دکھیاروں کے درد میں کود جائیے۔۔۔وقار اسلم

اللہ سبحانہ وتعالٰی نے ہمیں یہ ماہ رمضان عطا ء کیا جس کی روح ہے ہمدردی اور رقیق القلب ہو کر انسانیت کی معراج پر آنا،مفادپرستی سے مرصع نہ ہونا  اور خلق خدا کی قدر کرنا، اللہ ہمیں کماحقہ اس ماہ مقدس کی برکات و فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا ء کرے۔رمضان ہمیں تشویق و تحریص دیتا ہے کہ دکھیاروں کے ساتھ قدم بقدم چلیں ان کے دکھوں کا مداوا کریں، کار خیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔رمضان المبارک کا مہینہ معاشرے کے ان طبقات کا دکھ بانٹنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے جو زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں۔مختلف ادارے محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن،الخدمت،اخوت،فلاح انسانیت,سندس فاؤنڈیشن،سیلانی ویلفئیر،ثریا عظیم ٹرسٹ، غزالی فاؤنڈیشن,سجاگ فاؤنڈیشن و دیگرنجیب اور مستحسن ادارے شاندار طریق سے اس ضمن میں اپنی کاوشیں کرتے ہیں۔

رمضان میں راشن کی تقسیم کا مقصد غریب خاندانوں کو سحری و افطاری کیلئے آسانیاں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات کو یہ شعور بھی دینا مقصود ہے کہ رمضان کا مہینہ انہیں رضائے الہی کے حصول کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ وہ غریبوں کی مالی مددکر کے ان کے چہروں پر خوشیاں لا کر حقیقی خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔رمضان کی روح قربانی ہے، اپنی ضروریات کو محدود کر کے معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کو باعزت مقام دلانے کیلئے جدوجہد کرنا ہی زندگی کا مقصد ہونا چاہیے اسکے آغاز کیلئے رمضان المبارک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔۔۔

آپ بھی مدد کرکے کسی غریب اور نادار خاندان کو راشن پیکیج فراہم کیجئیے میری مرحوم والدہ مسرت بیگم بھی کار خیر میں اپنا ادںی حصہ ڈالتی تھیں سیلانی ویلفئیر،ادارہ تبلیغ القرآن سمیت دیگر اداروں کی فرض شناسی کی قائل تھیں اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔۔۔

رمضان الکریم جب اس بہترین جذبے کا اظہار کرنا بہت بہتات سے ہوتا نظر آ تا ہے لیکن تمام فلاحی ادارے میڈیا تک رسائی نہیں رکھتے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود معاشرے میں اپنے اردگرد نظر رکھیں اور نیک طینت والے اداروں کے فلاحی اور رفاحی کاموں میں ان کی مدد ضرور کریں چاہے جتنی بھی با آ سانی کی جا سکے ۔اکثر ادارے ایسے ہیں جو اپنی تشہیر یا پبلیسٹی نہیں چاہتے یا رسائی انہیں نہیں ملتی جفا سے توبہ کرنے والے بشریت کے جذبے سے عاری نہیں رہتے بلکہ بڑھ چڑھ کے مدد کے لئے آگے بڑھا کرتے ہیں دکھی دل کا سہارا بنتے ہیں۔اس ماہ مقدس میں رب کی خوشنودی کے حصول کی خاطر اپنے عطیات،زکوۃ دیکھے بھالے جانے پہچانے اداروں تک ضرور بروقت پہنچانی چاہیے تاکہ محبت کے داعی ہونے کی دلیل دی جائے۔

گجرات کے گاؤں بانٹوا کا نوجوان عبدالستار گھریلو حالات خراب ہونے پر کراچی جا کر کپڑے کا کاروبار شروع کرتا ہے کپڑا خریدنے مارکیٹ گیا وہاں    کسی نے ایک آدمی کو   چاقو مار دیا زخمی زمین پر گر کر تڑپنے لگا لوگ زخمی کے گرد گھیرا ڈال کر تماشہ دیکھتے رہے وہ شخص تڑپ تڑپ کر مر گیا..

نوجوان عبدالستار کے دل پر داغ پڑ گیا , سوچا معاشرے میں تین قسم کے لوگ ہیں دوسروں کو مارنے والے مرنے والوں کا تماشہ دیکھنے والے اور زخمیوں کی مدد کرنے والے .. نوجوان عبدالستار نے فیصلہ کیا وہ مدد کرنے والوں میں شامل ہو گا اور پھر کپڑے کا کاروبار چھوڑا ایک ایمبولینس خریدی اس پر اپنا نام لکھا نیچے ٹیلی فون نمبر لکھا اور کراچی شہر میں زخمیوں اور بیماروں کی مدد شروع کر دی.

وہ اپنے ادارے کے ڈرائیور بھی تھے آفس بوائے بھی، ٹیلی فون آپریٹر بھی، سویپر بھی  اور مالک بھی وہ ٹیلی فون سرہانے رکھ کر سوتے فون کی گھنٹی بجتی یہ ایڈریس لکھتے اور ایمبولینس لے کر چل پڑتے ،زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال پہنچاتے، سلام کرتے اور واپس آ جاتے .. عبدالستار نے سینٹر کے سامنے لوہے کا غلہ رکھ دیا لوگ گزرتے وقت   ریزگاری اس میں ڈال دیتے تھے یہ سینکڑوں سکے اور چند نوٹ اس ادارے کا کل اثاثہ تھے .

یہ فجر کی نماز پڑھنے مسجد گئے وہاں مسجد کی دہلیز پر کوئی نوزائیدہ بچہ چھوڑ گیا مولوی صاحب نے بچے کو ناجائز قرار دے کر قتل کرنے کا اعلان کیا لوگ بچے کو مارنے کے لیے لے جا رہے تھے یہ پتھر اٹھا کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے ان سے بچہ لیا بچے کی پرورش کی ،آج وہ بچہ بنک میں بڑا افسر ہے ۔

یہ نعشیں اٹھانے بھی جاتے تھے ،پتا چلا گندے نالے میں نعش پڑی ہے یہ وہاں پہنچے دیکھا لواحقین بھی نالے میں اتر کر نعش نکالنے کے لیے تیار نہیں، عبدالستار ایدھی نالے میں اتر گیا, نعش نکالی گھر لائے غسل دیا کفن پہنایا جنازہ پڑھایا اور اپنے ہاتھوں سے قبر کھود کر نعش دفن کر دی .

بازاروں میں نکلے تو بے بس بوڑھے دیکھے ،پاگلوں کو کاغذ چنتے دیکھا، آوارہ بچوں کو فٹ پاتھوں پر کتوں کے ساتھ سوتے دیکھا تو اولڈ پیپل ہوم بنا دیا ،پاگل خانے بنا لیے ،چلڈرن ہوم بنا دیا، دستر خوان بنا دیئے، عورتوں کو مشکل میں دیکھا تو میٹرنٹی ہوم بنا دیا . لوگ ان کے جنون کو دیکھتے رہے ان کی مدد کرتے رہے یہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ ایدھی فاؤنڈیشن ملک میں ویلفیئر کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا

یہ ادارہ 2000 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی آ گیا . ایدھی صاحب نے دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس بنا دی . عبدالستار ایدھی ملک میں بلا خوف پھرتے تھے، یہ وہاں بھی جاتے جہاں پولیس مقابلہ ہوتا تھا یا فسادات ہو رہے ہوتے تھے، پولیس ڈاکو اور متحارب گروپ انہیں دیکھ کر فائرنگ بند کر دیا کرتے تھے، ملک کا بچہ بچہ بعد عبدالستار ایدھی کو جانتا ہے۔

ایدھی نے 1951 میں اپنی پہلی ڈسپنسری قائم کی، اور آہستہ آہستہ کراچی کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک اپنا کام بڑھاتے گئے۔ رفتہ رفتہ یہ سلسلہ نہ صرف ملک بھر میں، بلکہ ملک سے باہر بھی پھیل گیا۔

ایدھی صاحب نے 2003 تک گندے نالوں سے 8 ہزار نعشیں نکالی 16 ہزار نوزائیدہ بچے پالے.. انہوں نے ہزاروں بچیوں کی شادیاں کرائی یہ اس وقت تک ویلفیئر کے درجنوں ادارے چلا رہے تھے لوگ ان کے ہاتھ چومتے تھے، عورتیں زیورات اتار کر ان کی جھولی میں ڈال دیتی تھیں ، نوجوان اپنی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر انہیں دے کر خود وین میں بیٹھ جاتے تھے

. 2016 میں عبدالستار ایدھی داغ مفارقت دے گئے آج اس دنیا میں نہیں ہیں مگر ان کے بنائے ہوئے فلاحی ادارے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں.
اللہ پاک ایدھی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ جو کوڑھ لیپروسی کے مرض کا  علاج کرتی رہیں وہ بھی ہم میں نہیں۔اب بھی رمضان چھیپا ،بلقیس ایدھی،فیصل ایدھی،ڈاکٹرادیب رضوی
گوہر نایاب فکس اٹ والے عالمگیر،  ہماری قوم کا اثاثہ ہیں۔ماہ سعید کی فضیلت   کو سمجھتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ خلقت خداوند کے کام آئیں جتنی بھی استطاعت رکھتے ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *