اے شہر خاموشاں ۔۔۔رابعہ الرباء

اے شہر ِخاموشاں
اے ہمارے خمیر کے گھر
ہم تجھ سے کتنا دور
دور بہت دور
مگر
اے شہر ِخاموشاں
یوں تھا
جیسے تو نے روک لیا تھا
آسمان بھی تو رو پڑا تھا
اے شہر ِخاموشاں
رُکی سانسو ں کو پناہ دینے کی فراغ دلی
کھلی ہے مجھ پہ آج
تنہائی  تیرے گھر سکون سے سوتی ملی ہے مجھ کو
اے شہر خاموشاں
اے شہر پناہ
تو مٹی کو مٹی میں ملاتے کتنے رنگ لئے
کتنے گل کھلائے
کتنے راز و نیاز
کی باتیں کرتا ہے
سنا ہے تجھ کو آج
آسمان نے پکارا ہے
ستاروں کا سجدہ کتنا پیاراہے
اے شہر خا موشاں
ہمیں بھی تو
تیری گود میں  آنا ہے اک دن
تجھ میں سما جانا ہے اک دن
تو باغ سجائے رکھنا
پھول کھلائے رکھنا
خوشبو بکھرائے رہنا
کہ
ابھی زندگی کی اذیت میں ہیں۔۔۔
یہ بام و در
تیرے محل ان سے آزاد بہت کشادہ
ہر راز پہ آمادہ
ظرف کا فرق
اور
خامشی
مگر سمجھے کون
کہ
زندگی اک بھید ہے
مگر
خامشی پہ بڑا نہیں
تو مجھے زندگی سے گلہ نہیں
اے شہر خاموشاں
اے شہر خاموشاں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *