• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • رجب طیب اردگان، ترک قومی احساسِ تفاخر،نظریہ عصبیت اور پاکستان ۔ گل ساج

رجب طیب اردگان، ترک قومی احساسِ تفاخر،نظریہ عصبیت اور پاکستان ۔ گل ساج

رجب طیب اردگان کی  آق پارٹی کی ٹوپیوں پہ جو کارکنانِ آق اپنے سروں پہ اِستادہ کئیے ہوئے تھے، یہ تحریر کندہ تھی” ہم عظیم عثمانیوں کے پوتے ہیں “اور
انتخابی مہم کے مقبول نغمے کا ایک شعر  درج تھا”کل ہمارے لیے ارطغرل تھا، آج ہمارے لیے اردگان ہے” ۔ (سعود عثمان)
اردگان کی کامیابی نے سیاسی و قومی عصبیت و تفاخر کے نظرئیے کو مہمیز دی ہے  اور ثابت کیا ہےکہ قوموں کی کامیابی میں انکا شاندار ماضی اور درخشندہ تاریخ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قومی و نسلی تفاخر زوال سے عروج تک پہنچانے کا کلمہِ سَم سَم ہے ۔ یہی احساسِ برتری و گم گشتہ عظمتِ رفتہ کی تلاش قوموں میں ترقی و کامیابی کی روح پھونکتی ہے
ایران ہو کہ عرب ہو کہ افغان ان میں یہی سوچ یہی احساس جاگزیں ہے ایران اسی خود پسندی احساس برتری قیصر و کسروی عظمتِ رفتہ کے سہارے کھڑا ہے، نہ صرف کھڑا ہے بلکہ مزاحم بھی ہے۔ افغان اسی جذبے کے بل بوتے پر دو سپر پاورز کو شکست دے چکے ہیں۔ اور اب ترک اردگان یہی نعرہ لے کے چلے کہ “ہم عثمانی سلطنت کے وارث ہیں ہم عظیم ہیں ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا ہم دوبارہ سے ایشیا اور یورپ پہ حکمرانی کریں گے” اس نعرے نے  نوجوانوں میں احساس تفاخر کو مہمیز کیا عصبیت کو ابھارا اور انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
ابنِ خلدون پہلا سیاسی سماجی و عمرانی مفکر تھا جس نے “سیاسی عصبیت ” کا نظریہ پیش کیا  اور قوموں کے عروج و زوال کا منبع و محور سبب الاسباب اسی نظرئیے کو قرار دیا۔
ابنِ خلدون کے “نظریہ عصبیت “سے مراد وہ مِلی جذبہ ہے جو کسی قوم کے مختلف قبائل کو ایک مخصوص زبان و ثقافت، تہذیب و تمدن اور جغرافیہ کی بنیاد پر آپس میں بہم رکھتا ہے اور یہی جذبہ ایک مخصوص جغرافیہ میں بسنے والے افراد کو آپس میں مجتمع رکھنے اور زندگی گزارنے کے طور طریقے و مواقع فراہم کرتا ہے اسکے باعث وہ اپنے آپ کو دوسروں سے الگ تصور کرتے ہیں اور ان کا یہی جذبہ اُن کے لئے ایک ریاست کے ظہورکو عمل میں لانے قائم رکھنے، ترقی یافتہ بنانے کے لئے مددگار و معاون ثابت ہوتا ہے دوسرے معنوں میں نظریہ عصبیت دراصل “قوم پرستی کا جذبہ ہے جو کسی مخصوص جغرافیہ سے متعلق ہوتی ہے ”
کچھ فلسفیوں کے نزدیک تشکیل اور بقاء میں قوم پرستی کے جذبے کی نہیں بلکہ مذہبی جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اسی عصبیت انانیت احساس برتری کو “خودی” کا نام دیا مگراسی خودی کے احساس کو مذہبی غیرت و ایمانی کے جذبے میں ملفوف کر کے برصغیر کے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی جو قیام پاکستان پہ منتج ہوئی۔
” خودی کیا ہے رازِ دورنِ حیات
خودی کیا ہے بیدارئِ کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حداس کے پیچھے نہ حد سامنے
زمانے کی دھارے میں بہتی ہوئی
ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی
ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر
ہوئی خاکِ آدم میں صورت پذیر
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے”

انکی یہ ترمیم و تبدل اسوقت کی سیاسی صورتحال میں بہترین سیاسی منہج و فکر پہ مبنی تھی کیونکہ بر صغیر کے مسلمانوں کو بیک وقت بیرونی و اندرونی انگریز اور ہندووں سے سیاسی مسابقت کا سامنا تھا ۔ مذہبی عصبیت اسوقت کارگر اوزار تھا جو پِسی ہوئی متنزل و منتشر قوم کو متحد کرنے اور عروج تک لیجانے کا ذریعہ ہو سکتا تھا۔ انگریز اپنی تہذیب و ثقافت پہ فخر کنندہ تھا اسکی اقتدار کا سورج نصف النہار پہ تھا سلطنت کی حدیں یوں دراز تھیں کہ سورج غروب نہ ہوتا تھا ہندو قوم بھی اپنے آپ کو راجاوں مہاراجوں کی اولاد تصور کرتی تھی جو اقتدار کے لئیے پیدا ہوئے تھے ۔ ایسے میں مسلمانوں کو اپنے اسلامی تشخص سے وابستہ علمی و عسکری شاندار ماضی ہی ان ہر دو قوموں سے مقابلے پہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دے سکتا تھا۔
ابنِ خلدون کا نظریہ بھی اپنی اصل میں مذہبی نظرئیے سے متصادم نہیں ابنِ خلدون کسی قوم کی تشکیل و قیام میں مذہبی عصبیت کو یکسر مسترد نہیں کرتا اسکے نزدیک عصبیت خواہ مذہبی ہو یا قومی مگر بعد از تشکیل وہ مذہبی سے ذیادہ قومی عصبیت کو بقاء و دوام تعمیر وترقی کا محور خیال کرتا ہے
ابنِ خلدون نے کسی بھی قوم و ریاست اور طرزِ حکومت کے دو طریقے بیان کئے ہیں پہلا دینی حکومت، یعنی جس کی بنیاد شرع پر قائم ہوتی ہے اور دوسرا عقلی حکومت جس کی بنیاد دنیاوی اصولوں پر قائم ہوتی ہے اسکے مطابق جذبۂ عصبیت کے تحت ریاست کی تشکیل کے بعد یہ اقوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ریاستوں میں کس طرح کی حکومت کے قیام کو عمل میں لاتے ہیں اور کس قدر اپنے جذبۂ عصبیت کو برقرار رکھ کر اپنے ریاست کی بقاءکو ممکن بناسکتے ہیں۔۔۔
پاکستان کو ابھی ناکام ریاست نہیں کہا جا سکتا کہ ابھی یہ ملک اپنی تاریخ مرتب کرنے کے مراحل میں ہیں ابھی اسکا زوال نہیں ہوا یہ عروج حاصل کرنے کے پراسس میں ہے
میں سمجھتا ہوں پاکستان کو بھی ترقی کے لئیے “سیاسی عصبیت” پہ مبنی نظرئیے کی ضرورت ہے پاکستان کے دگرگوں سیاسی سماجی و معاشی حالات کے باوجود چند چیزیں ایسی ہیں جو اس قوم کے لئیے باعثِ احساسِ تفاخر و عصبیت بن سکتی ہیں۔
مزید یہ عصبیت اجاگر کرنے کے عناصر کیا ہونگے یہ اہل علم دانشوروں کو سوچنا ہے اس پہ کام کرنا ہے

گل ساج
گل ساج
محمد ساجد قلمی نام "گل ساج" مظفر گڑھ جنوبی پنجاب ۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *