اقلیتوں کے مذہب سے ڈرتے کیوں ہو؟۔۔ابھے کمار

کانگریس کے سینئر لیڈر اور مشہور مصنف ششی تھرور ایک بار پھر تنازع  میں گِھر گئے ہیں۔ اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ “شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چل رہے احتجاج کے دوران ظاہر ہوئی “اسلامی بنیاد پرستی” ملک کی “تكثریت” اور “تنوع” کے لیے خطرہ ہے۔”ہندوتوا شدت پسندی کے خلاف کا یہ مطلب  ہرگز نہیں کی ہمیں اسلامی شدت پسندی کے تعین  پر نرم  رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ انکلوسیو بھارت کو بچانے کے لیے ہم سب اپنی آوازیں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف  بلند کر رہے ہیں۔ ہم   کبھی اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ تكثریت اور تنوع کی جگہ مذہبی بنیاد پرستی لے لے”۔ ۔

سابق مرکزی وزیر کا یہ متنازع بیان اس وقت آیا ہے جب ہندوتوا طاقتیں دن رات یہ پروپیگنڈہ کر رہی ہیں کہ ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والے مسلم مظاہرین مذہبی اور جنونی نعرے  لگا رہے ہیں۔ کیا ششی تھرور کا یہ بیان آر ایس ایس اور بی جے پی کے فرقہ پرست ڈسکورس کو مضبوط کرتا ہے؟

کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ کے اس بیان کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف لڑ رہے مظاہرین کی توہین سے بھی تصوّر کیا جا رہا ہے۔ ناقدین اُتنا  پریشان اُن کے بیان سے نہیں نظر آتے ،جتنا وہ اُس کی ٹائمنگ سے تکلیف محسوس کررہے ہیں ۔

ایک ایسے وقت میں جب ملک بھر کا مسلمان دیگر مذہبی فرقے کے ساتھ مل کر سیکولر آئین کی حفاظت کے لیے آگے آتا ہے اور اور پولیس کی ہر طرح کی زیادتی بھی جھیل رہا ہوتا ہے، تب یہ کہنا کہ اُن کے احتجاج کے پیچھے الوطنی کا جذبہ نہیں بلکہ بنیاد پرستی کا جنوں کام کر رہا   ہے، اقلیتوں کے دلوں کے سو ٹکڑے کر دیتا ہے۔

سوشل میڈیا پر تھررور کی زبردست تقلید ہو رہی ہے۔ لوگوں نے ان کے سیکولرازم کے تصوّر اور اُن کی سیاسی سمجھ داری پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ لوگ اس طرح کے سوال کر رہے ہیں کہ جو شخص خود ان تحریکوں سے دور اپنے محفوظ محلوں میں چھپا بیٹھا ہے اس کو کیا حق ہے کہ وہ اس کے بارے میں  غیر  سنجیدہ ردِ  عمل ظاہر کرے۔

جس بہادری کے ساتھ مسلم طلبہ، طالبات اور خواتین نے اس کالے قانون کی پُر امن طریقے سے مخالفت کی ہے ،وہ  کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آیا ۔ اگر کہا جائے کہ مسلمانوں کے اندر ظلم سے لڑنے کی چنگاری ایک لمبے وقت کے بعد دکھا ئی دی  ہے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کی سرکار اسے لاٹھی اور گولی سے کچلنا چاہتی ہے اور آر ایس ایس اپنے پروپیگنڈہ سے اُنہیں عوام کی نظر میں بدنام کرنا چاہتی ہے۔ آر ایس ایس کی ترجمان ہفت روزہ کے تازہ شمارے اسی طرح کے پروپیگنڈے سے بھرے ہوئے  ہیں، جن میں یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ مسلم مظاہرین اپنے نعروں میں مذہبی جنوں بھڑکا رہے ہیں۔

آر ایس ایس اور بی جے پی کی بے ایمانی سمجھی جا سکتی ہے کیونکہ اُن کی پوری سیاست مسلم دشمنی پر ٹکی ہوئی ہے وہ مسلمانوں کے کسی بھی مثبت کام  کو خارج کرنے کے لیے اُنہیں اسلامی بنیاد پرستی سے جوڑنے کا موقع ہاتھ سے نہیں گنواتے ہیں۔ مگر تھرور جیسے نام نہاد لبرل جو دن رات ہندو فرقہ پرستی  پر  تنقید کرتے نہیں تھکتے، وہ کیوں اُن ہی کی زبان بول رہے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب لاکھوں مسلمان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے وجود اور ملک کے  سیکولر آئین کے لیے لڑ رہے ہیں؟

یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ اکثریتی طبقے کے نام پر سیاست کرنے والی فرقہ پرست جماعت اور  نا م نہاد لبرل اور سیکولر طبقہ، جو آپس میں ایک دوسرے کا مخالف ہوتا ہے، کئی بار جانے انجانے میں ایک ایک ہی جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔ خاص کر جب بات اقلیتی  طبقے کے مذہب اور ثقافت کی ہو تو دونوں کے دلوں میں ایک عجیب سی بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ دونوں الگ الگ وجہ سے اقلیت مخالف جذبات کا اظہار اپنے اپنے طریقوں سے کرتے ہیں۔ جہاں اکثریتی آبادی کے نام پر سیاست کرنے والے اقلیتی طبقے کے کسی بھی مذہبی سمبل کو اپنی بالادستی کے لیے خطرہ تصوّر کرتے ہیں، وہیں لبرل شخصی آزادی کے نام پر اقلیتی مذہب اور ثقافت کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

جہاں تک بات لبرل طبقے کی ہے تو وہ سیکولرازم کے معنی وہ  بیان کرتے ہیں ، جو در اصل ہوتا  ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر ایک خیالی ماڈل کو  عوام کے اوپر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس ماڈل سے ذرا بھی ہٹ  کر ہونے والے کسی بھی واقعے کو   خطرہ قرار دینے کی نادانی کر بیٹھتے ہیں۔ دو باتیں وہ اکثر فراموش کر جاتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں مذہب اور عقیدے کا بڑا رول ہوتا ہے، جو اُن کے لیے گئے فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور دوسرا کہ لبرل اور قومی کلچر بھی آسمان سے نہیں ٹپکتا بلکہ اس کی جڑیں اکثریتی مذہب اور ثقافت میں ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمیونیٹیرینزم  فلسفہ لبرل ازم  پر  تنقید کرتے ہیں اور کمیونیٹیرینزم (Unitarianism)کے مذہبی اور ثقافتی حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔

تھرور جیسے لبرل لوگ اقلیتی طبقے  کی  مذہبی علامت کو دبانے کے لیے بعض اوقات سیکولرازم کی دہائی دیتے ہیں۔ اُن کی جو سمجھداری ہندوستانی سیکولرازم کی ہے وہ بھی ناقص ہے کیوں کہ وہ بھی تاریخی اور سماجی حقیقت سے آنکھیں موڑ کر ایک خیالی ماڈل دماغ میں بٹھا لیتا ہے۔ مثال کے طور پر پبلک ڈومین میں اگر اقلیتوں کی طرف سے کوئی  مذہبی علامت  نظر آ جاتی ہے تو فوراً اُن کی طرف سے (اور فرقہ پرستوں کی جانب سے بھی)  ہلہ مچانا  شروع ہو جاتا ہے اور سیکولرازم، تکثریت اور تنوع کو خطرے میں دیکھا جانے لگتا ہے۔

ہندوستانی سیکولرازم کبھی بھی مذہب کو منفی طور سے نہیں دیکھتا ہے۔ ہمارے آئین میں کسی بھی مذہب کو دبانے کی بھی بات نہیں ہے۔ سب کو اپنے اپنے مذہب کو ماننے اور اس کی اشاعت کرنے کا بھی بنیادی حق ہے۔ اقلیتوں کو خصوصی حقوق دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے مذہبی ادارے خود سے چلا سکے اور اُن کے  مذہب اور ثقافت کا وجود قائم رہے۔ ریاست کا کوئی اپنا مذہب نہیں ہوگا مگر وہ تمام مذاہب کا  تعین برابری  پر کرے گی اور یکساں طریقے سے پیش آئےگی۔ سرکار جس طرح ہندوؤں کے تہوار اور میلے کی صفائی کے لیے سرکاری پیسے خرچ کرتی ہے، اسی طرح وہ اقلیتوں کے تہوار پر خرچ کر سکتی ہے۔ کہیں سے بھی ریاست مذہب سے عداوت کا جذبہ نہیں رکھتی اور جیسا کہ یورپ کی تاریخ میں دیکھنے کو ملا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کا سیکولرازم “سارے مذہب کے ساتھ یکساں سلوک” کے  اصول  پر مبنی ہے۔

ہندوستان کی جدید تاریخ میں اگر ہم جائیں تو ریاست کے  تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک کی بات تقریباً تمام لیڈران نے کی ہے۔ بات بابائے قوم گاندھی سے ہی شروع کرتے ہیں۔ آزادی کی لڑائی کے دوران گاندھی نے کبھی یہ چھپانے کی کوشش نہیں کہ کہ وہ ایک مذہبی نہیں۔ اُن کی تریریں اور علامت پوری سے ہندو دھرم کے سمبل سے بھرے رہتے تھے۔ گاندھی جانتے تھے کہ عوام کی زندگی اُن کے مذہبی عقائد   کی پیروی کرتی ہے۔ اور اس سے متعلق باتیں کر کے  وہ لوگوں کو تحریک آزادی کی طرف لانا چاہتے تھے۔ مجھے معلوم ہے کہ گاندھی کے “رام راجیہ” کے تصوّر کو اُن کے مخالفین نے خوب استعمال کیا اور بعض اوقات یہ سب اُن کو غیر ہندو کی ایک جماعت میں غیر مقبول بھی بنا گیا مگر اس کے لیے اس وقت کے تیزی سے بگڑتے حالات بھی ذمےدار تھے۔

اپنی سیاسی زندگی  میں نہ تو کسی دوسرے مذہب کے بارے میں تنگ نظری دکھائی اور نہ ہی دوسرے مذہب کو ماننے کے لیے اُنہوں نے کسی کو روکا۔ اُن کے نزدیک دنیا کے تمام مذہب ایشور کی طرف لے جاتے ہیں اور سبھی  کی تعلیم ایک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گاندھی مذہب اور سیاست کو الگ کرنے کے سخت مخالف تھے۔ لہٰذا اُنہوں نے بڑی  صاف گوئی کے ساتھ کہا کہ “میرے نزدیک چھوٹے  سے چھوٹا عمل جس بات سے ہدایت حاصل کرتا ہے وہ میرا مذہب ہی ہے”. مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ریاست اور مذہب کو بھی ملانا نہیں چاہتے تھے اور اُن کو یہ ہرگز پسند نہیں تھا کہ وہ  کسی ایک مذہب کو فروغ دے اور دوسرے کو نہیں۔ اُنہوں نے ریاست کے دائرے کو صرف “دنیاوی” معاملوں تک ہی محدود رکھا جو عوام کے رفاہی کاموں کو انجام دے گی۔

نہرو گاندھی کی طرح مذہبی شخص نہیں تھے اور انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مذہب اُن کو اپنی طرح   اپیل  نہیں کرتا کیوں کہ زندگی کو دیکھنے کا طریقہ سائنس پر مبنی نہیں ہے۔ سیاست کے شروعاتی دور میں نہرو ایک خاص قسم کے اشتراکی نظریے سے متاثر تھے یہی وجہ ہے کہ وہ مذہب کو ترقی کے رشتے میں ایک رکاوٹ تصوّر کرتے تھے۔ اُن کو ایسا لگتا تھا کہ معاشی پہلو زیادہ اہم ہے اور اُن کی یہ سمجھ تھی کہ طبقاتی جدوجہد آزاد بھارت میں دیکھنے کو مل سکتی ہے  ، مگر مذہبی لڑائی کے لیے جگہ نہیں ہوگی۔ مگر اپنی وفات سے کچھ ہی سال قبل اُنہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ “ہم سب بھارت میں سیکولر ریاست کی بات کرتے ہیں۔ ہندی میں سیکولر لفظ کا صحیح متبادل جاننا  ایک مشکل کام ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سیکولر کا مطلب مذہب کی مخالفت کرنا ہے، مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ سیکولر کا مطلب یہ ہے کہ ساری  ریاست  تمام  مذاہب کا یکساں احترام کرتی ہے اور سب کو برابر  مواقع فراہم کرتی ہے”۔

مسلم لیگ کے قائد اعظم کو بھلے ہی مذہب پر مبنی ایک “اسلامی” ریاست کا بانی کہا جاتا ہے، مگر وہ بھی چاہتے تھے کہ پاکستانی ریاست اپنے شہریوں کو برابر کا حق دے اور اس کی اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ کسی  کا مذہب یا عقیدہ کیا ہے۔ اپنی وفات سے کچھ ہی وقت پہلے جب 11 اگست 1947 کو پاکستان قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستانی شہریوں سے کہا کہ “آپ آزاد ہیں۔ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، یا پھر آپ پاکستان کے کسی بھی مذہبی مقامات پر جانے کے لیے آزاد ہیں۔ ریاست کو اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہیں کہ آپ کس مذہب یا ذات یا عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں”۔یہ دوسری بات ہے کہ قائد اعظم کے نہ رہنے پر پاکستان اس راہ پر چل پڑا جس کا تصور شاید جناح نے کبھی نہیں کیا ہوگا۔

علماء دیوبند نے بھی سارے مذہب کے درمیاں یکساں سلوک کی بات کہی تھی۔ تقسیم ہند کے وقت جب علماء نے کانگریس کا ساتھ دیا اور لیگ کی مخالفت کی، تب معاہدہ ہوا کہ مسلمان کانگریس کی قیادت والی اکثریت پر مبنی حکومت کا ساتھ دیں گے اور دنیاوی معاملوں میں برادران وطن کے ساتھ مل کے ملک کی ترقی میں کام کریں گے، مگر ریاست کو اس بات کی ضمانت دینی ہوگی کہ وہ اقلیتوں کے مذہب اور ثقافت کے حلقے میں مداخلت نہیں کرے گی اور مسلمان یہاں خود مختار ہوں گے۔ افسوس کہ بات کے  اس عہد کو نہ تو کانگریس اپنے 40 سال کے دور حکومت میں پوری ایمانداری سے نبھا پائی، جبکہ بی جی پی کے نزدیک اس کی ذرّہ برابر بھی اہمیت نہیں ہے۔ اگر ہوتی تو کیا تین طلاق سے متعلق بل لاتے  وقت وہ سچے ملی اور مذہبی قائد سے رائے نہ طلب کرتی؟

ایک بات اور واضح کر دینا ضروری ہے کہ جس طرح ہمارا دستور مذہب کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کی بات کرتا ہے اور اقلیتوں کو اپنے مذہب اور کلچر کو ماننے اور اشاعت کرنے کی آزادی دیتا ہے، اسی طرح جو مذہب کی نہیں مانتے اور خود کو ملحد کہتے  ہیں اُن کو بھی برابر کے حقوق دیے گئے ہیں۔ برابر کے حقوق اُن کو بھی دیے گئے ہیں، جو عیسائی، اسلام اور ہندو مت جیسے بڑے مذہب کو نہیں مانتے اور خود کو قدرت پرست (پراکرتی پوجک) کہتے ہیں۔ ایسے لوگ ملک کی آدی وسی آبادی میں پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جھارکھنڈ کے سرنا آدی واسی خود کو ہندو   کہلانا پسند نہیں  کرتے اور اپنے دھرم کو “سرنا” دھرم بتلاتے ہیں۔ وہ شجر کی پوجا کرتے ہیں اور اپنے اسلاف سے ہی دعا مانگتے ہیں۔ ہندوستان کی آئین بھی ایسے  آدی واسیوں کو بھی اپنی کمیونٹی کے مطابق جینے کا حق دیتی ہے۔

سیکولرازم سے متعلق بحث میں ایک نیا موڈ ٹی این مدن اور آسیش بندی جیسے ممتاز دانشوروں نے دیا  ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ششی تھرور کو ان کی کتابوں کو غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر مدن اور بندی نے بہت اہم بات کہی ہے کہ سیکولرازم کا وہ ماڈل جس میں ایک طاقتور ریاست سب پر غالب ہو جاتی ہے اور مذہب اور کمیونٹی کے دائرے کو بھی ہڑپ لیتی ہے، ایسا ماڈل بھارت میں بھی تھوپنے کی کوشش   کی جا رہی ہے، جس کی کوئی تاریخ اور مثال بھارت میں نہیں ملتی ۔ یہ خیال رکھنے کی بات ہے کہ جب سیکولرازم  پر  تنقید کی جاتی ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ فرقہ پرستی یا مذہب پر مبنی ریاست کی  تائید کی جا رہی ہے۔ اس سب سے دور سیکولر ازم کی تنقید کا مقصد ایک خاص قسم کے سیکولر ماڈل  پر  تنقید ہوتی ہے، جہاں ایک  جنات جیسی طاقتور ریاست  پر تنقید ہوتی ہے اور مذہب اور ثقافت کو کچلنے کے خلاف احتجاج درج کیا جاتا ہے۔ تھرور جیسے لبرل شخص کو قومی ریاست میں اقتدار سے محروم کر دیے گئے اقلیت طبقے کے مذہب اور ثقافت کی علامت کو دیکھ کر ڈر تو لگتا ہے، مگر اُن کا  قلم کبھی اس بات پر نہیں اٹھتا ہے کہ آخر کیوں ریاست باقی سارے حلقے میں دراندازی کر رہی  ہے یا پھر لبرل اکثریت مذہب اور ثقافت جب پبلک لائف میں لایا جاتا ہے تو کیوں ان کو قومی اور طرز زندگی کا حصہ کہہ کر واجب قرار دے دیتے ہیں؟

یہی وجہ ہے کہ آج ششی تھرور  اور بھگوا شدت پسند ایک دوجے  کی  طرح کے سوال اُٹھا رہے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات اور دلّی کے شاہین باغ کی خواتین کی لڑائی نہ تو بھگوا طاقتوں کو  نظر آرہی ہے اور نہ ہی تھرور کو ہی نظر آ رہی ہے۔ ان احتجاجوں میں ہر طرف لہراتے قومی پرچم اور مظاہرین کی زبانوں پر قومی ترانے دونوں نظر انداز کر رہے ہیں۔ احتجاج کے دوران گاندھی، امبیڈکر اور بھگت سنگھ کے پوسٹر بھی نہیں  نظر آ رہے  ۔ اُن کو جو دکھائی دے رہا ہے اور جو سنائی دے رہا ہے وہ ہیں اسلامی نعرے ! کیا ان کو یہ بات نہیں معلوم کہ کسی بھی احتجاج میں ایک طرح کے لوگ نہیں آتے ہیں اور اُن کے سلوگن کبھی بھی ایک طرح کے نہیں ہو سکتے ہیں۔ جو بات سب سے زیادہ غور کرنے کی ہوتی ہے وہ یہ کہ ان احتجاجوں کے کیا مطالبات ہیں اور جو واجب ہوں اُسے پورا کیا جانا چاہیے۔ نہ تو بھگوا طاقتیں اُن پر گفتگو کرنے میں سنجیدہ  نظر آرہی ہیں اور نہ  ہی ششی تھرور ہی سنجیدہ نظر آ رہے ہیں۔ اگر وہ ان باتوں کو وسیع سیاق  و سباق میں لیتے تو اقلیتوں کے مذہب اور ثقافت سے اُن کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

(مضمون نگار جے این یو میں ریسرچ اسکالر ہیں۔)

(Abhay Kumar has recently submitted his PhD at Centre of Historical Studies, Jawaharlal Nehru University, Delhi. A regular contributor to newspapers and web portals, Kumar has been working on the broad theme of the Indian Muslims and Social Justice. His other writings are available at abhaykumar.org. You may write to him at debatingissues@gmail.com)

Avatar
ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *