تم یاد آئے اور تمہارے ساتھ زمانے یاد آئے۔۔۔شکور پٹھان

کسوٹی والے(قریش پور، عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف)
میرے کئی احباب یا تو بیرون ملک سکونت  پذیر ہیں یا اکثر نے کئی ملکوں کی سیر کی ہوئی ہے. آپ سب اس بات سے متفق ہونگے کہ دنیا بہت آگے بڑھ چکی ہے. اور دنیا کے ہر شہر میں مثبت تبدیلیاں آئی ہیں.

بد قسمتی سے یہی بات ہم اپنے شہر یا اپنے ملک کے بارےمیں نہیں کہہ  سکتے.

منی پاکستان کراچی جو امن و آشتی اور بھائى چارے کا گہوارہ تھا آج سکون کے لئے ترس رہا ہے. کاروباری حضرات دوسرے شہروں اور ملکوں کا رخ کر رہے ہیں.ہو سکتا ہے حکومتی اقدامات کے نتیجے میں امن و امان بحال ہو جائے اور معیشت کا پہیہ بھی رواں دواں ہو جائے. لیکن ایک نقصان ایسا ہے جس کا ازالہ ہوتے ہوئے کم از کم مجھے نظر نہیں آرہا. وہ نقصان ہے شرافت،تہذیب، رواداری، وضعداری،شائستگی اور شستگی کا.

ایک اور بات یہ کہ  آج کل تبدیلی کی خواہش کچھ زیادہ ہی زور پکڑ رہی ہے۔ خاص کر ہماری نوجوان نسل ہر نقش کہن کو مٹا دینے کا عزم رکھتی ہے۔ اور جو تبدیلیاں آرہی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ زبان و گفتار کا عالم یہ ہے کہ
زبان بگڑی سو بگڑی ، خبر لیجئے دہن بگڑا۔۔
اور تبدیلی کا ایک مظہر ٹیلیویژن کے وہ مارننگ شوز، انعامی پروگرام اور معلوماتی پروگرام ہیں جنہوں نے، کسوٹی، شیشے کا گھر، نیلام گھر، اور مستنصر حسین تارڑ کے روشن پاکستان جیسے پروگراموں کی جگہ لی ہے۔

قریش پور، عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف وہ ہیں جنہوں نے تہذیب، شائستگی اور شرافت کا علم آخر تک اٹھاۓ رکھا.زبان و بیان کی پاکیزگی، متانت اور سنجیدگی وغیره ان کے ساتھ ہی رخصت ہوئیں. ذرائع ابلاغ پر جس قبیل کے ناخواندہ اور تیسرے درجے کے افراد قابض ہیں انکی زبان اور ادائیگی سے بچوں کو دور رکھنا بہت ضروری ہے.
یہ تینوں جب ساتھ ہوتے تو علم و فن کا ایک نایاب گلدستہ ہمارے ساتھ ہوتا جس کی بو باس سے آج بھی ہمارے دل و دماغ معطر ہوجاتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر کوئی اپنی ذات میں ایک انجمن تھا ، ایک سے بڑھ کر ایک نابغہٗ روزگار۔کسوٹی، علمی، ادبی اور تہذیبی پروگرام، جس کے ماہرین اپنے فن میں یکتا، زبان و بیان میں نستعلیق اور شرافت و شائستگی کا نمونہ ہوا کرتے تھے۔

لازم و ملزوم!
یہ ناممکن ہے کہ کسوٹی کی بات کی جائے اور قریش پور کا ذکر نہ ہو یا قریش پور کی بات کی جائے اور کسوٹی پروگرام کی یاد نہ آئے۔لیکن یہ بھی خوب ہے کہ اس قدر ہر دلعزیز شخصیت کے اصل نام سے شاید ہی کوئی واقف ہو۔ ذوالقرنین قریشی کا نام قریش پور کیونکر ہوا اب شاید انکے یار دیرینہ، افتخار عارف ہی بتاسکیں۔

قریش پور مایہ ناز کمپئر براڈکاسٹر، ادیب و شاعر اور علم کا سمندر
تاریخ ۔ جغرافیہ، ادب اور مختلف فنون پر عبور رکھنے والے ، قریش پور ، کسوٹی میں شریک ہونے والوں کیلئے بڑی ڈھال تھے کہ وہ انکی ناقص معلومات میں ان کی نہ صرف مدد کرتے تھے بلکہ ناظرین کو بھی اس شخصیت، واقعے یا عمارت یا کتاب کے مختلف پہلوؤں  سے آگاہ کرتے۔ سوال پوچھنے اور بوجھنے والے دونوں، قریش پور کی موجودگی میں بڑا آرام دہ محسوس کرتے کہ قریش پور کی کوئی بات علم کے بغیر نہ ہوتی۔
کسوٹی سے پہلے بھی قریش پور نے “شیشے کا گھر” اور کسوٹی کے بعد ذوق آگہی، لفظ کی تلاش اور ایسے کئی پروگرام کیے ۔ یہ اس نسل سے تھے جس کا کام صرف اور صرف علم و آگہی کے چراغ روشن کرتے رہنا تھا۔ ان کے پیش نظر یہ نہیں تھا کہ کونسے پروگرام کرکے زیادہ پیسہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
پروگرام کے اختتام پر قریش پور  جس طرح پیشانی کو ہاتھوں سے چھو کر خدا حافظ کہتے یہ انداز ایک دور اور ایک تہذیب کی آخری نشانی تھا۔ ان کے ساتھ ہی ایک عہد بھی رخصت ہوا۔

ہفت پہلو!

کسوٹی تو عبید اللہ بیگ کی شخصیت کا ایک روپ تھا جو ان کی شرافت ، شائستگی اور نفاست کا پرتو تھا۔ اپنے مہمانوں سے عزت سے پیش آنا، جس شخصیت کو بوجھا جائے، سوال پورے ہونے کے اختتام پر اس کے بارے میں مزید معلومات سے آگاہ کرنا، گویا علم پھیلانا وہ اپنا فرض منصبی جانتے تھے۔
ادیب، دانشور، ناول نگار ، تاریخ داں اور فلم ساز، عبید اللہ بیگ کے نجانے کتنے روپ تھے اور ہر روپ کا مقصد صرف اور صرف علم تھا۔ انہوں نے بے شمار کار آمد دستاویزی فلمیں بنائیں۔ ریڈیو کیلئے ڈرامے لکھے اور” انسان زندہ ہے” اور “راجپوت” جیسے لازوال ناول لکھے۔
عبید اللہ بیگ کی اہلیہ سلمیٰ بیگ بھی ٹیلیویژن کی ایک مقبول شخصیت تھیں اور ان کا خطوں کے جواب کا دلکش انداز اب تک دیکھنے والوں کو یاد ہوگا۔ ان کی تین صاحبزادیاں بھی  ذرائع ابلاغ سے ہی وابستہ ہیں۔

آخری شمعیں!
حلقہ کئے بیٹھے رہو اس شمع کو یارو۔۔۔
فیض نے یہ نہ جانے کس کیلئے کہا تھا ، لیکن جب میں افتخار عارف کے قبیل کے لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ تہذیب و تمدن، شرافت و شائستگی کی علامات ان جیسے لوگوں کے بعد کیا ہوگا۔
افتخار حسین عارف، لکھنوٗ کی تہذیب کے چند بچے ہوئے نمائندے، دانشور اور شاعر، جو اکادمی ادبیات پاکستان اور مقتدرہ قومی زبان کے عہدہٗ جلیلہ پر بھی فائز رہے۔
؎مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض بھی اتارے جو واجب بھی نہیں تھے
جیسے اشعار کے خالق افتخار عارف ، جنھیں بہت سے نقاد اس عہد کا سب سے بڑا شاعر قرار دیتےہیں. کسوٹی کے بعد بھی اپنی حساسیت سے بھر پور شاعری کی بدولت آج بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
افتخار عارف کے مجموعے، مہر دونیم، حرف باریاب اور جہان معلوم موجودہ عہد کی شاعری کا سرمایہ ہیں۔ انکے کئی اشعار تو روزمرہ کے محاورے بنتے جارہے ہیں۔
میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے
اور
دیار نور کی تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو

جیسے اشعار کے خالق نے اس دور کی  سنگین حقیقتوں کا پردہ جس طرح چاک کیا ہے یہ انہی کا خاصہ ہے۔ اب کتنے رہ گئے ہیں جو کہہ سکیں کہ
ہم اہل جبر کے نام ونسب سے واقف ہیں
سروں کی فصل جب اتری تھی تب سے واقف ہیں

افتخار عارف کو پڑھے بغیر آپ کا اردو شاعری کا مطالعہ ہر گز مکمل نہیں۔

یہ تینوں اس قدر متنوع اور کثیرالجہت شخصیات تھیں کہ ان کے بارے میں کچھ کہنا مجھ عامی کیلئے ممکن ہی نہیں ہے. ان کے علم وفن کا احاطہ تو صرف اہل علم ہی کرسکتے ہیں.
یہ عاجز تو صرف اس یگانہ روزگار ٹی وی پروگرام “کسوٹی ” اور اس کے ماہرین کی یادوں میں احباب کو شریک کرنا چاہتا ہے جنھوں نے ہمیں بولنا سکھایا اور ہمیں تہذیب،شائستگی اور وضعداری کی اعلیٰ اقدار سے آشنا کیا.
افتخار عارف ہمارے درمیان موجود ہیں. الله انھیں شادوآباد رکھے اور انکے دوستوں قریش پور اور عبیداللہ بیگ کی لحد پر شبنم فشانی کرے.
یہ میرے شہر کا سرمایہ تھے اور میرا شہر ان کے جانے کے بعد بہت غریب ہو گیا ہے.

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *