دعائے قنوت ، نرگسیت اور ہمارے سیاستدان ۔۔۔۔ اختر برکی

میں بہت مایوس   ہوں اور  پریشان ہوں ۔مجھے اس سیاسی نظام سے نفرت ہونے لگی  ہے ،مجھے اس پر بھی پریشانی ہونے لگی ہے کہ میں   کیوں اتنا خائف ہوا ہوں, تو چلیے آپ کو بتاتا ہوں کہ کیوں ؟۔۔۔۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ میں جب بھی اپنے معاشرے کے لوگوں اور خاص کر اپنے سیاسی بشمول مذہبی لیڈروں کو سنتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم تو بڑے پہنچے ہوئے لوگ ہیں ،ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے، مغرب اور مشرق ہم سے حاسد ہیں اور دونوں جھولی پھیلاکر ہمارے سامنے کھڑے ہیں اور مفاخرانہ نسلی تقابل میں مبتلا ہیں ۔یہ ایک وہم تو ہوسکتا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس وہم کی بیماری کو نرگسیت کہا جاتا ہے ۔اس میں ایک انسان یا قوم اپنے آپ کو بڑا سمجھتی ہے اوروہ اعلی مقام ومرتبے پر فائز ہوتے ہیں اور دوسری نسل، برادری اور قوم کے لوگ پست سے پست    مقام پر فائز ہوتے ہیں ،اب لقمان حکیم جیسے لوگ پیدا نہیں ہوتے اگر ہوتے تو شاید اس وہم کا علاج ڈھونڈ نکالتے ، ہماری من حیث القوم یہی سوچ ہے اور جب تک یہ رہے گی ، ہم ترقی نہیں کرسکتے۔

یہ بات تو طے ہو چکی ہے کہ کبھی ہم محمود غزنوی تو کبھی محمد غوری وغیرہ وغیرہ کے سہارے اور سائے میں جی رہے ہیں جن کے دلیرانہ اور فاتحانہ حملوں کو جواز بناکر ہم اپنے آپ کو جنگجو, بہادر اور اعلی و ارفع سمجھ بیٹھے ہیں, کبھی ہم ڈیموکریسی اور قانون کی حکمرانی کا شور مچاتے ہیں اور کبھی اپنے آپ کو پارسا اور صوم و صلٰوت کا پابند مسلمان سمجھتے ہیں مگر حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے کیونکہ نہ تو ہم”سچے مسلمان”  ہیں اور نہ ہی سیاسی طور پر پختہ ، یہ جانکاری ہمیں اس وقت ہوئی جب پچھلے دنوں ایک خبر نظر سے گزری جو الیکشن میں امیدواروں کی کاغذات نامزدگی جمع کرنے کے متعلق تھی , اس سے ہمیں الیکشن کے امیدواروں کے بنیادی اسلامی عقائد کا بھی پتہ چلا اور پاکستان کے متعلق معلومات کا بھی.

اس سلسلے میں جب ہمارے ملک کے ایک امیدوار سے جو الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے آیا تھا ریٹرننگ افسر نے پوچھا کہ پاکستان کا آخری گورنر جنرل کون تھا تو اس نے جواب دیا قائد اعظم۔ جب ایک خاتون سے سوال ہوا کہ پاکستان کا نام کس نے رکھا تو جواب ملا قائد اعظم۔جب پوچھا قومی شاعر کےبارے میں تو جواب ملا علامہ اقبال اور قائد اعظم۔ ایک امیدوار سےقرآن  کے پاروں کے متعلق پوچھا تو ان کی تعداد 32 بتائی۔ مزید جب یہ پوچھا  گیا کہ دعائے قنوت کس نماز میں پڑھی جاتی ہے تو ہمارے آنے والے لیڈر نے کہا کہ یہ دعا شاید  فجر کی نماز میں پڑھی جاتی ہے.

اس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ ہمارے مستقبل کے معمار اور ہمارے لئے قانون سازی کرنے والے  جنرل نالج اور دین سے کتنی  آگاہی رکھتے  ہیں ۔اب تو 2018 ہے  مگر 2013 میں جب امیدواروں سے اسی قسم کے سوالات پوچھے گئے تو ہم نے کانوں کو ہاتھ لگائے اور توبہ توبہ کرنے لگے اس کا اندازہ آپ بھی لگا لیجئے۔۔۔

جب ایک شخص سے پوچھا گیا کہ آپ نمازیں پڑھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ساری  تو نہیں پڑھتا مگر دو پڑھتا ہوں ۔ریٹرننگ افسر نے پوچھا کہ کونسی تو جواب دیا کہ عصر کی نماز,جب اس کی رکعتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا کہ پانچ ہیں۔ یہ سنتے ہی وہاں پر موجود لوگوں کی باچھیں کھل گئ ,اسی طرح کلمہ کے بارے میں,دعائے قنوت اور ارکان اسلام کے بارے میں بھی ان امیدواروں کے جوابات غلط نکلے جس پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے ۔اگر ہم سیاستدان بننے کے آرزومند ہیں تو ہمیں چاہیے  کہ سیاست کی تاریخ, شخصیات , بین الاقوامی قوانین اور اس سے ملحقہ چیزوں کو پڑھیں, اگر ایک بندہ پارلیمنٹ کا ممبر بن جاتا ہے اور اسے یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ صدارتی طرز حکومت اور پارلیمانی نظام یا طرز حکومت کیا ہوتی ہے تو کیا وہ اس قابل ہیں کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ سکے؟ کیا انجینئرنگ یا صحافت کی ڈگری رکھنے والا آپ کو دوائی تجویز کرسکتا ہے ؟کیا ڈاکٹر آپ کو انجینئرنگ پڑھا سکتا ہے؟ اور کیا موچی   سائنس کے اصول وضع کرسکتا ہے؟

ان تمام سوالات کا جواب    نفی میں ہوگا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے، ہم اس ایوان میں بیٹھنے کی آرزو تو کرتے ہیں مگر خود کو اتنا قابل نہیں بناتے کہ ان چیزوں کو پڑھ سکیں ۔یہ کہا جاتا ہے کہ جیسا منہ ویسی  چپیڑ ،تو حکمران جیسے ہوتے ہیں وہی رنگ عوام بھی اپناتے ہیں اگر حکمران باشعور, علم والے, صادق و امین اور اسلام سے واقفیت رکھتے ہوں  تو معاشرہ بھی انہی اوصاف کو اپناتے ہوئے آگے بڑھتا رہتا ہے ۔مگر یہاں تو حکمران جس طرح لوگوں کو نچواتے  ہیں اس کی مثال کم ہی دوسرے ممالک میں ملتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو خواہ وہ سیاست ہو, ٹیکنالوجی کا میدان , ادب, فنون لطیفہ ہو یا جرنلزم کا شعبہ ۔۔ مغربی ممالک ہم سےہمیشہ آگے آگے ہوتے ہیں اور کوئی نہ کوئی نئی  چیزیں دریافت کرنے  میں مگن رہتے ہیں۔ یہی لوگ چیزیں بناتے ہیں ان پر سوچتے ہیں اور ہم انہی ریڈی میڈ چیزوں کو صرف استعمال کرنے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں ۔اس کے باوجود بھی ہم یہ بات اعلی  الاعلان کہتے ہیں کہ ہم سے بڑا  کوئی   نہیں اور ہمارا کوئی ثانی نہیں. انگریزوں نے برصغیر پاک و ہند پر بڑے عرصے تک حکومت کی اور یہاں سے بہت سارا پیسہ سونے چاندی کی شکل میں لے گئے انہوں نے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ہر   حربہ استعمال کیا، اگر چہ تاریکی کے دور میں انہوں نے سالہا سال جنگیں بھی لڑیں  اور مذہب کو بطور ہتھیار بھی استعمال کیا مگر آخر میں ان کو کامیابی ملی اور ان پر ایک دور نشات ثانیہ کا آیا جس میں لوگوں کی اصلاح کی گئی  ۔مذہب کو سیاست سے علیحدہ کیا گیا ،نیا ادب وجود میں آیا، نئی  دریافتیں ہوئیں اور سائنسی ایجادات نے ان کے لئے نئی  راہیں کھول دیں اور دنیا نے اسے مہذب معاشرے کے طور پر قبول کیا,

چائنہ کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے ، چونکہ  یہ بھی     کم و بیش پاکستان کے   ساتھ ہی آزاد  ہوئے  مگر انہوں نے بہت کم وقت میں دنیا  میں  اپنے آپ کو منوایا ۔اب وہ ہر ایک شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں اور دنیا ان کی پیروی کر رہی ہے , مگر ہمارے ہاں ایک الٹا سسٹم چل رہا ہے یہاں پر تھیوری تو ترقی یافتہ ممالک کی استعمال کرتے ہیں مگر عملی میدان میں ان کی پیروی میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں ، لفظ ڈیموکریسی تو ایسے استعمال کرتے ہیں جیسے اس کی جنم بھومی یہاں پر ہوئی ہو مگر ہمارے لیڈرز اس لفظ کے پیچھے برطانیہ کی پوری تاریخ سے ناآشنا ہیں ۔۔۔

کہتے ہیں کہ ایک شیر اس پر بضد تھا کہ اسے  جنگل کا بادشاہ کہا جائے سو اس  نے اپنی بات منوانے لے لیے بندر اور زیبرا کو گردن سے دبوچ لیا اور کہا کہ جنگل کا بادشاہ کون ہے؟ انہوں نے کہا حضور آپ کے علاوہ کون جنگل کا بادشاہ ہو سکتا ہے شیر نے خوش ہوکر دونوں کو چھوڑ دیا، پھر شیر کی ملاقات ہاتھی سے ہوئی۔وہ پورے  زور سے گرجااور دہشت زدہ کرنے کی کوشش کے بعد ہاتھی سے بھی وہی سوال کیا- بتاو “جنگل کا بادشاہ کون ہے” تم یا میں؟ ہاتھی نے کوئی جواب دیئے بغیر شیر کو سونڈ میں لپیٹا اور ہوا میں اچھال دیا، جس سے شیر پچاس گز کے فاصلے پر گرا، شیر نے اپنے آپ کو سنبھالا اور مخالف سمت میں یہ کہہ کر چل پڑا-“جس بے وقوف کو جواب کا ہی  نہیں پتا، اس سے الجھنا بے کار ہے”

اگر ہم بھی یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں انصاف کا بول بالا ہو,رواداری ہو, کرپشن نہ ہو, ترقی ہی ترقی ہو تو اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم خوبصورت نعروں اور اچھی  اچھی  تشبیہات کی بجائے عملی طورپر علم اور تعلیم کے نور سے آراستہ ہو ں تاکہ لوگ ہم سے سیکھ سکیں  اور دنیا ہمیں ایک آزاد اور روشن خیال ملک کے طور پر قبول کرے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *