تندرستی ، دوا، دم اور ہمارے معالج۔۔۔ڈاکٹر شہباز منج

انسان کی کمزوری ہے کہ اسے جو نعمت میسر ہوتی ہے، اسے اہمیت ہی نہیں دیتا، اور سمجھتا ہے کہ گویا یہ تو اس کا استحقاق ہے۔ جب وہ نعمت چھنتی ہے، تو اس کی حقیقی قدر معلوم ہوتی ہے۔ تندرستی اور صحت بھی ا للہ کی ایسی نعمت ہے ، جس کی قدر آدمی کو اس وقت معلوم ہوتی ہے، جب وہ صحت کے کسی مسئلے سے دوچار ہوتا ہے۔ مجھے گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے معدے کا مسئلہ ہوا، تو معدے کی صحت کی قدر معلوم ہوئی۔ ایک عرصے تک سرگودھا، گوجرانوالہ اور لاہور کے کئی ماہرین ِمعدہ سے علاج کروایا۔ جب تک دوائی استعمال کرتا ، کچھ افاقہ رہتا، جو نہی چھوڑتا پھر وہی مسئلہ کہ جو کچھ کھاؤں ایسے لگے جیسے بائیں سائیڈ میں دل کے نیچے کہیں پھنسا ہوا ہے۔مختلف ٹیسٹوں کے بعد کئی ڈاکٹرز نے کہا کہ یہ مسئلہ لائف لانگ چلے گا اور آپ کو تمام عمر دوائی سے اسے مینیج کرنا پڑے گا۔ میں پھر بھی مختلف ڈاکٹرز کو کنسلٹ کرتا رہا کہ اس کا کوئی مستقل حل نکلے۔

گزشتہ دنوں بعض عزیزوں کے کہنے پر شادمان لاہور میں معدے اور جگر کے ایک نہایت مشہور معالج کے Liver Clinic گیا۔ ان کے علاج سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟ اس کا پتا تو آگے چل کر چلے گا ،لیکن یہ لگ پتا گیا کہ اس کلینک پر خرچے کے معاملے میں ایک سفید پوش سرکاری ملازم کا کیا حشر ہو سکتا ہے!

ڈاکٹر صاحب کی فیس پہلے وزٹ پر چار ہزارہے اور ہر فالو اپ وزٹ پر تین ہزار۔ لیکن اصل کمر توڑ خرچ ٹیسٹو ں اور دوائیوں کا ہے۔ ٹیسٹ ان کے اپنے ہی کلینک کا قابل قبول ہے، اور دوائی بھی بس وہیں دستیاب ہے۔پہلے وزٹ پر چیک اپ اور دوائیوں پر آٹھ ہزار لگے۔ پندرہ دن کے بعد19 جون کو دوسرا وزٹ ہوا، جس میں اینڈوسکوپی، Gastric Biopsyپر بیس ہزار لگے اور ایک ماہ کی دوائی دس ہزار کی آئی۔ لاہورآ نے جانے وغیرہ کا خرچہ الگ۔ پہلے اور دوسرے وزٹ پر ٹوٹل ملا کے چالیس ہزارسے اوپر خرچ آ چکے ہیں۔

مجھے اینڈو سکوپی کے لیے لے جایا گیا تو میں نے آنے والے ڈاکٹر اور عملے سے کہا کہ میں اتنی دور سے آیا ہوں اور ڈاکٹر عرفان، جن کا نام اس حوالے سے نسخے پر لکھا تھا، یا ڈاکٹر آفتاب محسن ہی سے اینڈو سکوپی کروا ؤں گا ، وہ کدھر ہیں؟ آنے والے عملے اور جونیئر ڈاکٹرنے کہا کہ ڈاکٹر عرفان صاحب چھٹی پر ہیں، آپ ہمیں تیاری کرنےدیں، ڈاکٹر آفتا ب صاحب خود آجاتے ہیں۔ میں نے چھوٹے بھائی سے کہا کہ جب یہ مجھے بے ہوش کر لیں ،تو آپ نے چیک کرنا ہے،ڈاکٹر آفتاب صاحب آئے ہیں یا نہیں ؟ بھائی نے ہوش آنے پر بتایا کہ ڈاکٹر آفتاب چند سیکنڈ کے لیے دروازے میں آئے اور “ٹھیک ہے” کَہہ کر چلے گئے تھے۔

ڈاکٹر آفتاب محسن صاحب کے ساتھ دو تین جگہوں پر جونیئر ڈاکٹرز بیٹھے ہیں، جو مریض سے کمپلینٹ وغیرہ سن کر اور ابتدائی چیک اپ کے بعد ڈاکٹر آفتاب کے پاس لے جاتے اور انھیں بریف کرتے ہیں کہ مریض کو کیا مسئلہ ہے؟(میرے مسئلے کو پہلے وزٹ پر ایک جونیئر لیڈی ڈاکٹر نےChest heaviness قرار دے کر ڈاکٹر صاحب کو بریف کیا تھا۔) جونیئر ز کے بریف کرنے کے بعد ڈاکٹر آفتاب صاحب مریض کو لٹا کرایک آدھ منٹ کے لیے چیک کرتے ہیں۔پھر کمپیوٹر پر بیٹھے اپنے اسسٹنٹ کو اپنے پیڈ پر نسخہ ٹائپ کرواتے ہیں۔اس کے بعد کمپیوٹرازڈ نسخے کے اوپر اپنے قلم سے ھوالشافی لکھتے ہیں ۔ڈاکٹر آفتاب محسن صاحب کے بارے میں بعض واقفانِ حال کا تبصرہ تھا کہ ہیں تو وہ “وہ”( جو عمران خاں نواز شریف صاحب اور ان کے ٹبر کو کہتے ہیں) لیکن ان کے ہاتھ میں شفا ہے، اور بڑے دور دراز شہروں سے بھی لوگ ان کے پاس آتے اور شفا پاتے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا شاید یہ اس دم کا ہی کرشمہ ہو، جو وہ اپنے نسخے پر لکھتے ہیں۔

ایک ماہ کے بعد پھر فالواپ وزٹ کی تاریخ ہے۔ سنا ہے کہ ڈاکٹرآفتاب صاحب اینڈو سکوپی وغیرہ کی نوعیت کے ٹیسٹ کئی دفعہ کرتے ہیں۔اس لیے میر کے الفاظ میں: آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!۔Biopsy کی رپورٹ تو ابھی چند دن بعد آئے گی، جس سےمعدے میں کسی نوع کے انفیکشن بارے معلومات حاصل ہوں گی،لیکن اینڈو سکوپی رپورٹ پر ڈاکٹر آفتاب صاحب نے بتایا کہ آپ کے معدے میں سوزش اور معدے کے پٹھوں میں کھچاؤ ہے۔آپ کو کچھ عرصہ مسلسل دوائی استعمال کرنی پڑے گی۔اس کے بعد چھڑوا دیں گے، اور پھر دوائی کے بغیر بھی ان شاء اللہ ٹھیک رہے گا۔بہر حال غالب کے الفاظ میں اللہ جانے آہ کو کتنی عمر چاہیے اثر ہونے تک ، ہم جینے کی کوشش کر رہے ہیں کسی کی زلف کے سر ہونے تک ۔دعا فرمائیے کہ ڈاکٹر آفتاب صاحب کی دوا اور دم اپنا اثر دکھا جائے اور میرا یہ مسئلہ حل ہو جائے ۔

Avatar
ڈاکٹر شہباز منج
استاذ (شعبۂ علومِ اسلامیہ) یونی ورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا، پاکستان۔ دل چسپی کے موضوعات: اسلام ، استشراق، ادبیات ، فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور اس سے متعلق مسائل،سماجی حرکیات اور ان کا اسلامی تناظر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *