سو لفظوں کی کہانی “شکر ہے”۔۔۔ عبد الحنان راشد

چاند رات کو مسجد میں رمضان کی آخری نماز پڑھ کر، اپنے گناہوں پر اجتماعی معافی مانگ کر ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دینےکے بعد میں مسجد سے رخصت ہوا۔

گلی کی نکڑ پر کچھ مانوس سی نہایت دھیمی آوازیں سنائی دیں۔ یہ آوازیں سن کر میں  ازراہِ تجس دیوار کے مزید قریب ہو گیا تاکہ کہنے والوں کی بات کا مطلب سمجھ سکوں۔

کہنے والا کہہ رہا تھا:

شکر ہے مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان ختم ہوا، اب ہم بھی اپنے من پسند فروٹ اور پسندیدہ لباس سستے داموں خرید سکیں گے۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
طالب علم جو کے لکھنے کی ادنی سی کوشش کر رہا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *