سوشل میڈیا اور تعمیری سوچ

کافی دنوں سے فیس بک اکھاڑے دیکھ کر جی اکتا گیا ہے، فیس بک کیوں بنا گئی، اس کے مقاصد کیا تھے، ہم اسے کیسے استعمال کر رہے ہیں، ہم اس سے کتنے فوائد اور کتنے نقصانات کا شکار ہو رہے ہیں؟یہ چند ایسے سنجیدہ سوالات ہیں جن پر یکسوئی اور صبر وتحمل سے سوچنا پڑے گا ،لیکن ہم بھیڑ چال کا شکار ہیں ، دوسروں کی دیکھا دیکھی وہی کر رہے ہوتے ہیں جو دوسرے لوگ کر رہے ہیں، کبھی بھی خود سے نہیں سوچا کہ اس کا رد عمل کیا ہوگا ـ آئے دن نت نئے مسائل پر ایسے دانشوری جھاڑ رہے ہوتے ہیں کہ الحفیظ الامان۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے نظریاتی اختلاف کرتے ہوئے اخلاقیات کے سارے درس بھول جاتے ہیں، ہم یہ نہیں دیکھتے کہ جس سے بدتمیزی اور غیر اخلاقی گفتگو کی جا رہی ہے ،اس کی بھی کوئی عزت نفس ہے، وہ بھی لائق احترام ہے ـ دوسری بات فضول اور غیر اخلاقی اسٹیٹس ہیں ،جہاں ساتھی اپنا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں، وہاں ایک دوسرے سے لڑ جھگڑ کر اپنی رائے دوسروں کے سر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں، یعنی جو میں نے کہا وہ پتھر پر لکیر ہے، اس کا حرف حرف سچا ہے، ایسی حالت میں اس شخص کے نزدیک دوسروں کی سوچ اورنظریات اپنی حیثیت کھو بیٹھتے ہیں۔
تیسری بات وقت جیسی قیمتی چیز ہم فیس بک ضائع کردیتے ہیں، فیس بک اور سوشل میڈیا کیسے استعمال کیا جائے اس کی الف،ب سے بھی ہم واقفیت نہیں رکھتے ، ہماری شیئرنگ، پوسٹ، کمنٹس سے کیا نفسیات مسائل پیدا ہو رہے ہیں، اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں ـچوتھی بات جس پر عمل کرتے ہوئے ہمیں فیس بک استعمال کرنی چاہیے وہ ہے تعمیری سوچ اور برداشت، سب سے پہلے ہم اپنا حدف متعین کریں کہ ہم فیس بک کیوں استعمال کرتے ہیں، ہمارے مقاصد کیا ہیں، ہم اس سے معاشرے اور سماج کو کچھ دے سکتے ہیں، کیا ہمیں انفرادی طور پر کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے؟ اگر آپ ان تمام باتوں کا خیال رکھتے ہیں تو آپ فیس بک کا درست استعمال کر رہے ہیں ،لیکن اگر یہ چیزیں نہیں ہیں تو آپ بے مقصد علت کا شکار ہیں ،جس کے نتائج آپ کے اور معاشرے دونو ں کے حق میں برے ہیں ـسوشل میڈیا اور فیس بک کو سنجیدگی سے لیں، تعمیری سوچ کے مالک بنیے اور معاشرے میں تعمیری سوچ پیدا کرنے کی کوشش کیجئے ۔

Avatar
نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *