عام انتخابات۔۔۔چند سوالات

عام انتخابات سر پر کھڑے ہیں ۔ مناسب ہو گا ، چند سوالات پر ابھی سے غور کر لیا جائے۔ کیا اس بات کی کوئی شعوری کوشش کی گئی ہے کہ یہ انتخابات گذشتہ انتخابات سے بہتر ہوں اور پچھلی دفعہ جن مسائل اور قباحتوں کا سامنا کیا گیا تھا کم از کم اس دفعہ ان سے بچا جا سکے؟

گزشتہ انتخابات کے نتیجے میں یہ ملک ایک بحرانی کیفیت سے دوچار رہا ۔ کیا اس کے بعد پارلیمان میں شعور اجتماعی بروئے کار آیا اور کوئی ایسی ٹھوس قانون سازی کی گئی کہ اگلے انتخابات میںان مسائل اور قباحتوں سے بچا جا سکے؟ ایک انتخابی اصلاحات کمیٹی بنائی گئی تھی ۔کیا ہم جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اس کی کار کردگی کیا رہی؟کیا ساری پارلیمان مل کرہمیں بتا سکتی ہے کہ ہم نے ان پانچ سالوں میں یہ پانچ قانون بنائے ہیں تا کہ شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے؟

2013 کے عام انتخابات پر عمران خان ہی نے نہیں قریب قریب سبھی سیاسی جماعتوں نے تنقید کی ۔ آصف زرداری نے بھی اسے آر اوز یعنی ریٹرننگ آفیسرز کا الیکشن قرار دیا۔ اب یہاں قانونی پوزیشن بڑی دل چسپ ہے۔ ہارنے والے امیدوار کے پاس دھاندلی کے جتنے بھی ثبوت کیوں نہ ہوں قانون یہ کہتا ہے کہ وہ جب مقدمہ کرے گا تو وہ اس میں ریٹرننگ افسر کو فریق نہیں بنا سکتا۔ ریٹرننگ افسر کومکمل استثناء حاصل ہے۔ اس استثناء میں یقینا حکمت ہو گی کیونکہ ریٹرننگ افسران کا تعلق عدلیہ سے ہوتا ہے اور ان ہی کے خلاف مقدمات کا انبار لگ جائے تو بڑی پیچیدہ صورت حال پیدا ہو جائے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ریٹرننگ افسران کو دیا گیا یہ استثناء کیا شفاف انتخابات کی روح کے متصادم نہیں ہے؟جب آپ انتخابات کرا رہے ہیں ، آپ کے پاس اہم ترین منصب ہے ، متاثرہ فریق سمجھتا ہے کہ آپ دھاندلی میں شریک رہے تو ایسے میں کیا ریٹرننگ افسر کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہو کر اپنی پوزیشن واضح نہیں کرنی چاہیے؟ جوابدہی کے احساس کے بغیر شفافیت کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے؟ کیا کسی نے اس معاملے پر غور فرمایا ؟

کیا یہ ممکن ہے کہ ریٹرننگ افسران عدلیہ کی بجائے کسی اور محکمے سے لیے جائیں تا کہ کہیں ان کے خلاف دھاندلی کی شکایات ہوں تو ان سے قانون کے مطابق باز پرس ہو سکے؟اور کیا کوئی اور محکمہ ہمارے پاس ایسا ہے جو مقامی سیاست دانوں کی دھونس اور جبر سے بے نیاز ہو کر ریٹر ننگ افسران کی ذمہ داری ادا کر سکے؟

عدلیہ تو چونکہ اپنے تقرر و تبادلوں سے لے کر جملہ دیگر امور تک اہل سیاست کے دسترس سے محفوظ ہے اس لیے وہ دبائو کے بغیر کام کر سکتی ہے۔کیا کوئی اور ادارہ بھی ایسا ہے جس سے ریٹر ننگ افسران لیے جائیں اور وہ اہل سیاست کے دبائو سے آزاد ہو کر کام کر سکیں؟ یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے اس سے کیسے نبٹا جائے؟ شکست کے خوف سے ہمارے ہاں قائدین ایک سے زیادہ حلقے سے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔پھرجیت جائیں تو وہ ایک نشست رکھ کر باقی نشستیں چھوڑ دیتے ہیں۔ وہاں دوبارہ انتخابات ہوتا ہے ۔

اور اس پر قومی خزانے سے بھاری رقم خرچ ہوتی ہے۔عوام ایک بار پھر اس عمل سے گزرتے ہیں۔حلقے میں تعطیل ہوتی ہے۔ سرکاری ملازمین اور پولیس کو اضافی ڈیوٹی دینا پڑتی ہے۔ کیا مناسب نہ ہو اس عمل کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے پابندی عائد کی جائے کہ ایک امیدوار صرف ایک حلقے سے الیکشن میں حصہ لے سکے گا؟ آخر کیا جواز ہے کہ ان چند انوکھے لاڈلوں کے لیے سرکاری وسائل اور توانائیاں برباد کی جائیں؟

یا اگر پابندی عائد نہیں کرنی تو اس صور ت میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے تمام اخراجات بشمول سٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ایک دن کی تنخواہ کیوں نہ ان سے وصول کی جائے؟ حلقہ بندیوں کا معاملہ بھی ابھی حل نہیں ہو سکا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں کتنی ہی پیٹیشنز زیر سماعت ہیں۔ جب تک ان پر حتمی فیصلہ نہیں ہوتا الیکشن کیسے ہو سکتا ہے؟معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہو اور الیکشن کمیشن انتخابات کا انعقاد کروا لے یہ کیسے ممکن ہو گا؟ کیا الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کو اس معاملے کی سنگینی کا احساس ہے اور کیا وہ عدالت سے باہر مل بیٹھ کر حلقہ بندیوں کا معاملہ نبٹا سکتے ہیں؟

اب آئیے امیدواروں کی اہلیت کی جانب۔کیا انتخابات میں امیدواروں کی جانچ پڑتال کے لیے کیا ہم نے کوئی ٹھوس قوانین بنا رکھے ہیں؟ کیا متعلقہ اداروں کو معلوم ہے کہ وہ کون سے اصول ہیں جن پر کسی امیدوار کی اہلیت کو پرکھا جانا چاہیے؟ آئین میں امیدواروں کی اہلیت جانچنے کے لیے آرٹیکل 62 میں کچھ بنیادی اصول وضع کر دیے گئے ہیں۔لیکن ان کی تشریح ہونا ابھی باقی ہے۔آرٹیکل 62 کی ذیلی دفعہ ( ایف) میں جو شرائط ہیں ، یعنی سمجھدار ، پارسا اور ایماندار ہونا صرف ان کی وضاحت موجود ہے کہ ہر آدمی میں یہ خوبیاں موجود تصورہوں گی جب تک عدالت فیصلہ نہ کر دے کہ یہ شخص ان خوبیوں سے محروم ہے۔

اس دفعہ کے علاوہ سب کچھ مبہم ہے۔یہ ابہام کس نے دور کرنا ہے؟ مثال کے طور پر آرٹیکل باسٹھ میںامیدوار کی اہلیت کی ایک شرط یہ ہے کہ وہ اچھے کردار کا مالک ہو۔ اب اس’’ اچھے کردار ‘ ‘کی قانون میں کہاں وضاحت ہے کہ یہ یہ خوبیاں ہوں گی تو آپ کا کردار اچھا ہو گا اور یہ یہ خامیاں ہوں گی تو آپ کا کردار اچھا نہیں ہو گا۔ کیا کوئی الیکشن کا ضابطہ بنایا گیا جس میں وضاحت کی گئی ہو کہ Good character سے کیا مطلب ہے اور کسی کے بارے میں یہ جانچنے کا کیا طریقہ کار ہو گا کہ اس کا کردار اچھا ہے کہ برا؟

آرٹیکل باسٹھ میں اہلیت کی ایک شرط یہ ہے کہ امیدوار کی عمومی شہرت یہ نہ ہو کہ وہ احکام اسلامی سے انحراف کرتا ہے۔ اب یہاں دو سوال ہیں۔پہلا سوال یہ ہے کہ یہ ’ ’عمومی شہرت‘‘ کیا ہو گی اور اس کو ناپنے کا پیمانہ کیا ہو گا؟ ایک امیدوار کی مخالف جماعت ایک ہزار بندے لا کر کھڑا کر دے کہ یہ گواہی دیتے ہیں فلاں امیدوار کی عمومی شہرت یہ ہے کہ وہ احکام اسلامی سے انحراف کرتا ہے تو کیا یہ گواہی ’’ عمومی شہرت‘‘ سمجھ کر قبول کر لی جائے گی؟ نیز یہ’ ’ احکام اسلامی سے انحراف‘ ‘سے کیا مراد ہے۔ کون سے احکام اسلامی ایسے ہیں جن سے انحراف آپ کی اہلیت کو متاثر کرے گا؟ نماز نہ پڑھنا، جھوٹ بولنا، گالی دینا، مخالفین کو برے ناموں سے یاد کرنا، بنک سے سود پر قرض لینا؟ نیز یہ کہ انحراف سے کیا مراد ہو گا؟

کتنی دفعہ کسی حکم اسلامی کی خلاف ورزی انحراف کہلائے گی؟ ایک خلاف ورزی ارتکاب بھی انحراف کے زمرے میں آئے گا یا دو دفعہ یا تین دفعہ یا بار بار؟ امیدوار کی اہلیت کی ایک شرط یہ ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کا کتنا علم ہو گا جسے خاطر خواہ علم Adequate Knowledge کہا جائے گا؟ خاطر خواہ علم ناپنے کا کیا پیمانہ ہے؟ کیا الیکشن کمیشن نے کوئی نصاب بنا کر ریٹرننگ افسران کو دے رکھا ہے کہ آپ نے اس کے مطابق امیدواران کا علم پرکھنا ہے یا یہ کام افسران کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ اہلیت کی ایک شرط یہ ہے کہ امیدوار اسلام کے عائد کردہ فرائض Obligatory Duties ادا کرتا ہو۔ کیا الیکشن کمیشن نے Obligatory Duties کی کوئی فہرست بنا رکھی ہے کہ ان کی بنیاد پر امیدواران کی اہلیت کو پرکھا جائے گا ۔

اب نماز سے بڑی Obligatory duty کیا ہو سکتی ہے؟ کیا آج تک کسی کو اس بات پر نا اہل کیا گیا کہ آپ نماز نہیں پڑھتے؟ اور کیا اس پر نا اہل کیا جا سکتا ہے؟ یہاں تو لوگوں کو سورہ اخلاص بار بار نہیں آتی اور وہ رکن پارلیمان بار بار بن جاتے ہیں۔ایک شرط یہ بھی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے اس نے نظریہ پاکستان کی مخالفت نہ کی ہو۔یہاں نظریہ پاکستان کا مذاق اڑانے والے وزیر اعظم بن جاتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوتا ہے؟ انتخابات سر پر کھڑے ہیں اور سوالات کا دفتر کھلا ہے

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *