صاحب، ملازم اور طوائف۔۔۔ عارف خٹک

 

صاحب تو جب فون پر بات کرتے ہیں تب بھی سامنے والے کے کان
جل جاتےہیں۔ رُوبرو بات کریں تو جیسے ہمارے کان کے “ک” پر “گ”  بن کر دہکنے لگتی ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ کاش کوئی ایسا دن ہو کہ بیوی کا مُنہ نہ دیکھنا پڑے۔اللہ معاف کرے، پر جس دن صاحب کا منہ دیکھ لوں اس دن بیگم بھی اچھی لگنے لگتی ہے۔ میرے ہمزاد خٹک صاحب کہتے ہیں کہ صاحب جناب جب پیدا ہوئے ہوں گے،تو نرس کو بھی لعنتیں دی ہوں گی۔ میں کہتا ہوں کہ اللہ نہ کرےاگر اس وقت نرس نہیں ہو گی،تو پھر کس کو گالیاں پڑی ہوں گی؟ ہمارا تو کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔

ہمارے دفتر کا چپراسی سلیم کہتا ہے کہ صاحب کو اس نے ایک بار غلطی سے مسکراتے دیکھا تھا۔ ہم نے پوچھا وہ کیسے؟ جواب دیا یہی تو مجھ سے غلطی ہوئی۔ورنہ وہ اس وقت حالت کشف میں کوئی بہترین سی دیسی گالی ایجاد کررہا تھا،جو ان پر آزمائی گئی۔

میں نے عامر صاحب سے پوچھا۔ “آپ صاحب کا کیسے سامنا کرلیتے ہیں؟” جواب ملا “ملنے سے پانچ منٹ پہلے موٹیوال کی گولی لے لیتا ہوں تاکہ ڈانٹ ڈپٹ کا اتنا احساس نہ ہو۔ پانچ منٹ کے بعد واپس آکر دو موٹیوال اور گولیاں لے لیتا ہوں۔

مجھ سے پوچھا “کہ آپ کیسے سامنا کرلیتے ہیں؟”
جواب دیا کہ اب ایک شادی شدہ بندہ کیسے آپ کو بتائے کہ خطرناک چیزوں کا سامنا اکیلے کیسے اور کس طرح سے کیا جاتا ہے!

آصف صاحب کہتے ہیں کہ کوئی بات نہیں، وہ باس ہیں لہذا ایسا کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔مگر منیر کہتے ہیں کہ ایسا حق شوہر کو تو شرعی طور حاصل کے، یہ الگ بات ہے کہ آج تک اسے خود بھی نہیں معلوم کہ اس کے حقوق کیا ہیں؟

پنجابی میں کہتے ہیں غریب کی 21 عزتیں ہوتی ہیں۔ تقسیم در تقسیم ہوکر اس کے حصے میں جو آتی ہے اسے صفر کہا جاتا ہے۔ یہی حالت ہم ملازمت پیشہ افسروں یا کلرکوں کی بھی ہے۔

پورا سال گدھے کی طرح جت کر محنت کرتے رہو۔ اس قدر محنت کہ بیگم ایمان لے آئے کہ مرد کو گدھا بننے میں کوئی دقت نہیں۔ہاں المیہ اس وقت جنم لیتا ہے جب یہی گدھا بعد ازاں اسمارٹ ورکر بھی بن جائے اور امید رکھے کہ مالی سال کے آخر میں اتنا انکریمنٹ ملے کہ کم سے کم ایک بچے کے ماہانہ ڈائیپرز کا خرچہ پورا ہوجائے۔ لیکن جب سال کے آخر میں آپ کا اپریزل اس وجہ سے رُک جائے کہ صاحب کو آپ کی مونچھیں منحوس لگتی ہیں تو نئے سرے سے پہلے کھوتا اور پھر اسماٹ ورکر بن کر اگلے سال کیلئے ٹرائی ٹرائی اگین کا سبق دہراتے رہنا پڑتا ہے۔یہ عظیم لوگوں کا شیوہ ہے،کہ وہ بار بار کوشش کرتے ہیں اور کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ جدید تاریخ میں ان کی کامیابیاں بھی مشکوک ٹھہری ہیں۔

ہم سے کہا جاتا ہے کہ اگر اس بار ٹارگٹ پورا نہ ہوا تو آپ کو نکال دیا جائے گا۔ دس سالوں میں اتنا ڈرایا گیا ہے کہ جس دن دھمکی نہ ملے پورا دن خوف میں رہتے ہیں۔

میرا دوست عطاء کہتا ہے کہ نوکری دو بندے کرسکتے ہیں۔ایک وہ جن کے آباؤاجداد نائی ہوں،اور دوسرا وہ جن کے باپ دادا فوجی رہ چُکے ہوں۔ اب بندہ دوست کو کیا بتائے،کہ بندے کے آباؤاجداد فوجی تھے۔ کابل سے تلواریں سونت کر جب ہندوستان آن وارد ہوئے۔تو بقول یوسفی تلوار کثرت استعمال سے گھستے گھستے اُسترا بن گئی۔ شاید ہمارے بڑے صاحب نے بھی یوسفی کی یہ کتاب پڑھی ہو۔

میرا دوست عامر کہتا ہے کہ پاک پیغمبر صلعم نے غلامی کو بُرا سمجھا ہے۔وہ یہ بھی کہتا ہے کہ نوکری غلامی کی جدید شکل ہے۔ میں اس وقت چرس، افیون، گانجےاور عابد آفریدی کا سوچ سوچ کر ایک پلان بنا لیتا ہوں کہ اگر میں کاروبار کروں تو سال بعد بغیر گرفتار ہوئےکتنی زکوٰۃ جامعہ بنوریہ کو دے سکتا ہوں۔ ابھی میں سوچ کے آخری مراحل میں ہوتا ہوں کہ عین اسی وقت عامر بھائی کہہ اٹھتے ہیں “کہ کوئی اچھی سی نوکری نظر میں ہو تو بتادینا۔”

قصہ المختصر جب بیگم سہیلیوں کے بیچ بیٹھ کر اپنے شوہر کی تنخواہ اور کمپنی کار کےگُن گاتی رہتی ہے تو ہمیں بنوں کا ایک لختئی یاد آجاتا ہے۔ وہ جب ماں کی ہتھیلی پر رقم رکھتا یہ کہتا “اماں احتیاط سے خرچ کرنا، بڑی مشکل سے کمائی ہے۔”

قصہ کوتاہ، صاحب کو آپ نے دیکھا،اور ملازم کو بھی دیکھا،مگر سوچ رہے ہوں گے کہ مضمون میں طوائف کدھر ہے۔ تو جناب والا میں اپنی عزت افزائی کےلئے آپ کا بےحد مشکور ہوں۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *