جہیز ایک لعنت تو بَری کیا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

SHOPPING
SHOPPING

“جہیز” ایک لعنت ہے, سوفیصد تسلیم لیکن کوئی صاحب یا صاحبہ “بری” کی تشریح کریں گے؟

حق مہر کے نام پر سکہ رائج الوقت طے شدہ رقم وصول پاکر اضافی سونا لکھوانا, گھر لکھوانا, چار پانچ لاکھ لکھوانا اور جملہ رشتہ داروں کے مہنگے لباس, مہنگا ولیمہ اور بعد از شادی مہنگا ہنی مون پیکچ لڑکی کی ڈیمانڈ پر کہاں فٹ آتا ہے؟

اور ہاں طلاق کی شرائط کا شرعی اور قانونی جواز کیا ہے؟

جیسے اگر لڑکا کسی گھریلو ناچاکی کی وجہ سے طلاق دے تو تین تولہ سونا یا تین لاکھ کیش دے (آج کل عام مشاہدے میں ہے یہ چلن) ورنہ جیل میں بیٹھے۔یعنی شادی جیسے مقدس رشتے میں اول روز سے فساد کی داغ بیل ڈال  دی جاتی ہے پھر ہم سوال کرتے ہیں کہ معاشرہ اتنا غیر متوازن کیوں ہے؟اور جہیز چونکہ ٹھوس خرچہ ہے اسی لئے صدیوں تک نظر اور ذکر میں رہتا ہے لیکن جو خرچہ لڑکوں سے کروایا جاتا ہے وہ ہوائی مگر جہیز سے دوگنا ہوتا ہے لیکن اس کا نہ ذکر ہوتا ہے نہ وہ نظر آتا ہے۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟

پھر رسموں کے نام پر جو سسرالی پیسہ بٹورتے ہیں لائیو وہ تو کہیں گنتی میں شمار ہی نہیں۔اگر جوان غریب لڑکیاں گھر بیٹھی بوڑھی ہورہی ہیں یا بے راہ روی کا شکار ہورہی ہیں تو جو جوان غریب لڑکے گھر بیٹھے بوڑھے ہورہے ہیں یا کمسن اور رشتہ دار دوشیزاؤں کی آبرو سے کھلواڑ کرنے کا موجب بن رہے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟

کیا ہمارا اسلام کسی طرح بھی ان مہنگی اور فضول خرچ جملہ رسم و رواج کی ہلکی سی بھی اجازت دیتا ہے جنہیں ہم۔۔روکا،جہیز،مایوں،مہندی،بینڈ باجا،آتش بازی،بارات (جیسا رائج ہے)،بَری،بد،شادی کی رسمیں (جوتا چھپائی, واگ پھڑائی, راستہ رکوائی, دودھ پلائی, شیشہ دکھائی وغیرہ)نکاح (جیسا رائج ہے)،سلامی،بھاری بھرکم حق مہر،حق مہر کے علاوعہ اضافی مال و زر کی ضمانت لکھوانا،طلاق کی شرائط میں مال و زر لکھوانا،منہ دکھائی،ولیمہ (جیسا رائج ہے)نیوندرا۔۔۔اور نجانے کیا کیا ہے جو دونوں طرف برابر اخراجات کا موجب بنتا ہے لیکن جب بھی اعتراض اٹھتا ہے یا بات کی جاتی ہے تو یکطرفہ۔

اول تو دونوں طرف رائج رسم و رواج اور اخراجات   اسراف  کے زمرے میں ہی آتے ہیں لیکن اگر دونوں فریقین ایک دوسرے کی کھال اتارنے میں جب کسر نہیں رکھتے تو پھر خالی لڑکا اور اس کے گھر کے افراد ہی کیوں زمانے کی لعنتوں کے حقدار ٹھہریں اور کیونکر لڑکے کی غیرت کو للکارا جائے یہ سوال کرکے کہ سر کے دیئے بیڈ پر لیٹ کر غیرت کیسی؟

اگر یہ سوال درست ہے تو لڑکی سے تو پھر ایک ایک منٹ پر سوال پوچھے جائیں گے کہ سناؤ یہ سونا لاد  کر شرم غیرت اور خوداری کیسی؟یہ گھر میں مالکن بننے کا حوصلہ کیسا؟یہ ہنی مون پر ڈھیروں خرچہ کروانے کی جسارت کیسی ا ور یہ عید شبرات پر تحفے تحائف کی مد میں گھروالوں پر خرچہ کی ضرورت کیسے؟

دیکھیں میں لڑکوں کا وکیل صفائی نہیں لیکن بطور ذمہ دار شہری اور ان سب مرحلوں کا شکار ایک عام مسلمان پاکستانی یہ سوال اٹھاکر عام لوگوں کو دعوت حق دے رہا ہوں کہ وہ بغور جائزہ لیکر سوچیں کہ وہ کیسے اسلام کا مذاق اڑا کر خود مذاق بن جاتے ہیں۔ان رسم و رواج, نام نہاد میعارات اور فضول اخراجات نے نکاح جیسے فرض اور سنت کو انتہائی مہنگا بلکہ لگژری بناکر رکھ دیا ہے۔پھر دوسری تیسری چوتھی شادی اور بیوہ و مطلقہ سے نکاح کو شجر ممنوعہ کی طرح گناہ بناکر رکھ دیا گیا ہے۔اور رہی سہی کسر ہمارے معاشرتی بگاڑ, فیشن اور روشن خیالی کی نظر ہوکر جنسی بے راہ روی نہیں بلکہ حیوانی کلچر کی طرف گامزن ہے تو کیسے سکون, امن اور اتحاد اور محبت کی فضاء قائم ہو۔

کیسے زنا بالجبر اور زنا بالرضا کی روک تھام ممکن ہو جب ہم نے حلال کام کو مشکل اور ناممکن بناکر معاشرے کا توازن بگاڑا ہوا ہے؟کیا جہیز ایک لعنت ہے کہہ دینے اور چلیں روک تھام کے بعد جو شادیاں رکی ہوئیں ہیں یا رشتے نہیں ملتے جیسے مسائل یک دم ختم ہوجائیں گے۔کیا ہندووانہ رسم و رواج کے رہتے ہم مسلمان نکاح جیسی سنت سے بغیر پریشانی فیضیاب ہوسکتے ہیں؟کیا شادی خانہ آبادی میں رکاوٹ جہیز ہی ہے؟کیا لڑکے والے ہی لالچی ہیں اب اس زمانے میں؟

چلیں یہ نکاح شادی جہیز اور بری کا تو ٹنٹنا ہی بعد میں بجتا ہے آپ رشتہ تلاش کرتے وقت کیا یہ خوبیاں بالترتیب تلاش نہیں کرتے زوجین کی لڑکی ہو تو،کمسن ہو،حسین وجمیل ہو،اعلی تعلیم یافتہ ہو،سگھڑ اور سلیقہ شعار ہو،ہنر مند ہوتو کیا کہنے،نوکری پیشہ ہے تو کمال است،عیال دار مطلب کسی افسری طاقتور خاندان کی ہو تو مزے،مال دار ہوتو سونے پہ سہاگا وغیرہ وغیرہ،

اور لڑکا ہو تو،وجیہ و شاندار ہو،پچیس سے تیس کے پیٹے میں ہو،لمبا چوڑا اور مضبوط جسم رکھتا ہو،اعلی تعلیم یافتہ ہو،ڈبل ٹرپل فگر تنخواہ دار یا کامیاب کاروباری ہو،عیال دار ہو،مال دار ہو وغیرہ وغیرہ

اب ذرا خود انصاف کریں کہ ہمارے رشتے کی تلاش سے لیکر شادی تک ایک مرحلہ بھی ایسا ہوتا ہے جو خالص سنت نبوی اور شرعی احکامت کی پیروی کو جھلکاتا ہو؟

یہ ہم من حیث القوم کس طرف نکل گئے ہیں؟

“جہیز” کی ڈیمانڈ اگر لعنت ہے تو “بری” کی چاہت بھی کوئی نیکی اور ثواب کا کام نہیں اور دیگر رسم و رواج اور اخراجات کا تو جواز ہی کوئی نہیں۔

میں واضح کردوں کہ یہ سب جملہ رسم و رواج کی بندشیں نہ تو شریعت ہیں اور نہ ہی مشرقیت اور نہ ہی اخلاقیات اور قانون کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا تو رہ جاتا ہے ہندوازم جسکی بدولت ہم اس بدعت بلکہ لعنت کا بری طرح شکار ہوکر حلال کو حرام کربیٹھے ہیں اور اپنے ہاتھ سے زنا جیسی برائی کے بیج بورہے ہیں۔

پھر معصوم بچیوں اور بچوں کی زندگی کے چراغ جب گل ہوتے ہیں ہم میں ہی موجود درندوں کے ہاتھوں, ہم جیسوں کے ان رسم و رواج پر سختی سے پابندی کی وجہ سے سیدھے راستے سے جبلت کے نکاس میں رکاوٹ بن کر تو دکھ, تکلیف اور الزام تراشی   کا کیا فائدہ؟

میرا خیال ہے کہ جہیز ایک لعنت نامی تحریک خود فتنہ ہے اس کے بجائے سادہ نکاح کو عام کرو جیسی تحاریک کی اشد ضرورت ہے جس میں میعارِ رشتہ دنیاداری نہیں بلکہ دینداری ہو طرفین میں۔

SHOPPING

تھوڑا نہیں پورا سوچیں۔

SHOPPING

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *