نفسیاتی طاقت۔۔۔ مبشر علی زیدی

سونے سے مجھے بہت محبت ہے۔ یعنی نیند سے۔ پیلی دھات سے نہیں، جس کی زنجیریں بناکر مرد خواتین کو قابو کرلیتے ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ زیور پہنا ہے۔ ہمارے ایک بہت سینئر اور محترم ساتھی ذاکر نسیم کہتے تھے کہ تاریخ لکھے جانے سے قبل کسی دور میں عورت ذات حاکم اور مرد غلام ہوتے ہوں گے۔ مردوں نے اپنی زنجیریں توڑ کر انتقاماَ جب عورتوں کو زنجیریں پہنائی ہوں گی تو ان کی نزاکت پر ترس آگیا ہوگا۔ چنانچہ لوہے کے بجائے سونے کی زنجیریں بنوائی گئی ہوں گی۔ دیکھ لیں، دلہن کو نتھ ویسے ہی ڈالی جاتی ہے جیسے جانور کو قابو کرنے کے لیے ناک میں رسی ڈالی جاتی ہے۔
میں نے ذاکر صاحب مرحوم سے اس دن بھی اختلاف کیا تھا اور آج بھی متذبذب ہوں لیکن بہرحال وہ اساطیر کے عالم تھے۔ وہ اردو یونیورسٹی کے استاد اور روزنامہ امن کے سابق نیوز ایڈیٹر تھے۔ مجھے ایکسپریس میں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ افسوس کہ وہ اساطیر پر پی ایچ ڈی مکمل کیے بغیر انتقال کرگئے۔
بات پتا نہیں کہاں سے کہاں نکل گئی۔ بتا یہ رہا تھا کہ مجھے سونے سے بہت محبت ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جاگا بہت ہوں۔ جمال احسانی نے اپنے مجموعہ کلام کا عنوان ’’رات کے جاگے ہوئے‘‘ شاید مجھ جیسوں کے لیے رکھا تھا۔ لوگ پوچھتے ہیں بھری جوانی میں بال کیسے سفید ہوگئے؟ خاندانی بیماری ہے؟ نزلہ رہتا ہے؟ یا انزال؟ دھوپ میں بال سفید کیے ہیں؟ میں کہتا ہوں، یہ بال کالی راتوں کو جاگ جاگ کر سفید کیے ہیں۔
آج کل بابا بہت یاد آرہے ہیں۔ ان کی باتیں، ان کی نصیحتیں، جن پر ان کی زندگی میں کبھی دھیان نہیں دیا۔ وہ کہتے تھے، بیٹے نیند سے بڑی کوئی دولت نہیں۔ میں نے نیند بیچ کر بہت کتابیں کمائی ہیں، بہت پیسے کمائے ہیں، بہت نام کمایا ہے، لیکن کچھ بھی نیند جیسی قدر نہیں رکھتا۔ بابا سچ کہتے تھے۔
مجھے صبح سات بجے دفتر پہنچنا پڑتا ہے۔ اس سے پہلے پون گھنٹے کا سفر ہے۔ چنانچہ پانچ بجے سے پہلے اٹھ جاتا ہوں۔ خود پر جبر کرکے نیند سے دامن چھڑاتا ہوں۔ سر چکراتا ہے۔ آنکھیں دکھتی ہیں۔ ٹانگیں درد کرتی ہیں۔ میں آئینے میں ایک بیزار صورت دیکھتا ہوں۔ عمر کا حساب کتاب کرتا ہوں۔
بابا کہتے تھے، بیٹے پھل کھایا کرو۔ پھلوں سے طاقت ملتی ہے۔ تازہ خون بنتا ہے۔ ایک عمر آئے گی کہ تازہ خون بننا بند ہوجائے گا۔ تب بچپن اور جوانی کی لاپرواہی یاد آئے گی۔
میں سردیوں میں سویئٹر نہیں پہنتا تھا۔ تایا بابا کہتے تھے، بیٹے سوئیٹر پہنا کرو۔ آج خون گرم ہے، سردی محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن وہ جسم پر اپنا اثر چھوڑ جاتی ہے۔ ایک عمر آئے گی کہ بدن کمزور ہوجائے گا۔ یہ سردی تب تنگ کرے گی۔ تب بچپن اور جوانی کی لاپرواہی یاد آئے گی۔
میں کبھی ناشتہ نہیں کرتا تھا۔ چھوٹے ماموں کہتے تھے، بیٹے ناشتہ کیا کرو۔ آج ہاتھوں پیروں میں زور ہے، جسم میں جان ہے۔ اپنی مرضی سے بھوکے رہ سکتے ہو لیکن جسم معاف نہیں کرے گا۔ ناشتہ کرو گے تو بڑی عمر میں کام آئے گا۔ ورنہ بچپن اور جوانی کی لاپرواہی یاد آئے گی۔
قسم خدا کی بڑے سچ کہتے تھے۔ سو فیصد سچ کہتے تھے۔
اگرچہ مجھے جلدی ہوش آگیا تھا اور میں نے ان ہدایات پر عمل شروع کردیا تھا لیکن چالیسویں سالگرہ سے پہلے سمجھ نہیں آئی تھی۔ اب کسی دن ناشتے میں دیر ہوجائے تو ماموں یاد آتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ نانی یاد آجاتی ہے۔ کراچی میں سردی نہیں پڑتی لیکن واشنگٹن کی ٹھنڈ نے ہوش ٹھکانے لگادیے۔ پھل کھانے کا بھی کوئی موقع نہیں چھوڑتا۔
اتنی لمبی بات ہوگئی۔ بتانا صرف یہ چاہتا تھا کہ آج ٹانگوں میں درد ہوا تو سوچا کہ کوئی پھل کھانا چاہیے۔ دفتر کے راستے میں ایک دکان پڑتی ہے جس میں کیک پیسٹریاں ملتی ہیں اور رنگ برنگی بوتلوں میں پتا نہیں کیا کیا بھرا ہوا ہوتا ہے۔ صبح میں وہاں رکا۔
ایک جاپانی یا شاید چینی یا شاید کورین لڑکی سیلزپرسن ہے۔ بہت خوش اخلاقی سے سلام دعا کرتی ہے۔ کہنے لگی، کیا پیجیے گا۔ میں نے کہا، لاحول ولا قوة، رمضان کریم آنے والے ہیں۔ ویسے بھی یہ پینے کا کون سا وقت ہے؟ کوئی پھل ہے تو دو دانہ چاہیے۔ اس نے کہا، ہاں ایک پھل ہے تو سہی۔ آپ کس ملک سے آئے ہیں؟ پتا نہیں آپ کے ملک میں ہوتا ہے یا نہیں۔ اسے یہاں بنانا کہتے ہیں۔
میں نے کہا، اے بونسائی بیگم! اور اگر منگولین ہو تو چنگیز خانم! اور اگر چینی ہو تو سی پیک جانم! اور اگر کورین ہو تو ایٹمی میڈم! آپ جانتی نہیں کہ ہم تو آئے ہی بنانا ری پبلک سے ہیں۔
ان صاحبہ نے دو ڈالر میں دو کیلے دیے۔ دفتر دو فرلانگ دور تھا۔ راستے میں ابن انشا کی طرح حساب کتاب کیا۔ وہ ایک بار جاپان گئے تھے جہاں ابوالخیر کشفی صاحب ان کے میزبان تھے۔ وہ دال اور بھنڈیاں پکاکر انھیں کھلاتے رہے۔ ابن انشا نے کہا کہ اگر زیادہ دن گوشت نہ کھائیں تو جذبہ ایمانی کمزور پڑنے لگتا ہے۔ کتابوں میں نہیں لکھا لیکن اسلام کا چھٹا رکن گوشت خوری ہے۔ اس پر کشفی صاحب نے بتایا کہ سبزی یہاں گوشت سے زیادہ مہنگی ہے۔ ایک روپے کی ایک بھنڈی سمجھیے۔ ابن انشا کہتے ہیں کہ انھوں نے قیمت سن کر بھنڈی کو گوشت سمجھ کر کھانا شروع کیا تو اسلام کا تھوڑا سا نور ان میں واپس آیا۔
میں نے بھی حساب لگایا کہ ایک ڈالر کا ایک کیلا پڑا۔ یعنی مبلغ ایک سو اٹھارہ روپے سکہ رائج الوقت میں یہ تھوڑا سا گودا۔ میں نے دفتر میں یہ ذکر کیا تو ایک صاحب نے بتایا کہ امریکا کیلے کھانے والے دنیا کے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ اس کی بتیس کروڑ آبادی ہر سال ساڑھے تیرہ ارب عدد کیلے کھاجاتی ہے۔ یعنی فی کس بیالیس کیلے سالانہ۔
جناب عالی! میں نے بیالیس ڈالر اے ٹی ایم سے نکال کر بٹوے میں رکھ لیے ہیں۔ کوئی پھل کھانے اور جوس پینے سے اتنی توانائی نہیں آسکتی جتنی بیالیس ڈالر کو جیب میں رکھنے سے محسوس کررہا ہوں۔

مبشر علی زیدی
سنجیدہ چہرے اور شرارتی آنکھوں والے مبشر زیدی سو لفظوں میں کتاب کا علم سمو دینے کا ہنر جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *