شہنشاہِ سندھ کے حضور۔۔۔ مشتاق علی شان

ترا تخت سلامت یونہی رہے
ترا بخت سلامت یونہی رہے

ترے پیر وڈیرے زندہ رہیں
بدنام لٹیرے زندہ رہیں

تری “خاکی فطرت” خاک رہے
تو “پاک” ہے جیسا ” پاک” رہے

ہم “عقل سے عاری” سندھ باسی
صدیوں کی بیماری سندھ باسی

روتے ہیں اٹھنے والوں کو
روتے ہیں مٹنے والوں کو

تری “حکمت” کا احساس نہیں
تری “کِرپا” کا بھی پاس نہیں

ہر سسی سندھ کی پِٹتی ہے
اور بیچ سڑک یاں گرتی ہے

بیٹوں کو ہر ماں روتی ہے
گل خان حکومت سوتی ہے

یہ ڈھنگ ترا یہ طور رہے
بدمعاش سپاہ کا زور رہے

ہم ہیں پاگل جنھیں ہوش نہیں
ورنہ تیرا کچھ دوش نہیں

یہ بخت رہے یونہی بخت آور
یہ تخت رہے یونہی تخت آور

تری یونہی جے جے کار رہے
تری اگلی بھی سرکار رہے

ترے سارے مردے، زندہ باد
مرے سارے زندے، مردہ باد

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *