خان صاحب کی حکومت کے پہلے سو دن،ہاؤسنگ سکیم۔۔۔محمد حسنین اشرف/ قسط اول

میں سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف کے پہلے سو دن کی اقدامی فہرست کو ہمیں قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے لیکن   یہ کہنا شدید نا انصافی ہوگی تحریک انصاف کا یہ عمل کسی طور قابل تقلید ہے۔ شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں اور اپنی تقریر میں  اسد عمر صاحب نے جو باتیں بیان فرمائیں ان سب سے ایک کھلا تاثر ملتا ہے کہ تحریک انصاف کو آخری دنوں میں یہ پھلجڑی چھوڑنے کا شاید  حکم بذریعہ کشف و الہام ملا ہے۔ میر ے سامنے تحریک انصاف  کی طرف سے سوشل میڈیا پر پھیلایاگیا ایک چارٹ موجود ہے جس میں پہلے سو دن میں جو کام تحریک انصاف سرانجام دے گی ان کی فہرست ہے جس کی تفصیل خانزادہ صاحب کے پروگرام میں اسد عمر صاحب نے بیان بھی فرمائی۔

تحریک انصاف جس نے اپنی بنیاد انفرادیت پر اٹھائی تھی اور اس انفرادیت کا عملی مظاہرہ ہم کئی ایک بار دیکھ بھی چکے ہیں ، اسی تحریک انصاف نے اس بار بھی کمال کردیا ہے۔میں حیران ہوں کہ اگر آپ کی تیاری نہیں ہے تو کیا ضرو ری ہے کہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک دی جائے اور جو چیز ہاتھ میں آئے اس کی بنیاد پر پالیسی بنا کر عوام کو الو بنایا جائے۔

اس چارٹ پر نیچے سے اوپر جائیں تو دو بڑے اہداف سے نیچے نیچے سب  الفاظ کا کھیل ہےمثلاَ ایف بی آر کی اصلاحات والی شق اگر آپ پڑھیں تو اس میں لکھا ہے کہ ‘ہم ایماندار اور قابل چیئرمین لائیں گے’۔ جی بالکل ویسا ہی ایماندار اور قابل چیئرمین جو کے پی کے، احتساب کمیشن میں لایا ہے۔ اور اوپر جائیں  تو لکھا ہے کہ ہم ‘قابل اور ایماندار بورڈ آف گورنرز لائیں گے’ جی بالکل ایسے ہی ایماندار جیسے پشاور میٹرو  میں سی ای او تھے جنہیں  سٹاف سمیت فارغ کردیا گیا تھا۔

خیر، آئیے ان دو بڑی چیزوں پر گفتگو کرتے ہیں جن کو پیش کرکے تحریک انصاف رقص کناں ہے۔اس قسط میں فی الحال صرف اس پالیسی کا تذکرہ کرتے ہیں جو گھروں کی فراہمی سے متعلق ہے۔

جب سے یہ ایجنڈا پیش کیا گیا ہے قوم یوتھ  نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے  اور باقاعدہ دلائل دئیے جا رہے ہیں۔ اس بات سے بے خبر کہ اصلیت کیا ہے۔تحریک انصاف جو پچاس لاکھ گھر فراہم کرے گی وہ گھر کم آمدنی کے لوگوں کے لئے ہوں گے اور یہ گھر پرائیوٹ سیکڑ کی فنانسنگ سے میسر ہوں گے(بقول اسد عمر)۔ اس میں اسد عمر صاحب نے ایک لفظ اور اضافی بولا کہ یہ سارا کام فنانشل ایکسس (Financial Access) سے ہوگا۔

آپ اگردو ہزار سات  میں جائیں اور امریکہ اور یورپ کی مارکیٹس کا جائزہ لیں تو اندازہ  ہوگا کہ  محترم نے بعین ہی وہی پالیسی کاپی کر ماری ہے جس نے دوہزار سات میں امریکہ اور یورپی منڈیوں کا کباڑہ کیا تھا۔ سننے میں دلکش لگنے والے ان الفاظ کو معیشیت کی زبان میں پڑھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں ہوا کیا تھا۔

یہ جو کم آمدنی والے لوگوں کو فنانشل ایکسس کی بات کی جا رہی ہے یہ اصل میں قرضوں کی بات ہے ،شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں ہچکچاتے ہوئے اسد عمر صاحب نے جس فنانشل انکلوژن (Financial Inclusion) کی بات کی تھی   اگر اسے اس ساری کہانی میں فٹ کیا جائے تو اصل  میں وہ کم آمدنی کے لوگوں کو قرضے فراہم کرنا ہے جس سے پیسے کی سپلائی مارکیٹ میں بڑھ جائے گی اور وقتی طور پر مارکیٹ عروج پر جا پہنچے گی۔ معیشیت کی زبان میں اسے سب پرائم لون (Subprime Loan) کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے یہ قرضے ان لوگوں کو دئیے جاتے ہیں جن کی کریڈٹ ہسٹری (Credit History)کوئی خاص مضبوط نہیں ہوتی ۔

پرائم لون اور سب پرائم لون کیا ہوتے ہیں؟ پرائم لون  (Prime Loan)مضبوط کریڈٹ ہسٹری کی بنیاد پرکم سودکے دئیے جانے والے قرضے ہیں جبکہ سب پرائم لون(Subprime Loan) کم مضبوط یامربوط کریڈٹ ہسٹری کی بنیاد زیادہ سود پر دئیے جانے والے قرضے ہیں۔ اس  کا وقتی فائدہ مارکیٹ میں پیسے کی سپلائی (Supply) بڑھنے کی صورت میں ہوتا ہے اور بعد میں وہ ہوتا ہے جسے دنیا جنگ عظیم دوئم کے بعد کا سب سے بڑا ریسشن یا کرائسسز  (Recession/Crisis)مانتی ہے۔ یہ ہاوسنگ مارکیٹ (Housing Market) اور سب پرائم لونز (Subprime Loans)کی کارگزاری ہی تھی  جس نے پورے امریکہ اور یورپ کو نچایا تھا۔کارٹون ملاحظہ ہو

سب پرائم لونز اصل میں بہت خطرناک پراڈکٹ(Product) ہے  کم آمدنی (Low Income Group) والا شخص گھربنانے کے چکر میں یہ لونز لے لیتا ہے اور چونکہ سارا بنک کا نظام کریڈٹ (Credit)پر چلتا ہے اور جب یہ بنک لیا ہوا کریڈٹ واپس کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو سادہ زبان میں بنک کے پاس پیسے کی قلت ہوجاتی ہے۔ ایک اور کارٹون ملاحظہ ہو

آئیے اس سارے سسٹم  کو سمجھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ اسد عمر اصل میں کرنے کیا جا رہے ہیں۔ جدید بنک کا نظام ادھار کا مرہون منت ہے۔ سنٹرل بنک(Central Banks) جسے ہم سٹیٹ بنک (State Bank) کے نام سے جانتے ہیں یہ ایک ریزور ریشو  (Reserve ratio) کا اعلان کرتا ہے۔ کسی بھی کمرشل بنک (Commercial Bank) میں جب کوئی کمپنی یا شخص اپنے پیسے رکھواتا ہے تو بنک کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ کچھ ریزرو رکھ کر باقی آگے قرضہ دے سکتا ہے۔ کسی بھی بنک کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے کہ وہ جو قرضہ دے رہا ہے وہ اسے مقررہ وقت پر واپس کردیا جائے تاکہ جس شخص نے بنک میں پیسے رکھے ہیں اسے پیسے واپس ادا کئے جاسکیں۔ اب ہوتا یوں ہے کہ جب ایسے قرضے  جنہیں ہم معیشیت کی زبان میں نان پروڈکٹو ( Non Productive) لون یا غیر پیدواری قرضے بھی کہہ سکتے ہیں، دئیے جاتے ہیں  اور اس پر ستم جب یہ کم آمدنی والے کو دئیے جاتے ہیں تو بنک اصل میں ایک بہت بڑا رسک  (Risk)لے رہا ہوتا ہے، آپ اگر کبھی کریڈٹ کارڈ (Credit Card)کسی بنک سے لیں تو بنک آپ سے آپ کی سیلری سلپ (Salary Slip) طلب کرتا ہے اس کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ بنک کریڈٹ کارڈ کی صورت میں آپ کو جو بھی قرضہ دے گا کیا آپ اس قرضے کے واپس کرنے کی صلاحیت رکھتے بھی ہیں یا نہیں لیکن سب پرائم لون صورت میں بنک رسک لے رہا ہوتا ہے۔ جس سے وقتی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں پیسہ زیادہ آ جاتا ہے اور اس سے محسوس ہوتا ہےجیسے سب اچھا ہوگیا ہے۔ لیکن اس کا انجام  آخر کار مارکیٹ کریش کی صورت میں ہی ہوتا ہے۔

آئیے اسے ایک مثال سے زیادہ واضح انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے  ہیں:

اسلم، سلیم صاحب کی فیکٹری میں ایک ہزار روپے مہینہ پر کام کرتا ہے۔اسلم کی آمدنی کم ہے اسے بنک سے متعلق کچھ نہیں پتہ ،وہ لاہور میں گھر لے کر رہنا چاہتا ہے، بنک  اپنی سکیم لاتاہے کہ وہ اسلم اور ایسے کئی لوگوں کو کریڈیٹ ہسٹری مینٹین (Credit History maintain) کئے بغیر قرضے دینے کو تیار ہے۔ سلیم ایک مالدار شخص ہے اس کے پاس لاکھ روپیہ تھا اس نے جا کر اسے بنک میں جمع کروادیا ہے ۔ بنک اب سٹیٹ بنک کی ہدایت کے مطابق ریزو(Reserve) رقم رکھ لے گا باقی وہ اسلم کو قرضہ دے دے گا گھر بنانے کے لئے، اب اگر اسلم نے اس قرضے سے کوئی کام کاج شروع کرنا ہوتا تو یہ پروڈکٹو لون (Productive Loan) ہوتا۔ یعنی اس میں زیادہ چانس ہوتا کہ اسلم کمائے گا اور واپس کردے گا یعنی اس کی آمدن بڑھ جاتی، لیکن اس نان پروڈکٹو لون سے ہوا یہ ہے کہ اسلم کی آمدن تو وہی رہی لیکن قرضے کی وجہ سے اسے گھر بنانے کا موقع مل گیا۔ اب اسلم نے گھر تعمیر کیا اور جتنے پیسے بنک نے دئیے تھے وہ خرچ کر ڈالے اب چونکہ اس کی آمدن کم ہے تو وہ بنک کی قسط دینے سے قاصر ہے۔ اب اگر اسلم بنک کو پیسے واپس نہیں کرے گا تو بنک کے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے جو وہ سلیم صاحب کو واپس کرسکیں ۔ پھر ہوگا یہ کہ بنک بزنس سے آؤٹ ہوجائے گااور سلیم صاحب جن کے پاس کیش تو بالکل نہیں تھا بلکہ ان کے پاس صرف بنک میں موجود پیسے تھے جو پیسے بنک نے اسلم کو دئیے اور اسلم اب پیسے واپس نہیں کرسکتا۔ سلیم صاحب اب فیکڑی کے مزدوروں کی تنخواہ دینے سے قاصر ہیں تو وہ اپنی جیب پر سے بوجھ اتارنے کے لئے چند لوگوں کو نوکری سے نکال دیں گے۔ اور ان میں سلیم بھی شامل ہوگا ۔ اس سے سلیم صاحب کی کمپنی بنکرپٹ(Bankrupt) ہو جائے گی اور اسلم صاحب نوکری سے نکل جائینگے اور جب ہاؤسنگ ببل برسٹ ہوگا تو سلیم صاحب نوکری سے فارغ تو ہوں گے ہی اس  کے علاوہ انکے خریدے مکان کی قیمت لئے گئے قرضے سے کم ہوجائے گی اس طرح وہ گھر بھی بیچ نہ سکیں گے یا اونے پونے داموں بیچ کر جان چھڑائیں گے۔اسی سلسلے میں ایک  اور کارٹون ملاحظہ ہو

اب دو نقصان ہوں گے سپکیولیشن (Speculation) اور پیسے کی زیادہ سپلائی سے قیمتیں بڑھتی چلی جائیں گی۔ ہاؤسنگ مارکیٹ  کا  ببل(Bubble) بن جائے گا اور ویسے عمومی قیمیتں(High Inflation Rate) آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔یہ ببل کسی نہ کسی وقت برسٹ (Burst)کرے گا اور اس سے مارکیٹ کریش(Crash) کر جائے گی۔

یہ کہانی بالکل نہیں ہے اگر کسی کو یہ سب بنائی گئی کہانی معلوم ہوتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ذرا  2007/8 کے فنانشل کرائسز کی تفصیلات پڑھ لے۔ اسد عمر صاحب کو  چاہیے تھا یہ سب کچھ پرپوز کرتے وقت رابرٹ جے شلر کی کتاب The Subprime Solution پڑھ لیتے جو 2008  میں چھپی تھی۔اس سلسلے میں یورپ اور امریکہ میں طنزاََ چھپنے والے کارٹونز(Cartoons) پر پوسٹ لکھوں تو یقین کریں وہ بھی اقساط میں شائع کرنے کی نوبت آ جائے۔ یہ ایسا سنگین معاملہ ہے، میں نے چند ایک کارٹون   اپنی تحریر کا حصہ بنائے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ کرائسسز اسد عمر صاحب کی حکومت میں نہ آئے اور آنے والی حکومت اس کی زد میں آجائے، عین ممکن ہے کہ اسد عمر صاحب اپنے دور میں اس سے بہترین نتائج حاصل کرلیں۔ لیکن دنیا ایک تجربہ کرچکی ہے جس کے بھیانک نتایج ہمارے سامنے ہیں۔ ان سب کے باوجود ہم اس کام کا مشورہ دیں تو شاید  دنیا یہی سمجھے کہ ہمارے دل میں کھوٹ ہے اور اسی لئے عرض کیا کہ یہ  کام قابل داد تو ہوسکتا ہے  لیکن قابل تقلید نہیں۔اس سلسلے میں اور دلچسپ کارٹون ملاحظہ ہو

 

جاری ہے۔

Save

Save

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *