• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • لندن فلیٹس کی کبھی بینیفشل مالک نہیں رہی،مریم نواز کا بیان

لندن فلیٹس کی کبھی بینیفشل مالک نہیں رہی،مریم نواز کا بیان

اسلام آباد:احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے کہا کہ لندن فلیٹس کی کبھی بینیفشل مالک نہیں رہی۔

پیر کواسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیرشریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر)صفدر احتساب عدالت میں موجود ہیں۔

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کا بیان آج مسلسل تیسرے روز قلمبند کیا جا رہا ہے۔

مریم نواز نے سماعت کے آغاز پرعدالت کوبتایا کہ واجد ضیاء کا 3 جولائی2017 کا خط عدالتی ریکارڈ کاحصہ نہیں بن سکتا، خط مبینہ طورپرڈائریکٹر فنانشل ایجنسی نے جےآئی ٹی کوبھیجا۔

انہوں نے کہا کہ خط براہ راست جے آئی ٹی کوبھیجا گیا جو قانون کے مطابق نہیں ہے، خط میں درج دستاویزات پیش نہیں کی گئیں، جس طرح خط پیش کیا گیا اس کی ساکھ پرسنجیدہ شکوک پیدا ہوتے ہیں۔

سابق وزیراعظم کی صاحبزادی نے کہا کہ خط لکھنے والے کوپیش کئے بغیرمجھے میری جرح کے حق سے محروم کیا گیا، جرح سے محروم اس لیے کیا گیا تا کہ خط کے متن کی تصدیق نہ کرسکوں۔

مریم نواز نے کہا کہ خط پرانحصارشفاف ٹرائل کیخلاف ہوگا، خط کے متن کے ساتھ دستاویزات منسلک نہیں کی گئیں، خط کے متن سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ کبھی لندن فلیٹس یا ان کمپنیوں کی بینیفشل مالک نہیں رہی، کمپنیوں سے کبھی کوئی مالی فائدہ لیا نہ کوئی اورنفع لیا۔

سابق وزیراعظم کی صاحبزادی نے کہا کہ نجی فرم کے خط میں کوئی سچائی  نہیں ہے، موزیک فونسیکا کا 22 جون 2012 کا خط پرائمری دستاویزنہیں، دستاویز مروجہ قوانین کے مطابق تصدیق شدہ بھی نہیں ہے۔

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ شفاف تفتیش بھی شفاف ٹرائل کا حصہ ہے جس پرنیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہیں دفاع کے گواہ کے طورپربلا لیں، امجد پرویز نے کہا کہ دیکھنا پڑے گا غیر ملکی گواہ کو بلایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں۔

سابق وزیراعظم کی صاحبزادی نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے پیش دستاویزات قابل قبول شہادت نہیں ہے، فرد جرم کے مطابق یہ مکمل طورپرغیرمتعلقہ دستاویزات ہیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کیپٹل ایف زیڈ ای کی دستاویزمجھ سے متعلق نہیں، دستاویزات مذموم مقاصد کے تحت پیش کی گئیں۔

احتساب عدالت نے مریم نوازسے گلف اسٹیل کے 25 فیصدشیئرز، التوفیق کیس سمجھوتہ، 12 ملین سیٹلمنٹ پرسوال کیا جس انہوں نے جواب دیا کہ میں اس معاملے میں کبھی شامل نہیں رہی۔

مریم  نواز نے مزیدکہا کہ 1980کے معاہدے سے بھی میرا کوئی تعلق نہیں ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *