اسلام کی رو سے اقتدار کے اصل حقدار کون لوگ ہیں؟۔۔۔بدر غالب

اسلام کی روح سے وہی لوگ حکم اور اقتدار کے حقدار ہیں جو اپنے اعمال اور افعال سے اللہ تعالیٰ کے مقرب ٹھرتے ہیں، سو وہ خلافت ارضی کے بھی مستحق ٹھہرتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ کرنے والے ہوتے ہیں، وہی اللہ کے اصل مقرب ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کے تین بنیادی تقاضے ہیں۔ اول، سب سے زیادہ خوف اللہ ہی سے رکھا جائے۔ دوئم، سب سے زیادہ محبت اللہ تعالیٰ ہی سے رکھی جائے۔ سوئم، سب سے زیادہ امید اللہ تعالیٰ ہی سے لگائی جائے۔

سب سے زیادہ خوف اللہ تعالیٰ سے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف دنیا اور دنیا کے بااختیار لوگ اپنا خوف طاری کرکے اللہ کے بندے کو راہ حق سے ہٹانے کا تقاضہ کریں، لیکن وہ اللہ کا بندہ اللہ کے حکم کو نافذ کرنے کے لیئے تمام عالم کے سامنے مضبوط چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑا ہو جائے، اور اپنا سر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے ہی جھکائے۔

اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ محبت کرنے کا تقاضہ ہے کہ ایک طرف دنیا کی رعنائیاں اور عریانیان انسان کو اپنی الفت کی طرف مائل کرکے گناہوں پر آمادہ کرنے کی سعی کریں، جبکہ اللہ کا خاص اور خالص بندہ ان تمام التفات کو جھٹک کر صرف اور صرف دیدار الہی کا حقیقی طلبگار بن جائے۔

تقویٰ کا تیسرا تقاضہ ہے کہ انسان اپنے جیسے دوسری خلقت کی اور دوسری تمام دنیاوی اور مادی مختاجیوں کی زنجیروں کو رد کرتے ہوئے اپنی تمام کی تمام امیدوں کا محور و مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکت کو بنا لے۔

جب دلوں میں بسنے والے تمام بت ٹوٹتے ہیں تو بندے کو حقیقی معرفت اور تقویٰ کے روحانی ثمرات سے روشنائی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے دل جو نفسانی خواہشات کے بتوں سے پاک ہو چکے ہوں، اللہ تعالیٰ کا مسکن بن جاتے ہیں۔ ایسے پاک اشخاص کو مومنین والی فراست اور حکمت عطا ہو جاتی ہے، اور ایسے افراد کے ہاتھ گویا کہ اللہ کے ہاتھ اور ان کا دیکھنا دراصل اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھنے کے مصداق ٹھہرتا ہے۔

سو، یہی لوگ ہیں جو اپنا تزکیہ نفس کرنے کی سعادت کے قابل بنے، چنانچہ اسلام کی روح سے خلافت ارضی اور اقتدار ارضی کے اصل حقدار یہی پاک نفوس ہیں۔

بدر غالب
بدر غالب
ماسٹر ان کامرس، ایکس بینکر، فری لانس اکاوٰنٹنٹ اینڈ فائنانشل اینیلسٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *