انجمن موچیان سے چند چبھتے سوالات۔۔معاذ بن محمود

کچھ دیر پہلے چڑھتے سورج کے ایک پجاری کی جانب سے کتاب“ کرکرے کو کس نے قتل کیا” کا ذکر نظر سے گزرا۔

یہ کتاب ہندوستان کی ریاست مہاراشٹرا کے آئی جی پولیس ایس ایم سید کی تصنیف کردہ ہے جس میں انہوں نے بھارتی اینٹی ٹیررزم سکواڈ کے سربراہ کے قتل سے متعلق سازش پہ روشنی ڈالی ہے۔

چونکہ یہ کتاب بھارتی حکومت کے کردار پہ منفی روشنی ڈالتی ہے لہذا اپنے پاکستان میں حب الوطنی کے کم سے کم پیمانے کے تحت بھی ہمیں اس پہ ایمان لانا پڑے گا۔ اسی واسطے ہمارے آبپاروی دانشور جو عموماً ہمیں سازشی نظریات کے جملہ نقصانات پر آئے دن درس دیا کرتے ہیں، اس وقت اسے حدیث کی ساتویں صحیح کتاب کا درجہ دینے کے نزدیک دکھائی دیتے ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے، نظریاتی ریاست کی منافقانہ لامتناہی حدود کا تعین بھی ناممکن ہے لہذا دشمن ریاستوں کو مزید دشمن ثابت کرنے والی ہر سازشی تھیوری پہ محب وطن الباکستانی لبیک کہتے ہیں۔

ویسے تو چمڑا پرست آبپاروی دانشوران کے نشیب و فراز پہ جوں نہیں رینگتی، تاہم انہیں کوشش پہ اکسانے کی کوشش کے تحت بس اتنا سا سوال ہے کہ کیا مملکت النظریاتی الباکستانی میں جرنیلوں کے سوا کوئی ریٹائرڈ سرکاری ملازم یا کوئی اور سویلین ریاست کے اندر ریاست بنانے والے (ڈولے) شاہوں پہ اس قسم کی کتاب لکھنے کی جرات کر سکتا ہے؟ حمود الرحمن کمیشن کے نام سے تو آپ واقف ہی ہوں گے؟ کیا کوئی موچی اس سوال کا جواب دے سکتا ہے کہ کس مقدس ادارے کی عصمت حمود الرحمن کمیشن کے جزدان سے باہر آتے ہی تار تار ہونے کا خدشہ ہے کہ اسے سرکاری طور پر عوام کے سامنے لانے پہ پابندی ہے؟ ایس ایم سید کی کتاب کا حوالہ دینے والے ذہن پہ زور ڈال کر بتا سکتے ہیں کہ سلیم شہزاد کون تھا اور اسے کس نے قتل کیا؟

نواز شریف نے آج غیر ریاستی عناصر کے پاکستانی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ حب الوطنی سے سرشار پاکستانی آج تین بار وزیراعظم بننے والے شخص پر غداری کا مقدمہ چلانے کو ہیں۔ کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ قومی سلامتی کے اداروں کے ہاتھ تین بار ان کی حکومت کے دوران کہاں دبے ہوئے تھے؟ کیا یہ جوتا پرست بے نظیر کو سکیورٹی رسک کے الزامات کا جواب دینے کی غیرت رکھتے ہیں؟ بےنظیر جس کے بارے میں بریگیڈئیر حامد سعید ببانگ دہل کہہ چکے ہیں کہ ہم خود انہیں حکومت میں لائے اور ہم ہی نے انہیں سکیورٹی رسک قرار دے کر حکومت سے ہٹایا، اور جسے کمانڈو بہادر پھر سے این آر او کے تحت واپس لائے، کیا پالشی دانشور جرنیلوں کے اس دورخی کردار پہ سوال اٹھا سکتے ہیں؟ کیا جنرل حمید گل سے کے کر جنرل درانی تک غیر ریاستی عناصر کو اپنا دوست اپنا اثاثہ نہیں مانتے رہے؟ اگر مانتے رہے ہیں تو یہ دوستی ساتھ بیٹھ کر لڈو کھیلنے کے لیے تھی یا ڈبو کھیلنے کے لیے؟

یہ تمام سوال وقت کے موچیوں سے ہیں۔ تحریک انصاف اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے ہمدرد خود کو مخاطب سمجھیں تو بات الگ ہے۔ بقول میرے بڑے بھائی بھٹی صاحب کے، میاں صاحب کے سیاسی مخالفین کا کردار آج وہی ہے جو بڑے لڑکوں کے ساتھ اکیلے مخالف کو ایک جانب کھڑے ہلکے ہلکے “وٹے” مارنے والے چھوٹے بچے کا ہوتا ہے۔ آج آپ بڑے لڑکوں کے ساتھ ہیں، کل آپ یہیں تنہا مخالف بنے کھڑے ہوں گے۔ تب آپ بڑے لڑکوں کی غنڈہ گردی کی مخالفت کریں گے مگر کوئی نیا چھوٹا بچہ ایک جانب کھڑا آپ پہ ہلکی ہلکی سنگ باری کر رہا ہوگا۔ مکافات عمل ایک حقیقت ہے دوستوں۔ اللہ خان صاحب کو لمبی زندگی دے، جس دن ان کے ساتھ ایسا ہوا ہم اسی طرز کی گستاخانہ سطور ان کے حق میں للھیں گے بشرطیکہ دنیا میں رہے۔

معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”انجمن موچیان سے چند چبھتے سوالات۔۔معاذ بن محمود

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *