہیں بانٹی جارہی ـ جس بندے کو آپ لوگوں نے ووٹ دیا تھا اُن سے وہیل چئیر بھی مانگ لو۔۔۔ انہوں نے ایک حقارت بھری نظروں سے غریب سوالی کی جانب دیکھا اور وہ بے چارہ واپس ہوگیاـ

ایک سال کے بعد جب الیکشن کے دن آئے تو ایک دن اُس کے دروازے پر دستک ہوئی اور الیکٹرک وہیل چئیر کے ساتھ وہی ہیلتھ منسٹر اور اُس کے ہرکارے کھڑے تھے ـ مگر جوں ہی دروازہ کھلا اُن کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ ایک معذور شخص جو پہلے سے الیکٹرک وہیل چئیر پر بیٹھا ہوا تھا سے اُسکی نظریں ٹکرائیں اور اس کے پیچھے اُس کا بھائی بھی کھڑا مسکرا رہا تھا کہ ساب پہلے ایک بھی وہیل چئیر نہیں تھی اب ہر دوسرے دن دروازے پر دستک ہوتی ہے تو وہیل چئیر لے کر کوئی نہ کوئی کھڑا ہوتا ہے اور ہم شکریہ کے ساتھ انہیں واپس کردیتے ہیں کیونکہ ہمارے بھائی کو ایک ہی کی ضرورت تھی ـ

ساب بُرا نہ منائیں ہمیں اسکی ضرورت نہیں آپ جاسکتے ہیں۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *