اقوام عالم کے امریکہ سے 12 مطالبات۔۔۔ثاقب اکبر

امریکہ نے دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر 2015ء میں ایران سے جو جوہری معاہدہ کیا تھا، چند روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پوری دنیا میں اس فیصلے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ یورپی یونین، روس، چین، جاپان اور ترکی جیسے ممالک کھل کر اس امریکی فیصلے کی مذمت کرچکے ہیں۔ امریکہ بجائے اس کے کہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتا، اس نے اپنے یورپی اتحادیوں، تجارتی کمپنیوں اور ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے اعلانات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ نئے امریکی وزیر خارجہ جو سی آئی اے کے سابق سربراہ بھی ہیں، انہوں نے ایران سے بارہ نئے مطالبات کی فہرست جاری کی ہے۔ یہ مطالبات کم عالمی داروغے کے احکام زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ ان میں ایران کی جوہری تنصیبات سمیت تمام فوجی مراکز کو عالمی معائنہ کاروں کے لئے کھولنے، حماس، اسلامی جہاد اور حزب اللہ جیسی تنظیموں کی حمایت بند کرنے، داعش کے خلاف لڑنے والی عراقی رضاکار فورس کی حمایت بند کرنے، شام میں دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی فورسز سے تعاون ختم کرنے، اسرائیل کو دھمکیاں دینے سے باز آنے، سپاہ پاسداران کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی تنظیموں سے تعاون کے خاتمے، افغانستان میں طالبان کی حمایت ترک کرنے اور انصار اللہ یمن کی حمایت بند کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔
ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ پومپے کے ان مطالبات کے جواب میں کہا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں کہ ایران اور دنیا پر اپنے فیصلے مسلط کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام ملک آزاد و خود مختار ہیں، وہ امریکی دباﺅ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اب دنیا اس دور سے نکل آئی ہے، جب امریکہ بعض مقامات پر دباﺅ سے کام چلا لیتا تھا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ایران، یورپ یا دیگر ممالک امریکی دباﺅ کے بارے جو کچھ بھی کہیں، وہ اپنی خود مختاری کی حفاظت میں اس کا حق رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر امریکی کردار کو سامنے رکھتے ہوئے نیز امریکہ کے اپنے کے مفاد میں اور دنیا میں امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ پوری دنیا امریکہ سے درج ذیل بارہ مطالبات کرے۔
1۔ امریکہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو ختم کرے، چونکہ دنیا میں سب سے زیادہ جوہری اور کیمیائی ہتھیار امریکہ کے پاس ہیں اور امریکہ ہی پہلے انہیں استعمال بھی کرچکا ہے اور آئندہ بھی امریکہ ہی سے اس کا زیادہ خطرہ ہے، امریکہ کئی ایک ممالک کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی بھی دے چکا ہے اور وہ اپنے ماضی کے کئے پر پشیمان اور شرمندہ بھی نہیں ہے۔
2۔ امریکہ اپنے پارٹنر اسرائیل پر دباﺅ ڈالے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار ختم کرے، آئندہ کے لئے یورنیم کی افزودگی کو بند کرے اور اپنے نیوکلیائی پروگرام کے فوجی مقاصد کو بیان کرے۔
3۔ امریکہ اسرائیل پر دباﺅ ڈالے کہ وہ اپنی جوہری اور بیلیسٹک میزائل کی تنصیبات کو عالمی معائنہ کاروں کے لئے کھولے۔
4۔ امریکہ اپنے اتحادی ممالک میں بیلیسٹک میزائل کی تیاری کا سلسلہ بند کرے اور اس عمل کو میزائل ٹریٹی معاہدوں کا پابند بنائے۔

5۔ امریکہ پوری دنیا سے اغوا کئے گئے افراد کو رہا کرے، ظالمانہ عقوبت خانوں کو بند کرے اور انہیں عالمی معائنہ کاروں کے لئے کھولے۔ نیز اسرائیل اور اپنے دیگر اتحادیوں پر زور ڈالے کہ وہ بے گناہ فلسطینیوں اور دیگر سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کریں۔
6۔ امریکہ ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی بند کرے اور اپنے مقاصد کے لئے دہشت گرد گروہوں کی تشکیل، تربیت، لانچنگ اور ان کی حمایت کا سلسلہ بند کرے۔ افغانستان میں داعشی دہشتگردوں کی منتقلی، انہیں ہتھیاروں کی فراہمی، ان کے لئے نئی بھرتی اور ان کی تربیت کا سلسلہ بند کرے۔
7۔ امریکہ اور اس کے اتحادی قوموں کی خود مختاری کا احترام کریں، افغانستان، شام، عراق، لبنان، بحرین، قطر، کویت، جنوبی کوریا، جاپان، جرمنی اور دنیا بھر میں موجود اپنے فوجی اڈوں اور تنصیبات کا خاتمہ کریں، اپنے بحری بیڑوں کو اپنے اپنے ملکوں میں واپس بلائیں نیز اسرائیل شام سمیت اپنے ہمسایوں پر حملوں کا سلسلہ بند کرے۔
8۔ امریکہ دنیا میں دیئے جانے والے ملٹری سپورٹ فنڈ کا خاتمہ کرے، جدید ہولناک اسلحہ کی فروخت سے دنیا کے امن کو غارت کرنے کا سلسلہ ختم کرے اور اپنے مالی مسائل حل کرنے کے لئے قوموں کو تباہ کرنے کے بجائے داخلی طور پر ترقی کے مثبت منصوبے بنائے، جن میں اپنے عوام کو شریک کرے۔
9۔ امریکہ عالمی قوانین کو پامال کرنے کا سلسلہ بند کرے اور عالمی قوانین کو روندتے ہوئے قدس شریف میں سفارتخانے کی منتقلی کا فیصلہ فی الفور واپس لے۔

10۔ امریکہ دنیا کی مختلف قوموں پر عائد ظالمانہ اور دھونس پر مبنی پابندیوں کا خاتمہ کرے، قوموں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بند کرے۔ FATF جیسے حربوں سے قوموں کے استحصال کا سلسلہ ختم کرے۔
11۔ جن اقوام کو اب تک امریکہ نے فوجی حملوں، دہشت گردی کے فروغ، معاشی پابندیوں اور دیگر ذرائع سے نقصان پہنچایا ہے، اس پر امریکہ اقوام عالم سے معافی مانگے اور تمام متاثرہ اقوام، اداروں اور شخصیات کے نقصانات کی تلافی کرے۔
12۔ امریکہ اپنے عوام کے مفادات کی روشنی میں نئی خارجہ پالیسی اختیار کرے۔ اپنے عوام کو دنیا بھر کی اقوام کی نفرت کا نشانہ نہ بنائے۔ بے رحم اور ظالم سرمایہ داروں کے مفادات کی حفاظت اور ان کی ترجمانی کے بجائے اپنے 99 فیصد محروم عوام کے مفادات کی حفاظت اور ان کی ترجمانی کرے۔ امریکی وسائل کو دنیا میں نفرت عام کرنے کے لئے استعمال کرنے کے بجائے اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی پر صرف کرے۔ ملک کے اندر اسلحہ فروشوں کی سرپرستی کرنے کے بجائے مظلوم عوام کی سرپرستی کرے۔ امریکی فیڈریشن کے غلط فیصلوں سے تنگ آئی ہوئی جو ریاستیں آزاد ہونا چاہتی ہیں انہیں، ان کا پیدائشی حق فراہم کرے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *