یہ جہاں والے۔۔۔شکور پٹھان

زندگی تیرے لیے۔۔۔

” خواتین وحضرات!! کمشنر کراچی جناب سید دربار علی شاہ تشریف لے آئے ہیں”

دائرے میں کھڑے تماشائیوں کی ایک جانب سے راستہ بنایا گیا۔ کمشنر صاحب خراماں خراماں چلتے ہوئے اس پینتیس چالیس گز کے درمیاں بنے ہوئےایک چھوٹے سے سائبان کی جانب روانہ ہوئے۔
یہ جامع مسجد الفلاح بہار کالونی سے متصل میدان تھا۔ میدان کی دوسری جانب بنے مکان کی پیشانی پر سمنٹ سے بنے بڑے حرفوں میں لکھا ہوا تھا ” قبلہ نما” ۔ یہ میجر آفتاب حسن کا مکان تھا جو کراچی یونیورسٹی کے استاد تھے۔
آج کمشنر صاحب ماجد جہانگیر کو سائیکل سے اتارنے آئے تھے جو پچھلے بہتّر گھنٹے سے بغیر گدی کے مسلسل سائیکل چلا رہا تھا۔

تالیوں کی گونج میں کمشنر صاحب نے ماجد جہانگیر کو سائیکل سے اتارا۔ ماجد کی ٹانگیں لڑکھڑا رہی تھیں ۔ اس کا لاغر جسم ایک جانب جھول جھول جاتا تھا۔ اس کے دائیں بائیں جانب کھڑے لوگوں نے اسے سہارا دیے رکھا تھا۔ اسے سائبان کے قریب ایک کرسی پر بٹھا دیا گیا ۔ ماجد نڈھال اور بے سدھ سا پڑا ہوا ٹکر ٹکر مجمع کو دیکھتا جاتا تھا۔

” سیٹھ ہارون نے ماجد جہانگیر کے لئے دوسو روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ کمشنر صاحب یہ انعام پیش کرینگے”
تالیوں کی گونج میں ہجوم میں تعریفی سرگوشیاں ہورہی تھیں۔
۔ ” واہ بھئی دو سو روپے”
” جوان کی محنت وصول ہوگئی”
” بھائی کام بھی اتنا بڑا کیا ہے۔ غریب تین دن سے سائیکل چلا رہا ہے”

یہ دوسو روپے اور تماشائیوں سے ملنے والے چھوٹے موٹے انعامات کے لئے اس نحیف ونزار سے ماجد جہانگیر نے اپنی جان داؤ پر لگا رکھی تھی۔

یہ ساٹھ کی دہائی کا شاید پہلا یا دوسرا سال تھا۔ ماجد اس کے بعد کراچی میں نظر نہیں آیا۔ لیکن کچھ دنوں بعد مشرقی پاکستان کی فلموں میں ” کے کمار” کے نام سے سبھاش دتہ اور ڈئیر اصغر کے ساتھ بطور کامیڈئین اس کا نام بھی مشہور ہونے لگا۔اور یہ اچھا ہی ہوا۔ ورنہ شاید دوسو کمانے کے  لئے وہ اسی طرح سائیکل چلاتا، خون تھوکتا ہوا مرجاتا۔

اور اس کے اگلے ہی سال ہم اپنے سب سے چھوٹے ماموں کی شادی کے لئے انڈیا پہنچ گئے۔ ہمارا ننھیال بمبئی کے قریب کولا بہ ضلع کے قصبہ ” اورن” میں تھا۔
اورن سبز پہاڑیوں سے گھرا ایک چھوٹا سا جزیرہ یا جزیرہ نما ہے۔ ان دنوں جب آبادی اتنی زیادہ نہیں تھی، اورن کی خوبصورتی جی کو لبھاتی تھی۔
قصبہ سے باہر اورن کے واحد سنیما ہال اور ” بنگلے” والے پیر صاحب کے مزار کے درمیاں سبزہ زار پر ” سردار خان ” پانچ دن کے لئے سائیکل چلانے کا مظاہرہ کررہا تھا۔ میرے ماموں زاد اور خالہ زاد بھائی جو عمر میں مجھ سے بہت بڑے تھے روز شام کو مجھے یہ تماشہ دکھانے لے جاتے۔

سردار خان ایک صحتمند نوجوان تھا اور سائیکل بھی گدّی کے ساتھ چلا رہا تھا۔ اس کی طبیعت کچھ سست ہوتی تو درمیان میں بنے پلیٹ فارم سے جہاں لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات ہوتے اور فلمی گانے بجتے رہتے، کوئی منچلا ” یہ ہریالی اور یہ راستہ…تیرا میرا ان راہوں پر جیون بھر کا واسطہ ” لگا دیتا۔ گانا سنتے   ہی سردار میں گویا جان سی آجاتی ۔ وہ سائیکل پر کھڑا ہوکر اپنی ٹانگیں ہینڈل سے چپکا دیتا اور دونوں ہاتھ لہراتا ہوا، آس پاس کی پہاڑیوں اور سبزے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے والہانہ رقص کرتا جاتا۔

چھ ماہ اورن رہ کر ہم پھر کراچی واپس آگئے تھے۔ چند سالوں بعد کورنگی نمبر پانچ میں شیرین سنیما کے سامنے میدان میں ‘ قمر علی ” سائیکل چلا رہا تھا۔ قمر علی ” ورلڈ چیمپئین ” انعام اللہ کا شاگرد تھا۔ انعام اللہ ورلڈ چیمپئین اللہ جانے کب بنا اس کا تو کچھ نہیں پتا البتہ میدان کے بیچ بنے پلیٹ فارم سے یہی اعلان ہوتااور ہمیں بھی یقین تھا کہ یقیناً انعام اللہ خان ہی ورلڈ چیمپئین ہوگا کیونکہ اس نے پانچ دن سائیکل چلائی تھی اور یہ خبر تمام اخبارات میں بھی چھپی تھی۔

اور پھر کچھ دنوں بعد ہمارے محلے میں ہی اسلام الدین نے بھی تین دن مسلسل سائیکل چلائی۔ اسلام الدین قمر علی کا شاگرد تھا۔ اب اعلان کچھ یوں ہوتا’ ورلڈ چیمپئن انعام اللہ خان کے شاگرد قمر علی کے شاگرد اسلام الدین تین دن سائیکل چلانے کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
اسلام الدین کے کچھ دوست بھی کبھی کبھار سائیکلوں پر کرتب دکھاتے اور جب اسلام الدین پر تھکن طاری ہوتی تو لاؤڈ اسپیکر پر ” اے مولا علی اے شیر خدا! میری کشتی پار لگا دینا” کا ریکارڈ لگا دیتے اور اسلام الدین دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیتا۔ مجھے سردار خان یاد آتا جو ‘ یہ ہریالی اور یہ راستہ پر رقص کرتا تھا۔

اسلام الدین کے ساتھیوں میں ہمارا دوست “یامین ” بھی تھا۔ کچھ دنوں بعد اس نے بھی ہمّت کی اور سائیکل چلانے کا اعلان کردیا۔ ہم روز صبح شام تماشا دیکھتے اور یامین کی ہمّت کی داد دیتے۔ اس کے ساتھیوں کے کرتب دیکھتے اور تالیاں بجاتے۔ُ

مجھے یہ سب کچھ بڑا متاثر کن لگتا اور میرا بھی جی چاہتا کہ میں بھی کچھ نہیں تو آٹھ دس گھنٹے ہی مسلسل سائیکل چلا لوں۔ لیکن ایک ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ یہ ممکن نہیں تھا کیونکہ آٹھ آنے گھنٹہ سائیکل ملتی تھی اور اس سے زیادہ پیسے میرے پاس کبھی نہ ہوتے۔

یامین اور اسلام الدین نے سائیکل چلائی تو کچھ کچھ سمجھ آیا کہ یہ سب کسی بڑے انعام اور لوگوں کی بخشش کی امید میں سائیکل چلاتے ہیں تاکہ کوئی اپنی بہن کے ہاتھ پیلے کرسکے تو کوئی اپنے گھر پر چھپّر ڈال سکے یا اپنی بیمار ماں کا یا کسی لاعلاج عزیز کا علاج کرو اسکے۔اپنی احتیاجات کے لئے یہ سب اپنے جسم وجاں کا سودا کرتے لیکن ہم اسے ایک بہت بڑا کارنامہ سمجھ کر محظوظ ہوتے اور برسوں اس کا تذکرہ کرتے۔،

اور یہی ضرورتیں اور مشکلیں حل کرنے کے لئے کوئی موت کے کنویں میں روز کئی بار اپنی جان کی بازی لگاتا ہے تو کوئی کسی سرکس یا میلے میں اونچے مینار پر چڑھ کر اپنے کپڑوں میں آگ لاکر نیچے بنے تالاب میں چھلانگ لگاتا ہے۔اور یہی مجبوریاں ہوتی ہیں جو کسی حسینہ کو سرکس میں بنے لکڑی کے اس تختے پر لاکھڑا کرتی ہے جس کے سامنے ایک بازیگر کھڑا نوکدار خنجر اس کے دائیں بائیں پھینک کر   تختے میں پیوست کرتا جاتا ہے۔ حسینہ کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے جیسے کچھ نہیں ہوا۔ کون جانتا ہے اپنی جانب آتے ہوئے خنجر کو دیکھ کر وہ کتنی بار مرتی اور جیتی ہے۔

کسی سڑک، بازار یا میدان میں بانس گاڑھ کر اور ان پر تنی رسیوں پر چلنے والی بچیاں ، جن کے نیچے سخت زمین ہوتی ہے اور کسی قسم کا حفاظتی انتظام نہیں ہوتا نہ کوئی زندگی کا بیمہ ہوتا ہے، یہ بچیاں یقیناً اپنے فن کی داد پانے کے لئے اپنی جان کا خطرہ نہیں مول لیتیں۔ یہ پیٹ کی آگ ہے جس کے لئے یہ اپنے جسم وجاں کو اس قدر ارزاں قیمت پر داؤ پر لگاتی ہیں ۔

اور مجھےنٹوں کا وہ تماشہ نہیں بھولتا جس میں مداری یا بازیگر نے ایک شیرخوار بچے کو ایک گٹھڑی میں باندھ کر ایک پندرہ بیس فٹ اونچے بانس کے سرے سے باندھ دیا۔ پھر اس بانس کو عمودی صورت میں اس طرح کھڑا کیا کہ بچہ ہوا میں معلق ہے اور بازیگر نے بانس کو اپنے کندھے اور سر پر ہاتھ لگائے بغیر اٹھا رکھا ہے اور نیچے سخت پتھریلی زمین ہے۔

دس گیارہ ماہ یا سال سوا سال کا بچہ، جسے ہم اپنے ہاتھ کا چھالا بنائے رکھتے ہیں۔ گھر میں کسی ایسے کے ہاتھ میں نہیں دیتے جنہیں بچوں کو ‘ لینا’ نہیں آتا کہ کہیں غلط پکڑنے سے بچے کی ہنسلی نہ اتر جائے۔۔۔
اور اتنے ہی بڑے بچے کو چھوٹی سی  گٹھڑی میں لپیٹ کر وہ مداری اسے بانس پر ٹانگ دیتا ہے اور بانس کو سر اور کندھوں پر رکھ کر ہاتھ چھوڑ دیتا ہے، تماشائی اس کے آگے پیسے دوپیسے، اکنّیاں ، چونّیاں پھینکتے جاتے ہیں اور بچے اور اس کے بہن بھائیوں کے لئے دودھ اور روٹی کا انتظام ہوجاتا ہے۔

سنا ہے روم اور یونان میں بہت سال ، بلکہ ہزاروں سال پہلے، بادشاہ اپنے قیدیوں اور غلاموں کو شیر کے سامنے ڈال کر لڑو اتے تھے اور دیکھنے والے یہ تماشہ دیکھ کر تالیاں بجاتے تھے۔

اور اب ہزاروں سال بعد بھی انسان کی جبلت نہیں بدلی، موت کے کنویں میں موٹر سائیکل سوار کے پیچھے بیٹھی لڑکی کو پانچ روپے تھما کر، پانچ دن سائیکل چلانے والے کے آگے کچھ سکے اور نوٹ پھینک کر، بانس پر بچے کو ٹانکنے والے مداری کو چونّی ، اٹھنّی دے کر ہم آج بھی ویسے ہی تالیاں بجاتے ہیں جیسے غلاموں اور قیدیوں کو چیرتے پھاڑتے شیروں کو دیکھ کر بجاتے تھے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب بادشاہ غلاموں کو موت کے منہ میں نہیں دھکیلتے بلکہ یہ مفلسی، بھوک اور مجبوریاں ہوتی ہیں جو بادشاہوں سے زیادہ طاقتور ہوتی ہیں اور بھوکے اور مجبور انسان سے ہر کام کروا سکتی ہیں۔ کتے ، بلی بھی اپنے بچوں کو سایہ فراہم کرتے ہیں۔ مرغی اپنے چوزوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتی ہی لیکن مفلسی ، انسان کے بچے کو بانس پر ٹانگنے پر مجبور کردیتی ہے۔

اور ماجد جہانگیر اور اسلام الدین ایسے ہی تین اور چار دن مسلسل سائیکل چلاتے رہیں گے، سرکس کے اونچے مینار سے کپڑوں پر آگ لگا کر بازیگر کودتے رہیں گے، موت کے کنویں میں ہر روز وہ لڑکی جیتی مرتی رہے گی اور لکڑی کے تختے سے چپکی دوشیزہ کی دل کی دھڑکن اپنی جانب آتے خنجروں کو دیکھ کر یونہی بند ہوتی رہے گی ۔۔۔کیونکہ میں اور آپ زندہ ہیں یہ تماشے دیکھنے کے لئے، پانچ روپے میں موت کے یہ کھیل دیکھ کر تالیاں بجانے کے لئے۔

یہ فن یا بہادری کا مظاہرہ نہیں، مجبوری کا سودا ہے، جینے کے لئے ، زندگی گذارنے کے لئے، ضرورتیں اور احتیاجات پوری کرنے کے لئے موت کا سودا۔

اگر ایسا نہیں ہے تو آئیے کچھ دیر کے لئے اس تختے سے چپک کر کھڑے ہوجائیے، یقین کیجئے سرکس کے اس خنجر باز کا نشانہ کبھی نہیں چوکنا۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *