بک ریویو:’پس پردہ گجرات’ کے انکشافات۔۔۔۔شکیل رشید

سولہ برس بیت چکےہیں مگرگجرات2002 کے متاثرین کے لیے ’فسادات‘جیسے کہ ابھی تھمے نہیں ہیں۔کتنی ہی قانونی لڑائیاں لڑی جاچکی ہیں،کتنے ہی متاثرین حصول انصاف کے لیے دردر کی ٹھوکریں کھاکر خاموش بیٹھ گئے ہیں،جنہیں فسادات کی سازش کے لیے سزائیں دی گئی تھیں ان میں سے کتنے ہی اب ’آزاد ‘فضا میں سانسیں لے رہے ہیں۔

ابھی گذشتہ دنوں نروڈاپاٹیا قتل عام کی مجرمہ گجرات کی سابق وزیر مایاکوڈنانی کوآزادی ملی ہے۔نچلی عدالت نے کوڈنانی کو 96مسلمانوں کے قتل عام کے لیے مجرم قرار دیاتھا پر گجرات ہائی کورٹ کو کوڈنانی کے ہاتھوں پرکسی کے خون کے دھبے نظرہی نہیں آئے!اوررہے وہ بڑے سیاستداں،اعلیٰ پولیس افسرا ن اوراعلیٰ رتبے کے نوکر شاہ جو گجرات 2002 کے مسلم کش فسادات کے منصوبہ ساز اورسازشی تھے‘تووہ یوں تمام الزامات سے بچ نکلے ہیں جیسے کہ پانی میں ڈبکی لگانے والی بطخ کہ پانی سے ابھرنے کے بعداس کے جسم پر پانی کی ایک بوند نہیں رہتی!

tripako tours pakistan

یہ سب کیسے ممکن ہوا؟یہ وہ سوال  ہیں جن کے جواب گجرات کے ریٹائرڈآئی پی ایس آربی سری کمار کی کتاب ’پس پردہ گجرات‘میں پوری صراحت کے ساتھ دئیے گئے ہیں۔آربی سری کمارکاکہنا ہے کہ مجرموں اورفسادیوں کو بچانے کے لیے قانون سے کھلواڑکیاگیا ، قانون کو توڑا مروڑا گیا اورجن ہاتھوں میں نظم ونسق کی  ذمہ داری تھی‘ سیاسی آقاؤں نے ان ہی ہاتھوں کو یہ ذمہ داری سونپ دی کہ مجرموں اورفسادیوں کو بچانے کے لیے وہ جیسے بھی چاہیں قانون کی دھجیاں اڑائیں۔

آربی سری کمارفسادات کے ایام میں گجرات میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔وہ محکمہ خفیہ کے سربراہ تھے۔جب انہوں نے یہ دیکھا کہ فسادات  دانستہ کرائے جا رہے ہیں،منصوبہ بند ہیں اورساری سرکاری مشنریوں کا استعمال ایک فرقے کے خلاف کیا جارہاہے اورکیا سرکاری افسران اورکیا پولیس افسران سب ہی حکومت کے ہاتھوں کاکھلونا بنے ہوئے ہیں تب انہوں نے آواز اٹھائی، اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندرمودی کو للکارا،فسادیوں کو بے نقاب کرنے کی مہم شروع کی‘انہیں سرکاری عتاب جھیلنا پڑا‘انتقامی تبادلے کے عذاب سے وہ گذرے‘مقدمہ ہوا مگرانہوں نے حق اورسچ سے منہ نہیں موڑا اورآج تک وہ گجرات2002کی لڑائی لڑرہے ہیں۔

سری کمار نے اپنی انگریزی کتاب Gujrat Behind The Curtainمیں‘ جس کا اردوترجمہ ’پس پردہ گجرات‘کے نام سے حال ہی میں ’فاروس میڈیا‘نئی دہلی (ترجمہ: سید منصورآغا)نے شائع کیا ہے،گجرات2002کی اپنی لڑائی کوآگے بڑھایاہے۔کتاب کی بنیادایسے دوحقائق پر رکھی گئی ہے جسے سنگھی ٹولہ ابتدا ہی سے جھٹلاتے چلاآرہاہے۔ایک تویہ کہ ’فسادات منصوبہ بند تھے ‘اوردوم یہ کہ’فسادیوں اورمجرموں کو بچانے کے لیے سرکاری مشنری کاغیر قانونی اورغیرآئینی استعمال کیاگیاـ‘

کتاب کوتیرہ ابواب میں منقسم کیاگیاہے۔دوضمیمے الگ سے ہیں اورایک’پیش لفظ‘ہے جس میں آربی سری کمار نے کتاب لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے لکھاہے:

نہایت سفاکانہ اقلیت کش تشددکی دلخراش وارداتوں کے مناظردیکھنے کے بعد میں نے تہیہ کرلیاتھا کہ میں اس تشددکے بارے میں ریاستی حکومت اوراس کے پیروکاربی جے پی کیمپ کی اس گمراہ کن تشہیر کو بے نقاب کروں گا کہ یہ سنگدلانہ واقعات ہندوؤں کے اچانک بھڑک اٹھنے والے جذبات اورغیرمربوط واقعات کانتیجہ تھے۔

پیش لفظ میں وہ سپریم کورٹ کی قائم کردہ ایس آئی ٹی اور کانگریس کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ایس آئی ٹی نے گجرات پولیس کی بی ٹیم کی طرح کام کیا اورذکیہ جعفری کی شکایت میں نشان زد تمام  62ملزمان کو اپنی طویل رپورٹ میں پروانہ بے گناہی عطا کردیا……کانگریس پارٹی اوراس کی سربراہی والی مرکز کی یوپی اے سرکار کم سے کم ان امیدوں اورتوقعات کو بالکل بھی پورا نہیں کر سکیں جو فساد زدگان  اورحقوق انسانی کے کارکنوں کو ان سے تھیں…….یوپی کی سماج وادی سرکارنے بھی یوپی پولس کے ان اہلکاروں سے شہادتیں حاصل کرنے کےلیے کچھ نہیں کیا جو فروری 2002میں گجرات سے آنے والے رام بھکتوں اورکارسیوکوں کے جتھوں کی ایودھیا سے واپسی کے دوران ان کے ساتھ بھیجے گئے تھے اورگودھرا میں ٹرین آتشزدگی کے چشم دیدگواہ تھے۔

کتاب کے پہلے باب’2002گجرات فساد کاپس منظر‘میں آربی سری کمار نے فسادات کی منصوبہ بندی کی تفصیلات پیش کی ہیں مثلاً وہ بتاتے ہیں کہ کیسے مشترکہ آبادیوں میں ہندوؤں کے مکانات اوردیگر املاک کی شناخت کے لیے ان پر کسی دیوی دیوتا کی تصویر بنا دی گئی یامورتی نصب کردی گئی یا’اوم‘اور’سواستیکا‘کا نشان بنادیاگیاتاکہ سنگھ پریوار کے فسادی آسانی سے مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنا سکیں۔

دوسرے باب’مصیبت اورمایوسی کادور‘میں وہ گودھرا ٹرین سانحہ اورفسادات کاتفصیلی ذکر کرتے ہیں۔وہ تحریر کرتے ہیں کہ 28فروری کو وہ محافظ دستے کے ساتھ احمدآباد کی اپنی رہائش گاہ سے گاندھی نگر اپنے دفتر جا رہے تھے تب مسلح ہجوم مسلم مخالف نعرے لگا رہاتھا اورپولیس غیر فعال اورخاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔اس باب کاایک اہم حصہ ڈی جی پی کے چکرورتی سے ملاقات کی تفصیل پر  مبنی ہے۔وہ لکھتے ہیں:

ڈی جی پی مسٹر چکرورتی نے یہ ذکر بھی کیاکہ گودھرا سے واپس لوٹ کر 27فروری کی دیر شام وزیر اعلیٰ (نریندرمودی)نے اپنی رہائش گاہ پر اعلیٰ افسران کی ایک میٹنگ طلب کی جس میں انہوں نے کہا کہ عام طور سے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران پولیس ہندوؤں اورمسلمانو ں کے خلاف برابر کارروائی کرتی ہے‘اب یہ نہیں چلے گا‘ہندوؤں کوغصہ نکالنے کاموقع دیا جائے۔

آربی سری کمار فسادات روکنے،مسلمانوں کے اعتماد کو بحال کرنے اورمجرموں وفسادیوں کے خلاف کارروائی کرنے سے متعلق اپنے تدارکی تدابیر وتجاویز کابھی ذکر کرتے ہیں جن پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔وہ چوتھے باب’گمراہ کن اطلاعات پر حق کی فتح‘میں چیف الیکشن کمشنر کے سامنے سرکاری دباؤمیں آئے بغیر گجرات کی حقیقی صورتحال پیش کرنے کی تفصیلات اورا سکے نتیجے میں اپنے خلاف سرکار کی انتقامی کارروائی کابھی ذکر کرتے ہیں۔’سرکار کی انتقامی کارروائی اورمیری قانونی لڑائی‘کے باب میں وہ لکھتے ہیں:

سنہ2002 کے فسادات میں حکام کے مجرمانہ کردار کی شہادت جن تین آئی پی ایس افسران آربی سری کمار،راہل شرمااورسنجیو بھٹ نے کھل کر دی تھی وہ ابھی تک انتقامی عتاب جھیل رہے ہیں جب کہ دوانسپکٹروں کے علاوہ کسی کے خلاف فسادات میں مجرمانہ کردار ادا کرنے کے معاملے میں نہ توجرمانہ لگایاگیا اورنہ ہی کوئی محکمہ جاتی کارروائی ہوئی۔

سپریم کورٹ کی ایماپر ڈاکٹرآرکے راگھون کی سربراہی میں بنائی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی)کو وہ ’خصوصی مدافعتی ٹیم‘کہہ کر اس کی کارکردگی بلکہ اس کے اعتبار پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔سری کمار لکھتے ہیں کہ ذکیہ جعفری کی شکایت پر ایس آئی ٹی کلووزررپورٹ 26دسمبر2013کو منظورکی گئی۔یہ رپورٹ نہایت ناقص اورکھوکھلی ہےبقول سری کمار؛

’’ذکیہ جعفری کی شکایت میں وزیر اعلیٰ(مودی)اور62دیگر ملزمان کو نسل کشی کے جرائم اورفساد زدگان کے لیے انصاف کی راہ روکنے کی غرض سے کریمنل جسٹس سسٹم میں ہیرا پھیری کے الزام اوراپنی انتظامی اورقانونی ذمہ داری ادا نہ کرنے کی بابت جوابدہی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایس آئی ٹی نے دلائل کا جو حصار کھڑا کیاہے،وہ انتہائی بودا ہے۔‘‘سری کمار نے کلووزررپورٹ کی خامیوں کو گنوایا بھی ہے۔

کتاب میں آربی سری کمار نے ایک بہت اہم سوال اٹھایاہے؟’

سنہ 1984کے سکھ مخالف فسادات کے مشاہد سکھ افسران نے اورسنہ2002کے گجرا ت قتل عام کے بعدمسلم افسروں واہل کاروں نے تفتیش کنندگان کے سامنے فساد کی سازش رچنے والے اوراس کانفاذکرنے اورکرانے والے اعلیٰ سیاسی،انتظامی اورپولیس اہل کاروں کے خلاف حق کی گواہی کیوں نہیں دی؟

وہ بتاتے ہیں؛

چھ مسلم آئی اے ایس اورسات آئی پی ایس افسران دہلی کے سکھ افسران کی طرح اجتماعی کارپردازوں کے بارے میں قطعی خاموش رہے۔

ایک واقعہ،جو نروڈاپاٹیاقتل عام کاہے اس کاسری کمار نے بڑا دلگدازذکر کیاہے،اسے پڑھ کر یہ سوال اٹھتاہے کہ صرف مایاکوڈنانی ہی کیوں کیا وہ مسلم افسران بھی مجرم نہیں جنہوں نے ’قتل عام‘کو ممکن ہونے دیا؟سری کمار تحریر کرتے ہیں:

28فروری کی شام کے وقت جب میں آفس میں تھا،خورشید احمد(آئی پی ایس بیج نمبر1991)نے مجھے فون پر اطلاع دی کہ تقریباً چار سومسلم خاندان جو فسادیوں کی زدپرہیں سیجاپورکے محفوط کمانڈہیڈکوارٹر میں پناہ مانگ رہے ہیں۔مسٹر خورشید اس کمانڈہیڈکوارٹر کے کمانڈنٹ تھے جو کہ نروڈاپاٹیا سے متصل ہے جہاں اس دن شام تک 96مسلمانوںکو قتل کیاگیا۔کمانڈہیڈکوارٹرمحفوظ چار دیواری کے اندرہے اورسنتری اس کی حفاظت پر تعینات رہتے ہیں۔وہ ان عام باشندوں کو ایس آرپی بٹالین ہیڈکوارٹر میں داخل ہونے دینے کے لیے واضح اجازت چاہتے تھے۔میں نے ان کو فوراًفیکس سے یہ ہدایت بھیج دی کہ جو لوگ حفاظت کی خاطر اندرآناچاہتے ہیں انہیں آنے دیا جائے اوران کو خالی بیرکوں میں جگہ دیدی جائے۔درحقیقت کمانڈنٹ مسٹرخورشید اوران کے نائب ڈی وائی ایس پی مسٹرقریشی ان مسلمانوں کو جن کی جانیں یقینی طور سے خطرے میں تھیں کیمپ کے اندرداخل ہونے کی اجازت دینے کے جوکھم سے گھبرائے ہوئے تھے۔میں نے ان کو یقین واطمینان دلایا کہ میرے تحریری حکم پر عمل کرنے میں ان پر کوئی الزام نہیں آئے گا۔بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میرے تحریری حکم نامے کے باوجودکمانڈنٹ مسٹر خورشید احمد نے پناہ کے طالبوں کو کیمپ میں داخلے کی اجازت نہیں دی تھی۔اطلاع یہ ہے کہ اس دن شام کو نروڈاپاٹیا میں جن 96مسلمانوں کابہیمانہ قتل ہوا یہ انہی میں سے تھے جن کو کیمپ کے اندرپناہ دینے سے منع کردیاگیاتھا۔

بعد میں خورشید احمد سورت کے ڈپٹی کمشنر بنے۔ان کی اہلیہ شمیمہ(آئی اے ایس)ولساڈکی ضلع ڈیولپمنٹ افسراورسریندرنگرکی ضلع کلکٹربنیں۔اورڈپٹی کمانڈنٹ قریشی کو’امتیازی خدمات کے لیے صدرجمہوریہ کاپولس میڈل‘ملا۔ایک دوسرے آئی پی ایس ،آئی اے سیداے ڈی جی پی بنائے گئے،انہوں نے مودی کے لیے خوب کام کیا تھا۔یہ بعد میں بی جے پی میں بھی شامل ہوئے۔ایک اورمسلم افسربعد میں مودی کے دفتر میں مشیر کے عہدے پر متمکن ہوئے۔

سری کمار نے ایسے ہی کئی اعلیٰ افسروں کے نام گنوائے ہیں جنہیں فسادات کے ملزمین کو بچانے کے لیے ’انعام‘دیاگیا۔اوران افسران کے نام بھی گنوائے ہیں جنہیں ’حق‘بولنے کے لیے ’سزا‘دی گئی۔وہ راگھون کابھی ذکرتے ہیں کہ انہیں بعدمیں قبرص کاہائی کمشنر بنادیاگیا۔مصنف اپنے ذاتی مشاہدات اورسرکاری دستاویزات کو بطورثبوت استعمال کرکے ا ن چہروں کو بے نقاب کرنے میں پوری طرح سے کامیاب ہیں جو گجرات 2002کے فسادا ت کے  منصوبہ ساز بھی تھے اورسازشی بھی۔ان میں اعلیٰ سرکاری افسران ہیں،پولیس افسران ہیں اورچوٹی کے سیاست دان ہیں۔سری کمار کی یہ دستاویزی کتاب مقننہ اورعاملہ کے شرمناک گٹھ جوڑ کو اجاگرکرنے میں پوری طرح سے کامیاب ہے۔

یہ کتاب ہم سب سے یہ سوال کرتی ہے’’ہم قانون سے ہار گئے یا اپنے نکمے پن ،تساہل پسندی،خودغرضی اوروطن وقوم مخالف شیطانی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہم نے خود نظام عدل کو مفلوج کردیا؟‘‘یہ سوال اس وقت بھی حالات کے عین مطابق تھا اورآج بھی ہے جب کہ عدلیہ شدید طوفان کی زد میں ہے۔

Advertisements
merkit.pk

بشکریہ دی وائر

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply