گلگت بلتستان میں عیدکے رنگ۔۔۔امیر جان حقانی

عید منانے کے رنگ دنیا بھر میں جدا جدا ہیں۔دیس دیس کے رنگ نرالے بھی ہیں اور خوشیوں سے عبارت بھی ہیں۔ گلگت بلتستان پاکستان کا ایک انتہائی حسین وجمیل اور حساس ترین علاقہ ہے۔ اس کی سرحدیں بیک وقت بھارت، چین اور افغانستان کے ساتھ لگتی ہیں۔اس لیے گلگت بلتستان کے کلچر میں پاکستان اور کشمیر سمیت چین اور بھارت کا بھی بڑا دخل ہے۔ گلگت بلتستان کے دس اضلاع ہیں اور تین ڈویژن۔ ان تینوں ڈویژنوں کے لوگوں کی زبانیں بھی الگ ہیں، مذہب و مسلک بھی الگ ہیں اور ساتھ ہی رہن و سہن اور کلچر بھی بالکل الگ تھلگ ہے۔

یہاں کے ہر علاقے میں عید کی خوشیاں مختلف طریقوں سے منائی جاتی ہیں۔ہر ایک کے جداگانہ رسم و رواج اور عید منانے کے طور طریقے مختصر بیان کرنے سے پہلے کچھ وہ رسومات عرض کیے دیتے ہیں جو پورے گلگت بلتستان میں یکساں ہیں۔

گلگت بلتستان کے سارے لوگ عید الفطر ہو یا عیدالاضحی مذہبی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ نمازِ عید کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاہم اکثر دیہاتوں میں نماز عید اب بھی نہیں ہوتی۔ایک دوسرے کو مبارک باد دینا، رشتہ داروں، ہمسائیوں اور دوستوں کے گھر جانا، عید کے لیے تیار کیے جانے والے روایتی کھانوں پر نہ صرف رشتہ داروں کو بلایا جاتا ہے بلکہ دور دور تک کھانے  پہنچائے جاتے ہیں۔ عیدالفطر میٹھی عید کے طور سے جانی جاتی ہے تو گلگت بلتستان میں بہت ساری میٹھی ڈشز تیار کی جاتی ہیں۔بچوں کو عیدی دی جاتی ہے۔خواتین بالخصوص نوجوان لڑکیاں اپنے ہاتھوں اور پیروں کو رنگِ حنا سے خوب سجاتی ہیں۔عید کے لیے نیے کپڑے سلوانا رواج عام ہے۔ گلگت بلتستان کے مرکزی شہروں میں خواتین عید شاپنگ بڑے پیمانے میں کرتی ہیں تاہم دیہاتوں میں اب بھی عیدکی ساری خریداری مرد ہی  کرتے ہیں۔ ابھی تک دیہاتوں میں عید شاپنگ کا کلچر نہیں پہنچا۔یوں سب اس تہوار کو بھرپور طریقے سے منانے کی کوشش کرتے ہیں۔نوجوان بچیوں اور بچوں کی خوشیاں دیکھنے کی ہوتی ہیں۔ محدود حدود میں خوب گل غپاڑہ  کرتے ہیں۔

مبارک باد دینے کا انداز بھی تمام علاقوں کا  مختلف ہے۔ان  برسوں میں عید الفطر گرمیوں میں ہوتی ہی اس لیے نوجوان لڑکے گروپ بنا کر گھومنے پھرنے دور دراز وادیوں میں چلے جاتے ہیں۔ کیمپنگ کرتے ہیں۔ پکنک پوائنٹس میں فیملز کے ساتھ جانا بھی شروع ہوچکا ہے۔ تاہم بہت کم تعداد میں۔ دیامر میں عید مبارک بادی کو اتنا اہم نہیں سمجھا جاتا جبکہ ہنزہ، غذر اور گلگت میں مختلف انداز اور طریقوں میں مبارک بادی دی جاتی ہے۔ ہاتھ چومے جاتے ہیں۔ پیشانی اور سر پر بوسہ دیا جاتا ہے ۔

گلگت بلتستان میں عید کے موقع پرروایتی کھانوں میں گوشت، چاول، میکرونی، شرکے(کیک نما پراٹھا)فروٹ چاٹ، سویاں، سوجی حلوہ،کسٹرڈ،نمکو اور سویٹس کا استعمال بڑے پیمانے  پر  ہوتا ہے۔فروٹ بھی خوب استعمال کیا جاتا ہے۔دیہاتوں میں خشک فروٹ کا رواج آج بھی زندہ ہے۔ میٹھی چائے کے ساتھ شرکہ پورے  گلگت بلتستان  میں عید کی خصوصی ڈش ہوتی ہے۔ کھانے سے پہلے اس کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں دیسی کھانے پکتے ہیں جن میں خالص دیسی گھی استعمال ہوتا ہے جیسے شربت، گولی، تلتاپے، مل  اور دودھ کے ساتھ گھی کا مکسچر۔

ایک عام رواج یہ ہے کہ  عید کے دن مساجد، امام بارگاہیں اور جماعت خانوں میں کھانا بھیجا  جاتا ہے۔ دیہاتوں میں تو اس کو آج بھی انتہائی لازمی سمجھا جاتا ہے اور جن دیہاتوں میں نماز عید نہیں پڑھائی جاتی وہاں نماز فجر کے بعد لوگ عید کے دن افطار بھی گھروں سے  آئے  کھانوں سے کرتے ہیں۔

عید کے دن نوجوان لڑکے بن ٹھن کر گھروں سے نکلتے ہیں۔ آنکھوں میں سرمہ، کپڑوں پر خوشبو لگاتے ہوئے اپنے روایتی کھیلوں کے لیے مختلف میادین، باغ اور جگہوں کا رخ کریں گے۔ کہیں پر فٹ بال تو کہیں پر کرکٹ کھیلا جاتا ہے۔ مختلف علاقوں کے نوجوانوں میں مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ لڈو اور تاش بھی کھیلا جاتا ہے۔ضلع غذر میں انڈوں سے لڑائیاں   کروائی جاتی ہیں  اور ہر کوئی مخالف فریق کے انڈے کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے، دیسی اور فارمی انڈوں کا مقابلہ الگ الگ ہوتا ہے۔ضلع غذر میں شرکے کا بھی بڑا خاص اہتمام ہوتا ہے۔

چاند رات سے پہلے پہلے بڑی مقدار میں شرکہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی تقسیم بھی خوب ہوتی ہے۔ شادی شدہ خواتین کے پاس ان کا حصہ پہنچایا جاتا ہے۔ جن خواتین کی شادی دور علاقوں میں ہوتی ہیں ان کے پاس عید سے اگلے روز خصوصی طور پر جانا ہوتا ہے اور وہ بھی اس انتظار میں ہوتی ہیں کہ میرے باپ کے گھر سے کون آئے گا اور کیا خصوصی تحفہ لے کر آئے گا۔ پہلے زمانے میں اس کا اتنا سخت اہتمام ہوتا کہ ہزاروں میل پیدل اور گھوڑوں پر سفر کرکے غذر سے سری نگر تک  لوگ جاتے تھے۔

ضلع دیامر میں کافی سال پہلے مرد حضرات ایک بیاک میں جمع ہوتے اور مختلف قسم کے کھیل ہوتے۔ بسرا(کبڈی) اور رسہ کشی کا اہتمام ہوتا تھا۔پھر نوجوان کشتی بھی کھیلتے۔ بل بٹ کا آج بھی شوق سے اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس میں دو کلو کے وزنی پتھر ہاتھ سے پھیکا جاتا ہے کسی میدان میں،نوجوانوں میں بھرپور مقابلہ ہوتا ہے۔

اسی طرح کافی سال پہلے خواتین عید الفطر میں کسی محفوظ گھر میں جمع ہوتیں  اور ایک وقت ناچ گانے کا اہتمام کرتیں  اور خوشیاں مناتی تھیں ۔ لیکن اب یہ رواج باقی نہیں۔

بعض علاقوں میں چھوٹی بچیاں آج بھی جمع ہوکر ناچ گانا کرتی ہیں۔  دیہاتوں میں بڑے بوڑھے مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور طویل مباحثے کرتے ہیں۔ضلع استور میں بھی تقریباً  یہی کچھ ہوتا رہتا ہے۔استور میں  انتہائی نفاست کے ساتھ عید ڈشز تیار کی جاتی ہیں۔دیامرمیں شادی شدہ خواتین عید کے دن یاچاند رات، اسپیشلی اپنے میکے جاتی ہیں۔ پہلے زمانے میں اس کو لازمی سمجھا جاتا تھا۔عورتیں  میلوں سفر کرکے میکے جاتی  تھیں لیکن آج کل اس رواج نے بھی دم توڑ چکا ہے۔نئی دلہنیں بہرصورت عید اپنے میکے ہی گزارتی ہیں۔

ہنزہ نگر میں بھی عید کی خوشیوں کا یہی عالم ہے۔ مخصوص ڈشز میں شربت(دیسی گھی اور گندم کی خاص پسائی والے آٹے سے تیار کیا جاتا ہے) اور شاپ شرو وغیرہ بنایا جاتا ہے۔ہنزہ اور اس کے تمام مضافاتی گاوں میں عید کے بعد کئی ایام تک رقص و سرور اور موسیقی کی بڑی بڑی محفلیں سجتی ہیں۔ کچھ سالوں سے ہنزہ کے بڑے بوڑھے اور جوان رقص و سرور کی ان محفلوں کو قراقرم ہائی وے تک لے آئے ہیں۔ جہاں ان کے ساتھ ملکی اور غیر ملکی سیاح بھی مقامی گانے اور ڈھول باجوں پر خوب ناچتے ہیں۔

راجوں کے باغات اور دیگر مخصوص مقامات میں خواتین و حضرات کی مخلوط محفلیں منعقد کی جاتی ہیں جہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں جی بھر کر علاقائی ڈانس سے سامعین و ناظرین کو محظوظ کرتے  ہیں۔

ضلع نگر میں کم و بیش عید کی سوغاتوں میں دیسی گھی کا شربت,درم فٹی,مل اور شری کژ خاصہ مشہور ہیں۔نماز عید کے بھر اہل محلہ مختلف گھروں میں ان سوغات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔بلتستان میں بھی عید کے رنگ خوب ہوتے ہیں۔ روایتی ڈشز میں ہرپکور(میٹھی روٹی)کا اہتمام ہوتا ہے جو بادام اور خوبانی کے تیل میں بھگو کر معززین کو پیش کی جاتی ہے۔ باقلا(مٹرنما)کو بھی مصالحہ جات میں ملاکر بچوں اور بڑوں کو خصوصیت کے ساتھ دیا جاتا ہے۔بلتستان میں سب سے زیادہ انڈوں کا رواج ہے۔ انڈوں کو مختلف رنگوں میں رنگا جاتا ہے۔ مہمانوں بالخصوص بچوں کو اپنے ساتھ گھروں میں لے جاکر استعمال کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔عید کے دن داماد سسرالیوں کے ہاں جاتا ہے تو اس کو واپسی پر ہرقسم کے انڈے پندرہ بیس درجن تک دینے کی قدیم رسم آج بھی برقرار ہے۔

بلتستان میں عید کے دنوں میں راجہ اور وزرا لوگ پولو کا مییچ کھیلتے ہیں۔ شائقین کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔ضلع گلگت میں بھی عید کی خوشیاں خوب منائی جاتی ہیں۔عید کے دنوں میں رشتہ داروں سے میل ملاپ کیا جاتا ہے، نماز عید سے پہلے رشتہ داروں سے ملاقات کی جاتی ہے۔
گلگت بلتستان میں عید کے دن تحفے تحائف دینے  کا بھی رواج ہے۔

کافی سال پہلے گلگت بلتستان کے روایتی ملبوسات میں جھولی(اونی چادر) شوکا(اونی جبہ)پکول اور اونی ٹوپی، اونی واسکٹ اور کوٹ اور خواتین کے لیے ہر علاقے کی مخصوص ٹوپیوں اور پھرن کا رواج تھا تاہم آج بھی کافی پیمانے پر ان چیزوں کا استعمال ہوتا ہے لیکن بہت کم ہوگیا ہے۔ یہی چیزیں عید کے دن گفٹ بھی کی جاتی  ہیں۔

عید کی دوپہر اور شام کے وقت عید کی مناسبت سے خاص طور پر تیار کیے گئے روایتی کھانے دستر خوان کی زینت بنتے ہیں۔ یوں یہ خوشیوں بھرا تہوار ہر چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کا سبب بنتا ہے۔

امیر جان حقانی
امیر جان حقانی
امیرجان حقانیؔ نے جامعہ فاروقیہ کراچی سےدرس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے تمام اخبارات و میگزین اور ملک بھر کی کئی آن لائن ویب سائٹس کے باقاعدہ مقالہ نگار ہیں۔سیمینارز اور ورکشاپس میں لیکچر بھی دیتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *