• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی پارٹیاں دونوں برابر کی قصوروار۔۔۔مرزا یاسین بیگ

اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی پارٹیاں دونوں برابر کی قصوروار۔۔۔مرزا یاسین بیگ

ہمارا کوئی  سیاسی لیڈر غدار نہیں ہے وہ بس خودغرض , کم ظرف اور اقتدار و دولت کے لالچی اور ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر جیبیں اور بینک اکاؤنٹس بھرنے والے بھوکے ہیں . چونکہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مدد کے ساتھ حکومت بناتے ہیں اس لئے انھیں کبھی بھی عوام کی پرواہ نہیں رہی ہے . انھیں معلوم ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اگر ان کے ساتھ ہے تو وہ ووٹ کیلئے جتنی چاہے دھاندلی کرسکتے ہیں . اس لئےپاکستان میں کبھی کوئی  پارٹی حقیقی ووٹوں کے ساتھ نہیں جیتتی . جب اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہوتی ہے تو وہ لاکھوں ووٹ لیتی ہے اور جب نہیں ہوتی تو جعلی ووٹوں کا رونا روتی رہتی ہے .

اسی طرح اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے اس موقع پر ہر سیاسی پارٹیوں کے وعدے محض وعدے ہی رہے . چونکہ پاکستان میں ووٹرز کا سیاسی شعور بےحد کم ہے اس لئے پارٹیاں ہر طرح کے وعدے زوروشور سے کرلیتی ہیں اور جب پورا نہیں کرپاتیں تب بھی ووٹر انھیں کچھ نہیں کہتا کیونکہ اسے اس کا شعور ہی نہں کہ اگر پارٹی انتخابی وعدے پورے نہ کرے تو یہ ووٹ کی توہین اور ووٹرز کے ساتھ بددیانتی ہے . یہاں ووٹ خاندانوں , لسانی حوالوں , مذہبی نعروں ,جاگیرداروں اور غنڈوں , بدمعاشوں کو پڑتے ہیں .

یہی وجہ ہے کہ جب جس پارٹی پر اسٹیبلشمنٹ کا عذاب آتا ہے وہی الیکٹیبل امیدوار دوسری پارٹی میں چلاجاتا ہے . یہاں لوٹے بننا باعث شرمندگی نہیں نہ ہی عوام ووٹ نہ دےکر لوٹا امیدواروں کو شرمندہ کرتی ہے . یہی وجہ ہے کہ سیاست دان بےایمانیاں , چوریاں , لوٹ مار اور غبن کرنے کے باوجود ہر انتخاب میں کامیاب ہوجاتے ہیں چاہے وہ کسی بھی پارٹی میں ہوں .

ہر بار فوجی اسٹیبلشمنٹ کے آشیرباد سے حکومت بنانے والی پارٹی جب اقتدار سنبھالتی ہے تب اسٹیبلشمنٹ انھیں پہلے پہل لوٹ مار کی سہولت فراہم کرتی ہے بعدازاں انھیں اپنے احکامات کے تابع کرنا چاہتی ہے . جہاں حکومت کے اپنے ذاتی مفادات پر ضرب نہیں پڑتی حکمراں پارٹی بےچوں چراں اسٹیبلشمنٹ کا حکم مانتی ہے مگر جہاں ان دونوں کے مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے حکمراں پارٹی اڑ جاتی ہے . وہیں سے اسٹیبلشمنٹ ان کے کان ناک اور ہاتھ مروڑنا شروع کردیتی ہے کہ ہماری بلیاں اور ہمیں سے میاؤں میاؤں . اور پھر حکومتی پارٹی کا بین شروع ہوجاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہمیں حکومت نہیں کرنے دے رہی ہے .

یہ سلسلہ ہم 72 سال سے دیکھ رہے ہیں . پہلے بیوروکریسی کے نام کی دہائیاں ہوتی تھیں اور اب فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نام کی ہے . اب تک پاکستان کی بڑی پارٹیاں پیپلز پارٹی , مسلم لیگ ن اور ق , ایم کیو ایم , جمعیت علمائے اسلام کے دونوں دھڑے , جماعت اسلامی اور نیشنل عوامی پارٹی مل جل کر اور علیحدہ علیحدہ متعدد بار قومی اور صوبائی  حکومتیں بناچکیں یا ان میں شامل رہی ہیں مگر ہر بار انتخابات کے کچھ یا زیادہ قریب ان کا ایک ہی رونا رہتا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ یا دوسری برسر اقتدار پارٹی کام کرنے نہیں دے رہی ہے .

72سال ہوچکے یہ سب کچھ سنتے ہوئے اس دوران قائد اعظم , لیاقت علی خان , ذوالفقار علی بھٹو , بےنظیر سمیت بیسیوں چھوٹے بڑے لیڈران قتل بھی کردئیے گئے مگر سیاسی پارٹیوں نے کوئی  سبق نہیں سیکھا . مان لیا اصل قصور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہے . وہی ہماری سیاسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے مگر کیا اتنی پارٹیوں کے قائدین ان کے الیکٹیبل ممبران شعور نہیں رکھتے کہ اپنے سیاسی حقوق کیسے حاصل کریں? کیسے عوام کی خدمت کریں . کیا انھیں اسٹیبلشمنٹ کی شکایتیں کرنے اور رونے دھونے کے سوا کچھ نہیں آتا؟

اسٹیبلشمنٹ ان تجربہ کار سیاسی جماعتوں کو 72 سال سے تگنی کا ناچ نچارہی ہے اور وہ صرف ناچ رہے ہیں انھیں کیوں ایسی سمجھ اور شعور نہیں کہ وہ سب مل کر اس فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہتھکنڈوں کا توڑ نکالیں? انھیں اپنے لئے , اپنے خاندان کیلئے , اپنے رشتے داروں کیلئے قومی دولت اور قومی اثاثے لوٹنے کا وقت تو مل جاتا ہے مگر عوام کے مسائل کے حل کیلئے انھیں اپنی حکومتیں چلانے کے دوران کوئی  وقت نہیں مل پارہا ہے . وہ جب حکومت چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہیں تو مظلوم بن کر دوبارہ سے حکومت کرنے کیلئے عوام سے ووٹ کی بھیک مانگنا اور روایتی مجبوری و اسٹیبلشمنٹ کے ظلم و ستم کا رونا شروع کردیتی ہیں .

کیا وجہ ہے کہ ساری سیاسی جماعتیں ایک ہوکر فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آفرز کا بائیکاٹ نہیں کرتیں . ان کے خلاف متحد ہوکر مہم کیوں نہیں چلاتیں؟
پیپلز پارٹی , نون لیگ , ایم کیو ایم , ق لیگ کیوں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کیلئے اپنی اپنی باریاں لے رہی ہیں ۔ یہی کام اب تحریک انصاف کرنے جارہی ہے .کیوں الیکٹیبل امیدواران ہر نئے انتخابات میں نئی  جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں؟ کیا انھیں کوئی  شرم و حیا ہے؟ کیا تم سب اسی لئے حکومت بناتے ہو کہ عوام کی دولت پر ہاتھ صاف کرو؟ پاکستان کی دولت کو لوٹو؟ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کی دہائیاں دینے سے تمھارے اپنے کرتوت نہیں چھپیں گے . سیاسی پارٹیوں کو مل کر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی نوازشات کا بائیکاٹ کرنا ہوگا . سیاسی پارٹیوں کو مل بیٹھ کر فیصلے کرنے ہونگے . اس کے بغیر تمھارا انتخابات میں حصہ لینا , حکومت بنانا یہ سب تمھارا ذاتی مفاد ہے .

اس فعل نے پاکستان اور یہاں کی عوام کو کچھ نہیں دیا . تحریک انصاف اب نئی  داشتہ ہے . یہ  بھی وہی کھیل کھیلےگی . اس سے بھی کچھ نہیں ہوگا . اس کے ساتھ بھی اب پرانے الیکٹیبل امیدوار ہیں . ان سب کے پیچھے بھی وہی فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے . نواز پر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ چکا . وہ چور بھی محض انا اور اپنے کرپشن کی دولت کو بچانے کیلئے غلط بیانیوں سے کام لےرہا ہے . 35 سال کی حکمرانی کے دوران اس کا شہباز شریف کا , مریم کا , ان کے الیکٹیبل وزراء کا ایمان اور ضمیر کہاں تھا؟

فوجی اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دان دونوں اپنی اپنی طرح کے عیار اور عوام دشمن ہیں . دونوں بےشک غدار نہیں مگر عوام دوست اور وطن دوست بھی نہیں . انھیں صرف دولت کمانے اور اپنے پاور کو برقرار رکھنے کی فکر ہے . عوام کسے ووٹ دے؟ ان کے ووٹ یا خود ان کی توقیر کب اور کہاں ہوئی ہے؟

فوج کا سیاسی کردار اس ملک کی ترقی میں حائل ہے . سیاست دانوں کی لالچ ہوس اور آپس کی دشمنیاں اس ملک کی , اس ملک کی ترقی کی , اس ملک کے جمہوری چہرے کو مسخ کررہی ہیں . صاحب فکر لوگوں کو چاہیئے کہ دونوں فریقین یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور بےکردار سیاست دانوں دونوں کو ان کا جرم اور فرائض یاد دلائیں . عوام پارٹی بدلتے رہنے والے بدکردار نمائندوں کو ووٹ نہ دیں . اس کی بجائے خود اپنے حلقے سے کوئی  امیدوار کھڑا کریں . ان روایتی بدکرداروں نے جب برسوں عوام کو کچھ نہیں دیا تو اب ان سے مزید توقع بیکار ہے .

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *