پاکستان کیسی ریاست؟۔۔۔محسن علی

پاکستان  کیسی ریاست ہے ؟ یہ لسانیت کیوں ہے ؟ پاکستان اصل میں کئی قوموں کا مجموعہ ہے جو اب تہتر کے آئین کے تحت پانچوں صوبوں و قبائلی علاقاجات و فاٹا کا اس آئین کے ساتھ متفق ہونے کا ایک فیصلہ ہے ، کیونکہ یہ کئی قومیں ہیں اور انکی زبانوں کو قومی دھارے میں شامل نہیں کیا گیا لہذا لسانیت دکھائی دیتی ہے ، اُس پر ستم ظریفی یہ کہ تمام تر قوموں کے شہری حقوق مساوی نہیں دئیے گئے سونے پر سہاگہ اپنوں نے بھی اپنوں پر ظُلم کرنے میں کسر نہ چھوڑی پھر ریاست کا مولوی کو پہلے پارلیمنٹ کے ذریعے گود لینا پھر بندوق والوں کا مولویوں کو گود لینا ۔ اب جبکہ ریاست کی کوئی تنظیم ، شہری یا گروہ جب اپنے آئینی حق کے تحفظ کی بات کرتا ہے جس کو ریاست نے شناختی کارڈ دیا یا وہ مہاجرین جن کی بُنیاد پر اور مہمان نوازی و روزگار وغیرہ کی سہولیات کا تو عالمی اداروں سے پیسہ لیا ہو مگر انہیں اپنے جنگی مفاد کے لئے استعمال کیا گیا ۔ ریاست سے جب بھی کسی قوم صوبے کی عوام نے کہا ہم جبر دہشت و خوف سے آزادی چاہتے ہیں ریاست نے پروپیگینڈے کے ذریعے سمجھایا دوسروں کو یہ آزادی مانگنا غداری ہے جبکہ وہ آپ کو آئین کے تحت لکھے گئے حقوق کی بات کررہے ہوتے ہیں ۔ مگر ریاست انکے وسائل تو استعمال کرتی ہے  پر ان کو برابری کا حق دینے سے مُسلسل انکاری  ہے اور حیلے بہانے   وعدے وعید کرتی  ہے جس کی ایک مثال ہماری ریاست کا دوسری سوتیلی ماں کا بچہ بلوچستان ہے ۔ ہمارے یہاں لوگوں کے ذہن میں ریاست مطلب فوج سمجھادیا گیا ہے جبکہ ریاست حکومتی اداروں کے مجموعہ کا نام ہے جو آئین کے تحت چلے اُس کو ریاست کہتے ہیں ۔ لہذا ہر ادارے نے اب اپنے آپ کو ریاست کا محافظ سمجھ لیا ہے جبکہ بیوقوفی یہ کی گئی کہ  تہتر کے آئین میں فوج کو نظریاتی سرحدوں کی ذمہ داری سونپ ڈالی جس کے باعث اب تک دو قومی نظریہ جو وقتی ضرورت تھا جس کو دم توڑجانا چاہیے تھا اب تک زندہ ہے ۔ لہذا اسی کھچ کھچ کی بُنیاد پر اور حقوق نہ ملنے کی بنیاد پر آئین کو بار بار ختم کرنے والوں کو جب سزا نہیں ہوتی تو پھر ریاست کے اندر تشدد و جبر پنپتا ہے ۔ جب ریاست قاتل کو تحفظ دینے لگے تو معاشرہ جنونی و قاتل کے ساتھ ہمدردی رکھنا شروع کردے گا اور پھر سیاسی یا مذہبی تحریکیں و فرقے بھی ریاست کو چیلنج کرنے کے درپے ہوں گی۔ جتنی محرومی جنم لے گی ریاست کے خلاف اتنے ہی  لوگ ہوں گے۔ لہذا ریاست و ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے آئین کے تحت تمام تر شہریوں کو برابری کے حقوق دینے کی کوشش کریں ریاستیں نظام سے قائم رہتی ہیں اور کسی اصول و ضابطے آئین سے ورنہ ٹوٹ جاتی ہیں تہتر کا سانحہ دیکھ چُکے ہم ۔ اب یہ ریاست و عوام کے درمیان خلاء پُر کرنا ریاست کے اوپر ہے وگرنہ
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا!

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *