مردہ قوم کی مجرمانہ خاموشیوں کا تسلسل

ہم نے بحیثیت اشرف المخلوقات کیا بویا اور کیا کاٹا اس کی بحث اور تفصیل میں اگر ہم جانا چاہیں تو شاید وقت ہمارا ساتھ نہ دے پائے گا۔لیکن ہم موجودہ انسان کی قدیم اور جدید تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ایک بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ زندہ دل اور خودمختار قوموں کے لچھن یا وائٹل سائنز بالکل ہی جدا اور چمکدار ہوتے ہیں۔زندہ دل قومیں اپنے قومی و ملکی معاملات میں ایک دم آزاد اور خودمختار ہوتی ہیں۔زندہ دل قوموں کو کوئی اہم فیصلہ کرتے وقت کسی کا کھٹکا یا ڈر ہرگز نہیں ہوتا۔زندہ دل قوم کا ہر فرد زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور اور محفوظ آزادی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔زندہ دل قوم اپنے لوگوں کا خون کبھی معاف نہیں کرتی اور نہ ہی قاتل کبھی زندہ دل قوموں کی گرفت سے نکل کر آزاد زندگی گزار پاتا ہے۔زندہ دل قوم اپنی فوج اور محافظ اداروں پر ہر حال میں بھروسہ رکھتی ہے۔زندہ دل قوم ایمانداری کی اعلی مثال ہوتی ہے اور وہ اپنا لیڈر بھی ایماندار ہی چنتی ہے پوری ایمانداری سے۔زندہ دل قوم ماضی سے سبق حاصل کرتی ہے اور اس سبق کے بھروسے حال سدھارنے کی تگ و دو کرتی ہے اور اپنا مستقبل روشن کرنے کی خاطر سابقہ غلطیوں اور حال کی کامیابیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے منصوبے تشکیل دیتی ہے۔زندہ دل قوم کا بھروسہ اور اعتماد نوجوانوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔زندہ دل قوم ہی جنگل کو جنت بنانے کا ہنر رکھتی ہے اور دوسروں کو بھی اس جنت کا مزہ چکھنے کا موقع دیتی ہے۔
آخر یہ زندہ دل قوم کونسی قوم ہے جو اسی دنیا میں موجود ہے مگر لوگ انجان بنے ہوئے ہیں؟آخر کون ہیں وہ لوگ جو مل کر ایک زندہ دل قوم کی تشکیل کرتے ہیں اور جو ہمارے لیئے بے مثال ہیں؟آپ نے جن زندہ اقوام کا ذکر سنا یا پڑھا ہے وہ تو اب ناپید ہوچکی ہیں ۔اب زندہ قومیں اور معاشرے فقط کتابوں اور لیکچرز تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ہم تاریخ سے اگر زندہ قوموں کا حوالہ لینا چاہیں تو کیا نتیجہ ہے ہمارے پاس؟مغربی اقوام اگر کوئی نام اخذ کریں گی تو وہ ہرایک کااپنا نام ہوگا۔وہ مشرقی اقوام کا اپنا ایک الگ تشخص لائیں گے۔بہرحال مدعا یہ ہے کہ مغربی اقوام خود کو زندہ دل کہلانے پر مصر ہیں ۔برطانوی قوم, جن کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا خود کو تاریخ کی زندہ قوم مانتی ہے مگر جب ہم بحیثیت تاریخ کے طالبعلم کے ان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ا ن کی مردہ دلی, دہشت پسندی, غاصبانہ تاریخ اور شیطانیت کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔
جرمن, خون اور مصنوعات سے لت پت مگر غرور زندہ دلی اور عظمت صاف جھلکتی ہے۔آدھی دنیا کو جنگ میں جھونکنے اور بطور قبضہ مافیاکے علاوہ اور کیا پہچان ہے ان دونوں اقوام کی؟فرانسیسی,جو صدیوں سے ایک پہچان اور زندہ دلی کے حصول کی خود ساختہ جنگ لڑنے میں مصروف ہیں مگر دو اور اقوام اسے مقابلے میں شامل نہیں ہونے دے رہیں ۔غرض سارا یورپ کنگھال کر دیکھ لیں سبھی نام نہاد زندہ دل قوموں کا ماضی چیخ چیخ کر گواہی دے رہا ہے کہ یہاں زندہ دلی کا میعار ہی مردہ دل ہونا اور انسانوں کو مردوں میں تبدیل کرنا ہے۔یورپ سے پار چلے جائیں تو دو اڑھائی سو سال پہلے یورپی ڈاکوؤں, چوروں, زانیوں, بدمعاشوں, اخلاقی مجرموں,مذہبی مجرموں اور زندگی بیزار چند لوگوں نے سزا بھگتاتے بھگتاتے ایک بہت بڑے براعظم کو رگید ڈالا۔پھر کئی عشرے خود بھی اسی سر زمین پر لڑ مر کر ایک قوم بننے کا نادر خیال آیا اور بس وہیں سے اس دنیا کا بھیانک زوال شروع ہوا۔وہ صرف قوم ہی نہیں بنے بلکہ زندہ قوم بننے کی تگ و دو بھی شروع کردی۔
تمام نام نہاد قوموں سے تاریخ ان کے آغاز سے لے کر آج تک ان کی زندہ دلی کا تاوان سود سمیت بھر وارہی ہے ۔ا ب وہ زندہ دل قوم کیسے ہو سکتی ہے جو عام انسانوں کو اپنی زندہ دلی تسلیم کروانے کی خاطر جنگ و جدل اور لوٹ مار کا بازار گرم کرکے رکھے۔جو آزادی کو پسند کرے مگر صرف اپنے لیئے۔اگر نامور اور رعب دار ہونا ہی زندہ دلی ہے تو پھر سب کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ ایک دوسرے کی زندہ دلی کو چیلنج کرتے ہوئے عوام کا قتل عام کرے۔پھر کیا برا ہوا کہ تاریخ میں موجود سبھی شاہوں اور ظالم و جابر افراد کو فقط اس لیئےمعاف کردیا جائے کہ وہ تو بس زندہ دل قوم کا لقب حاصل کرنے کی ہی تو سعی اور جستجو کر رہے تھے۔کیا فرعون, نمرود, شداد, قارون, بخت نصر, سکندر, پورس, چندر گپت موریہ, اشوکا, ابو جہل, راجہ داہر, چنگیز خان, ہلاکو خان, شمر, شرجیل, ہٹلر اور اب کلنٹن, جارج بش, اوبامہ, ٹرمپ, مودی یا ہر ایک جنگی و خونی سوچ کا حامل حکمران انسان زندہ دل قوم کی جنگ نہیں لڑ رہا یا لڑتے لڑتے مرر ہا۔کیا ہوا گر جنگ و جدل ہی زندہ دلی کا تاریک پہلو ہو۔کیا ہو اگر زندہ دل قوم بننے کے لیئے دوسری قوم کے سامنے مردہ دل بنا جائے۔کیا ہو کہ انسانوں کا قتل یہ کہہ کر معاف کردیا جائے کہ جی یہ تو زندہ دلی کی جنگ تھی اس میں کسی فرد واحد کا کیا قصور اور وہ کاہے کو سزا کا حقدار ہو۔وہ کون سا خود کی ذاتی جنگ لڑتا ہوا پکڑا گیا ہے۔یہ تو ایک مقابلہ ہے قوموں کے درمیان۔
جو جو اس زندہ دلی کی ریس کا کھلاڑی ہے اس پر سبھی اخلاقی و جنگی جرائم کھل کر کرنے کا جواز اور دروازہ کھلا ہے۔تو پھر یہ عالمی و ملکی فوانین اور عدالتوں کی کیا ضرورت اور کیا جواز ہے؟آج بھی ایک قوم عالمی قوانین کا سہارا لینے عالمی عدالت میں کھڑی ہے وہ بھی ایک قاتل اور دہشت گرد جاسوس کی باعزت رہائی کے لیے ۔۔۔کیوں ؟۔۔کیونکہ وہ تو اپنی قوم کی زندہ دلی اور عظمت کی جنگ لڑنے میں مگن تھا۔تو جس قوم کے ہزاروں لاکھوں افراد اس انسان نے زندہ دلی اور عظمت کی جنگ لڑتے ہوئے قتل کروا دیئے کیا وہ قوم مردہ دل ہے؟شاید یہ کڑوا جواب کسی کو پسند نہ آئے مگر ہاں جی بالکل وہ ایک مردہ دل قوم ہے جس کے افراد اس قاتل اور دہشت گرد انسان نے قتل کیئے۔وہ کیسے؟اس کا جواب اوپر کی تمہیدی سطور میں ہی موجود ہے۔
آ ئیے ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا ہم بطور قوم اپنے ملکی و قومی معاملات میں ایک دم آزاد اور خود مختار قوم ہیں؟کیا کسی بھی طرح کا ملکی اور قومی فیصلہ کرتے وقت ہم اغیار کے ڈر سے آزاد ہیں؟کیا بطور قوم ہمارا ہر فرد زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور اور محفوظ آزادی سے لطف اندوز ہوتا ہے؟کیا بطور قوم ہم نے اپنے خون اور قتل پر قاتل کو قرار واقعی سزا دی ہے؟کیا بطور قوم ہم اپنی افواج اور محافظ اداروں پر ہر حال میں بھروسہ کرتے ہیں؟کیا بطور قوم ہم ایماندار ہیں اور اپنی قیادت ہم ایماندار اور پوری ایمانداری سے چنتے ہیں؟کیا ماضی سے ہم نے کبھی کوئی سبق لیا ہے؟کیا حال سدھارنے کی ہم میں چاہ اور محنت کا عنصر موجود ہے؟ کیا ہمارا مستقبل محفوظ کرنے کو ہم نے کوئی خودمختار اور آزاد منصوبے بنائے ہیں؟کیا ہمارے نوجوانوں پر ہمیں بھروسہ ہے یا وہ اعتماد کے قابل ہیں؟کیا جنگل کو جنت بنانے کا ہنر اور حوصلہ ہے ہمارے پاس بطور قوم؟ان سب سوالات کے ملے جلے جوابات نہ میں ہی ہیں۔
پھر کیوں نا اس قوم کا جاسوس ہمیں چکما دے گا یا وہ قوم حوصلے سے اور ہٹ دھرمی سےعالمی قوانین اور ہمارے ملکی قوانین کی دھجیاں اڑا کر ہمیں ہی مورد الزام ٹھہرا کر انصاف کی گردان نہیں کرے گی؟کیوں وہ قوم زندہ دل نہ کہلوائے جو خود کے ظلم اور زیادتی کے باوجود سبھی ثبوتوں اور اعترافی بیانات کے باوجود اپنا دامن صاف کرلے اور اپنے دہشت گرد جاسوس کو ایک معصوم شہری ثابت کرنے کی تگ و دو کرے۔لیکن ہمارے حکمران صرف تب بولتے ہیں جب ان پر کرپشن کا درست الزام لگتا ہے۔جب ان کے بچوں کی چوری پکڑی جاتی ہے،اور جب عوام سے ووٹ کی بھیک مانگنی ہوتی ہے۔
آج اگر کلبھوشن یادیو کی آزادی کا پروانہ مل گیا عالمی عدالت سے تو اس کا کریڈٹ پورا پورا میاں نواز شریف کو جاتا ہے۔کلبھوشن کے معاملے میں فوج اور ایجنسی نے اپنا کام پوری ایمانداری اور یکسوئی سے انجام دیا تھا اور دے رہی ہے۔فوج سے کوئی گلہ نہیں۔فوج اپنی آئینی حدود سے واقف ہے اور وہ پوری ایمانداری سے اور مستعدی سے اس ملک کی سرحدوں کی اور اس لنگڑی جمہوریت کی حفاظت کررہی ہے تاکہ یہ قوم مردہ دلی سے نکل کر زندہ دلی کو اپنائے۔ ہم بطور قوم اگر اور کچھ کرنے کے اہل نہیں تو کم ازکم ا پنی بہادر فوج کے شانہ بشانہ تو چل سکتے ہیں۔کیااتنے بھی زندہ دل نہیں ہم؟

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *