اے ایم یو ،جناح اور آر ایس ایس۔۔۔ابنِ ظفر

یہ اندر کی بات ہے،
پولیس ہمارے ساتھ ہے
یہ منظر ہے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے باب ِسر سیّد کا
نعرہ لگانے والے ہیں ہندو یوا واہنی کے ممبر
دراصل یہ ایک نعرہ نہیں انکی خود اعتمادی بول رہی ہے
یہ نعرہ لگانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے اس سے پہلے نعرہ دیا تھا کہ
یوپی میں اگر رہنا ہوگا
یوگی یوگی کہنا ہوگا
یہ انکی خود اعتمادی ہے کہ پولیس ہماری ہے اور حکومت ہماری ہے ان کے بل بوتے پر ہم جو چاہے وہ کریں
کیا جناح کی تصویر کا ہی مسئلہ ہے؟
تاریخ گواہ ہے کہ اس سے پہلے بھی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو الگ الگ بہانے سے بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔جیسے کبھی نام میں سے مسلم لفظ نکالنے کا مسئلہ
کبھی اقلیتی درجہ کا مسئلہ اور آخر میں آر ایس ایس کی شاکھا کھولنے کا مسئلہ۔

اے ایم یو صرف ایک یونیورسٹی کا نام نہیں۔اے ایم یو ایک تہذیب کا نام ہے۔اے ایم یو ایک شناخت کا نام ہے۔اور بہت فرق ہے آر ایس ایس اور اے ایم یو کی تہذیب میں۔ہم بھگت سنگھ کا مقدمہ لڑنے والے بیرسٹر آصف علی کی اولادوں میں سے ہیں۔اور آر ایس ایس حکومت کی لالچ میں بھگت سنگھ کے خلاف گواہی دینے والے شادی لال اور شوبھا سنگھ کی اولادوں  میں سے  ہیں

کچھ بات ہے ہستی مٹتی نہیں جہاں میں
صدیوں رہا ہے دشمن دور جہاں ہمارا

اور جناح کی قبر پر گل پوشی کرنے کوئی  اور  نہیں گیا تھا
آر ایس ایس ہی کے  قابل عزت (اور اب قابل رحم)
اڈوانی جی ہی گئے تھے
اور نواز شریف کی ماں کے پیر چھونے کوئی  حامد انصاری نہیں گئے تھا بلکہ آپ ہی کے نریندر بھائی مودی گئے تھے
جناح پاکستان کے بانی بعد میں آزادی کے سپاہی پہلے ہیں
متحدہ ہندوستان میں بال گنگا تلک کا مقدمہ لڑنے والے جناح ہی تھے اور ہمارے لیے جناح کی تصویر صرف ایک تصویر ہے۔یہ کوئی عقیدت کا معاملہ نہیں۔
ہمارے لئے تو   ملک کے غداروں سے عقیدت قابل جرم ہے لیکن کیا آر ایس ایس کے لیے بھی؟

Avatar
ابنِ ظفر
تعارف کا محتاج

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *