بڑا لکھاری بننے کے موضوعات۔ ۔۔اے وسیم خٹک

کچھ لوگ خود کو نمایاں  کرنے کے لئے نت نئے طریقے استعمال کرتے ہیں ۔تاکہ وہ لوگوں کی نظروں میں آسکیں ۔ ان لوگوں میں اب ادیب اور کالم نگار بھی شامل ہوگئے ہیں ۔ جو دیگر موضو عات کو چھوڑ کر ایسے موضوعات کا چناﺅ کرتے ہیں ، کہ پڑھنے والے سب چھوڑ کر اس کے ارٹیکل پر کلک کرکے سب سے پہلے اسے پڑھیں ۔ موجودہ دور میں چونکہ ویب سائیٹ کا زمانہ ہے اور ہر دوسرے بندے نے اپنی ویب سائیٹ بنالی ہے ۔ جو کہیں سے کچھ بھی اٹھا کر شائع کر لیتے ہیں ۔ او ر جن کا ادب اور صحافت سے کوئی واسطہ تک نہیں ۔ کبھی اخبار کے دفتر تک نہیں گئے ہوں گے وہ آج کل خود کو رائٹر سمجھنے لگے ہیں ۔ بس جو جی میں آیا وہی لکھ ڈالا ۔ خواہ معاشرے پر اس کا کوئی اثر ہو یا نہ ہو ۔ لیکن  لکھنا ضروری ہے ۔

موجودہ دور میں تین ہی موضوعات سب کے پسندید ہ ہیں ۔ جس سے بندہ بڑے رائٹر ز   میں شامل ہوجاتا ہے جس میں ایک مذہب اور دوسرا خواتین کے حوالے سے نئے نئے موضوعات جبکہ سیکورٹی فورسزکے خلاف لکھنا شامل ہےـ ان میں سے کسی ایک موضوع پر لکھنا شروع کردو بہت جلد بڑے رائٹروں کی کیٹگری میں شامل ہوجاؤگے ـ اگر آپ خاتون ہیں اور اچھی شکل وصورت رکھتی ہیں تو اپ کو بڑا رائٹر بننے سے کوئی نہیں روک سکتاـ۔

کیونکہ ورچوئل ورلڈ میں آج کے  مدیران مر د رائٹروں کے بہترین  آرٹیکلز کو کوئی جگہ نہیں دیتے بلکہ تھرڈ کلاس  آرٹیکل جوکسی خاتون کے قلم کا شاہکار ہو تو اُس مضمون کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے  جائیں گے اس کے لئے بار بار پوچھنا بھی نہیں پڑے گا بلکہ ادھر بھیجو ادھر شائع ہوکر تین چار ای میل بھی موصول ہوجائیں گی اور پھر  یہ باور کرایا جائے گا کہ بس اگر آپ نے لکھنا چھوڑ دیا تو دنیا میں بھونچال آجائے گا اور مرد بے چارہ تحقیقی موادسے مزین تحریر کے لئے سرگردان پھرتا رہے گا ۔ جس کے لئے بار بار پوچھنا پڑے گا پھر جواب آئے گا ہمارے معیار پر پورا نہیں تھا ـ مضمون بھیجنے سے پہلے کیسے لکھا جائے پڑھ لیتے تو ہمیں کہنے کی ضرورت نہ   پڑتی ۔

دوسری جانب بعض خواتین ایسے موضوعات کا چنا ﺅ کرتی ہیں کہ بعد میں اسے پڑھتے ہوئے خود بھی شرم آتی ہوگی۔ فیمنزم کے نام پر لکھنے والی خواتین کے موضوعات ، جنسی ہراسانی ، حیض سے متعلق موضوعات ہی ہوتے ہیں ۔ راہ چلتے ہوئے کسی نے اچٹتی نگاہ ڈالی ۔ تو دوسرے دن ایک مضمون دے مارا کہ اس نظر میں شیطانیت تھی ۔ نگاہ ہوس سے بھرپور تھی ۔ اگر اسے موقع ملتا تو شاید وہ سب کچھ کر گزرتا۔ کبھی یونیورسٹی کے سکیورٹی گارڈ کی نظروں میں شیطانیت ہوتی ہے ۔ کبھی آفس کا کوئی کولیگ اسے دیکھ لیتا ہے ۔ تو خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہے ۔ حالانکہ وہ اس بارے میں نہیں بتائے گی کہ اُس نے کس قسم کا لباس زیب تن کیا تھا جب نگاہیں اُس کے آر پار گئی تھیں ۔ وہ کبھی یہ بھی نہیں بتائے گی کہ اُس نے کب کسی کو غلط نظر سے دیکھا تھا

میں کئی سالوں سے لکھتا آرہا ہوں مگر جن موضوعات کا احاطہ آج کل ہورہا ہے اور خواتین جن موضوعات پر لکھ رہی ہیں ۔ اُس سے نہ لکھنا ہی بہتر ہے اور میرے نزدیک ان پر قلم اُٹھانا فضول ہی ہے اگر کوئی ڈاکٹر ماہر نفسیات عورتوں کے پیریڈز کے حوالے سے کوئی  آرٹیکل لکھے تو بات  بنتی ہے ـ کہ شاید  احتیاط   بارے    آگاہی دینا مقصود ہے ـ یہ کیا بات ہوئی کہ لکھ دیا ۔۔ ـ رمضان میں عورتیں کچھ روزے نہیں رکھتیں تو انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ـ آفس میں سب دیکھتے ہیں اور پھر باتیں کرتے ہیں ـ ہم نے یونیورسٹیوں میں پڑھا ہے وہاں شعبے میں خواتین ہوا کرتی تھیں ـ روزوں میں کلاسز ہوا کرتی تھیں۔ ـ کبھی کسی خاتون نے یہ نہیں کہا کہ  آج میرا روزہ ہے آج نہیں ہے ـ ابھی چونکہ پڑھانے سے وابستہ ہیں تو ساتھی کولیگز سے واسطہ پڑتا ہے ـ گھر اور رشتہ داروں میں سب خواتین سے وابستگی ہے کبھی کسی نے ڈھنڈورا نہیں پیٹا کہ میرا روزہ نہیں ہے ـ وہ اگر کھاتی بھی ہیں تو سب کے سامنے ظاہر نہیں کرتی کیونکہ ایک حیا کا عنصر شامل ہوتا ہے ـ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو روزہ نہیں رکھتے ـ دوست احباب میں بھی مگر وہ پردہ کرتے ہیں ـ تو ساری باتیں کہنے کے لئے نہیں ہوتیں ـ اب شادی دو خاندانوں کے تعلق کا سبب بنتا ہے اور سب کو معلوم ہوتا ہے کہ شادی ہوگی تو اس کے بعد  جسمانی تعلق بھی ہوگا کیونکہ نسل نوع اسی سے پروان چڑھنی ہے تو شرم کا کیا کام ـ مگر وہ باتیں کہنے کی نہیں ہوتیں۔ ـ مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے اب اگر مرد اور عورت تنہائی کی کارگزاریاں باہر بیان کرنا شروع کردیں تو خود کو یہ بے لباس کرنے کے مترادف ہوگاـ اور کچھ مرد اور خواتین میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ گوشہ تنہائی کی باتیں شوق سے باہر کرتی ہیں جس سے نقصان ان کا ہوتا ہے ـ کسی اور کا نہیں۔ عزت اپنی اچھالی جاتی ہے بے پردگی ان کی ہوتی ہے۔ ـ

یاد رہے کہ ان الفاظ کے بارے میں  بھی پوچھ گچھ ہوگی جو آپ کے قلم سے نکلے ہیں ـمگر پھر بھی کچھ لوگ مذہب کے خلاف لکھنے سے باز نہیں آتے اور مذہب کے خلاف زہر افشانی میں مصروف ہوں گے ـ کیونکہ بڑا رائٹر بننے کے لوازمات میں یہ شامل ہے کہ اگر بڑا رائٹر بننا ہے تو مذہب کے خلاف تھوڑا لکھ ڈالو ۔ـ باریک بینی سے مذہب پر وار کروـ لوگ بات کریں گے  پھر اپنی تاویلیں دو، بحث شروع ہوجائے گی، ـ آخر میں جب پھنس جاؤ تو کہہ دو میرا یہ مقصد نہیں تھا، ـ میری یہ سوچ نہیں تھی لوگوں نے میرے لکھے اور کہے کا غلط مطلب نکالا ہے، ـ میں تو پکا مسلمان ہوں اور ہر رات تہجد کے لئے اُٹھتا ہوں، ـ سب تفاسیر پڑھی ہیں۔

ـ یا پھر سکیورٹی فورسز کے خلاف خاص کر پاکستان میں ایک بیانیہ شروع کردوـ دنیا کہے کہ یہ اس طرح ہےآپ کہہ دو نہیں میرا یہ پوائںٹ   آف وویو ہے ـ جو کہ غلط ہوگا  مگر اس کے لئے نجانے کہاں کہاں سے مواد اٹھا کر سامنے پیش کرو اور خود کو نمایاں ثابت کرنے کے لئے اُس پر ڈٹے رہو ـ پھر کوئی دوسرا ایشو آئے گا اُس پر دوبارہ اپنا پوائنٹ  آف  ویو دو، ـ لوگ چاہیں جو بھی کہیں پروا ہ نہ کرو ـ بس اپنی ڈیڑھ اینٹ  کی مسجد سے باہر نکلنے کی  کوئی ضرورت نہیں۔   ـ ایک وقت آئے گا کہ لوگوں کی نظروں میں آجاؤگے کچھ ٹھیک ،تو زیادہ تر پاگل سمجھیں گے اور پھر خود کو تسلی دیتے رہو کہ ٹھیک اور سمجھدار لوگوں کو لوگ پاگل ہی سمجھتے ہیں ـ۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *