پطرس ۔۔ایک عبقری

انیسویں صدی کئی اہم واقعات کے اندراج کے ساتھ اپنے اختتام کی طرف گامزن تھی۔1898میں برٹش راج، چین سے ہانگ کانگ کو سوسالہ پٹے پر لے رہا تھا، امریکا بہادر ابھی نیٹ پریکٹس کرنے کی خاطر اسپین کے زیر تسلط ممالک میں جنگ شروع کر رہا تھا ، ایملی زولا فرانسیسی صدر کو کھلا خط لکھ کر جیل میں ڈالا جاچکا تھا۔ Caleb Bradham اپنے ایجاد کردہ کالے پانی کو” پیپسی” کا نام دے رہا تھا۔ میری(Mary) اور پئیر(Pierre) کیوری ریڈیم دریافت کر رہے تھے۔سرسید احمد خان دنیا سے رخصت لے رہے تھے اور ایک نیا ستارہ آسمان ادب پر روشن ہورہا تھا جسے سب آج “پطرس بخاری” کے نام سے جانتے ہیں۔
اپنے اسکول کے ہیڈ ماسٹر Peter Watkins کی طرف سے”پیر” کی جگہ پکارے جانے والے نام” پئیر”(Pierre فرانسیسی میں پیٹر کا ہم معنی اور فارسی میں اس کا متبادل پطرس کہلاتا ہے)کونوجوان پیر سید احمد شاہ بخاری نے جب لکھنے کاآغاز کیا تواپنے استاد کو تعظیم دینے کے لئے پیٹر واٹکنس کا قلمی نام اختیار کیااور پھر رفتہ رفتہ اس” پیٹر” کے فارسی متبادل پطرس کے قلمی نام کواختیار کرلیا ۔سول اینڈ ملٹری گزٹ سے شروع ہونے والا یہ سفر بالآخر پطرس کے مضامین جیسی لازوال کتاب کو منصہ شہود پر لانے کا سبب بنا ۔ مزاحیہ ادب میں نمائندہ کی اہمیت اختیار کر جانے والی یہ مختصر کتاب،ضخیم اور لوگوں کی ساری زندگی کی تحاریر و تخلیقات پر بھاری ہے۔بلا کے ذکی الحس ،حاضر دماغ، جملے باز سید احمد شاہ بخاری اپنی تحاریر، چٹکلوں اور شاگردانِ رشید کی بدولت نہ صرف اردو ادب میں زندہ ہیں بلکہ جب تک اردو ادب پڑھا جاتا رہے گا ,اسی طرح لوگوں کو گدگداتا رہے گا۔
مزاح لکھنا اور وہ بھی اس پائے کا کہ زیرلب تبسم سے شروع ہوکر فلک شگاف قہقہے میں تبدیل ہوجائے اور ناواقفانِ حال سمجھیں کہ شائد پاگل پن کا دورہ پڑ گیا ہے جو یوں قہقہے لگا رہا ہے ،ہرکسی کے بس کا روگ نہیں ۔مزاح لکھنے کے لئے زندگی کے سارے روپ،سروپ اور لوگوں سےاٹوٹ پیار شرط اول ہے ۔ان کی عادات و اطوار اور افعال کا عمیق جائزہ اور مشاہدہ اور اسے حافظے کی سلیٹ پر محفوظ کرتے جانا اور بعد میں اسے قرطاسِ ابیض پر یوں اتارنا کہ قاری کو محسوس ہو کہ آنکھوں دیکھی یا ہڈ بیتی بیان کی جارہی ہے اور اس قصے کا ایک اہم ستون آپ خود ہونا ہی ، اصل خوبی ہے جو عام کو خاص بناتی ہے۔
مگر صاحبو یقین مانیے ،ذاتی تجربے سے لے کر نامور ادبا اور اساتذہ کے تجربات سے جتنا کشید کرسکا ہوں ،یہی جانا ہے کہ جس سطح پر یہ لوگ سوچتے ہیں اس کا اندازہ ان کی تحاریر پڑھ کر ہی نہیں بلکہ ان سے بات چیت اور اس سے چھلکتے مزاح سے حاصل ہوتا ہے۔رونے کی جگہ ہنسنا اور رلانے کی جگہ ہنسانا کہیں مشکل ہے۔رونا قنوطیت اور احساس زیاں کانام ہے،اس کا قالب دنیاوی لالچ سے منسلک ہے۔اس لئے غم کے رنگ یکسانیت لئے ہوتے ہیں جبکہ مزاح بھانت بھانت کی بولیوں ،جملوں ،سچوئشنز ، واقعات اور شیڈز لئے ہوتا ہے۔یہ پست سے پست اور بلند سے بلند سطح تک جاسکتا ہے۔یہاں تک بلند ہو سکتا ہے کہ انسان کی زندگی، جذباتی، اخلاقی اور عقلی عظمت کا اندازہ اس کے ہنسنے سے کیا جا سکتا ہے۔مزاح لکھنے والے بہت زیادہ حساس ،زود رنج،اور کسی نہ کسی جسمانی عارضہ میں مبتلا ہونے کے باوجود مسکرانے اور مسکراہٹ بکھیرنے پر قادر ہوتے ہیں۔اپنے حالات پر کڑھنے کی بجائے اسے رقم کرکے مزاح کا رنگ دے کر قاری کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔
پطرس کے مضامین ساری دنیا بڑے ذوق شوق سے پڑھتی اور حظ اٹھاتی ہے مگر اصل پطرس اپنے خطوط اور شاعری میں کھلتا ہے ،آپ کو ایک ایسے پطرس سے تعارف حاصل ہوتا ہے جو جسمانی عوارض سے لڑتے بھڑتے زندگی کی کشتی لشتم پشتم کھیتے کھیتے مصائب کا انبوہِ بار ِ گراں اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے مسکرائے جاتا ہے۔فطری طور پر لکھ لٹ اور یارو ں کا یار سید احمد شاہ بخاری اپنی زندگی کا تمام اندوختہ اپنے ذاتی استعمال کی بجائے اپنے رفقااور کسمپرسی میں رہنے والے اعزا و اقارب پر خوشدلی سے خرچ کرتا رہا اور دیارِ غیر میں سادگی اور قناعت بھری زندگی میں حال مست چال مست رہا۔عبدالمجید سالک کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں”جو کچھ پس انداز کیا تھا منصور(بیٹا) کی شادی پر خرچ کر ڈالا،جو کھرچن باقی تھی اسے جوں توں کرکے ہارون (بیٹا)کےلئے بھیج دیا۔اب محض قلندر ہوں ،آئندہ معاش کا بھی کچھ یقین نہیں۔عمر بھر جو کچھ کمایا تھا وہ کچھ زیادہ نہیں تھا لیکن نہ معلوم کہاں چلا گیا؟کسی دن فرصت سے اس پر غور کروں گا۔ممکن ہے میں نے کہیں دفن کر رکھا ہو اور بھول گیا ہوں”۔( اپنے دکھ سے بھی مزاح کا عنصر پیدا کر لینا بڑے ادیبوں کی نشانیوں میں سے ہے)۔ اسی مزاحیہ انداز میں بات سے بات پیدا کرتے ہوئے ایک خط میں مولانا غلام رسول مہر سے یوں شکوہ کناں ہیں” آپ خط کا جواب ہمیشہ کسی ایسے کاغذ پر دیتے ہیں جو انگریز لوگ حوائجِ ضروریہ کے سلسلے میں استعمال کرتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے آپ عدیم الفرصتی کی وجہ سے بیت الخلا میں بھی خط لکھتے رہتے ہیں لہٰذا جواب کے لئے ایک سادہ کاغذ بھی ارسال خدمت ہے”۔
نحیف و نزار ،بیمار یہ سفارت کار صرف ادبی میدان میں ہی جھنڈے نہیں گاڑ رہا تھا بلکہ ملکی خدمت کے لئے دائم المرض ہونے کے باوجود اپنی استطاعت سے بڑھ کے اپنے فرائض سر انجام دیتا رہا۔اقوام متحدہ میں مستقل مندوب کی حیثیت سے اپنی خدمات اس شاندار طریقے سے ادا کیں کہ اپنے بیگانے سب اس دل موہ لینے والے انسان کی صلاحیت اورشخصیت کے گرویدہ ہوگئے اور برملا ان کا سکہ چلنے لگا،پاکستان کو اپنے ابتدائی دنوں میں اقوام عالم میں روشناس کروانے سے منوانے تک اور بہت سارے محاذوں پر چومکھی لڑنے اور سرخرو ہونے میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ مسئلہ تیونس کے حل میں ان کا کردار اتنا جاندار تھا کہ تیونس میں انھیں قومی ہیرو کی طرح پوجا جاتا ہے۔میکسکو میں ریڈیو فریکوئینسی کی تقسیم جسے امریکا اور روس اپنے حواریوں کو نوازنے کے لئے بندر بانٹ کی حد تک جانے کو تیار تھے،پطرس بخاری کی مداخلت اور قائدانہ کردار کے باعث بخوبی طے پائی۔اس کانفرنس سے پہلے پاکستان کو زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے، اختتام پر ہر کوئی پکار رہا تھا پاکستان پاکستان۔ طرفہ تماشہ دیکھئے برطانیہ کو ۷۰ کے مقابلہ میں ۵ ووٹوں تک محدود کردیا انہوں نے دبنگ لابنگ سے ۔پطرس ہسپانوی زبان، کانفرنس کے آغاز میں بولنا نہیں جانتے تھے،اختتامی تقریب میں ہسپانوی زبان میں خطبہ دے کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور چھوٹے ممالک کے تمام سفارت کار ان کو مرشد ماننے لگے۔
غم روزگار اور بیماری نے اس عظیم ادیب کو وہ کچھ لکھنے کی مہلت نہ دی جو وہ لکھنا چاہتے تھے ،اردو ادب کا انگریزی میں ترجمہ شائد ہی کوئی ان سے بہتر کر سکتا تھا اور ان کی شدید خواہش تھی کہ چنندہ اور نمائندہ اردوادب ساری دنیا تک پہنچے اور اپنا آپ منوائے ۔یونیسیف کے لئے بچوں کا ادب ہو، یا ملکی تعارف پر مضامین ہوں، ہر جگہ ان کا کردار سامنے آتا ہے۔سید امتیاز علی تاج کے ساتھ مل کر تھیٹر کے اوپر ایک یادگار کتاب لکھنا چاہتے تھے کہ تاریخی ورثہ محفوظ ہوجائےمگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ امریکا میں رہنا صرف بسلسلہ ملازمت ہی نہیں تھا بلکہ اپنے علاج معالجہ کی وجہ سے وطن، فیملی اوراحباب سے دوری ایک مجبوری بن چکی تھی جو دم آخر تک ان کے لئے ایک پچھتاوا بن کر ان کے ساتھ چلتا رہا۔ ۵ دسمبر 1958 کو یہ عبقری سب کو روتا دھوتا چھوڑ ، مٹی اوڑھ کر سوگیا مگر اپنی ہمہ جہت شخصیت اور کارناموں اور تخلیقات کی بدولت ہمیشہ کے لئےامر ہوگیا۔

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *